بول کے لب آزاد ہیں تیرے 

بول کے لب آزاد ہیں تیرے 

73 views

یہ حقیقت ہے کہ تشدد کا رویہ اور رجحان اتنا ہی پرانا ہے جتنی کرہ ارض پر انسانی تاریخ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ جہان انسان نے علم و عقل کے لامتناہی سمندر عبور کیے، نت نئی ایجادات اور سہولیات کو فروغ دیا وہاں انسان تشدد، نفرت اور امتیاز جیسے منفی رویوں پر آج تک قابو نہیں پا سکا۔

صبحین عماد

ملک بھر میں گھریلو تشدد، جنسی زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے المیہ یہ ہے کہ یہ صرف خواتین تک محدود نہیں جنسی زیادتی،تشدد

کے واقعات میں کمسن بچیاں بچے اور خواتین شامل ہیں کہنے کو ہم ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں لیکن ہر دوسرے دن ایسے واقعات سننے کے بعد کیا

ہم خود کو ایک آزاد ملک کا باشندہ کہنے کے قابل ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اس پر کام نا ہوسکا کیوں اس کی روک تھام کے لیے اب تک کوئی اقدام نہیں اٹھائے گئے کب تک ہم صرف ایسے واقعات پر

نظریں چراتے رہنگے اور درندوں کو کھلے عام کسی اور معصوم کلی یا کسی گھر کی عزت کو پامال کرنے کے لیے چھوڑ دینگے۔

ایسے اور بہت سے کئی سوالات کی ایک طویل جنگ ہے جو پاکستان کے ہر شخص کے دماغ میں چل رہی ہے لیکن اس جنگ کا اختتام صرف اس وقت ہوسکتا

ہے جب ایسے حیوانون کو سزا نہیں مل جاتی یا اس کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا جاتا ۔۔

پاکستان بھر میں معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں جبکہ گھریلو تشدد کے لاتعداد کیسز تو میڈیا یا پولیس تک

پہنچتے بھی نہیں ہیں،لوگ بدنامی کے خوف سے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں جس سے جنسی جرائم کے عادی مجرمان کے حوصلے بلند ہوجاتے ہیں ۔

تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ آئے روز ہمارے علم میں ایسے تشدد کے واقعات بھی آتے ہیں جن میں عمر اور جنس کے فرق سے بالاتر معصوم بچے بچیوں کو

پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں وحشانہ طریقے سے قتل کر کے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم تشدد کرنے

والے کا ہاتھ شروع سے مضبوط کرتے آئے ہیں۔

جنسی زیادتی

قصور کی زینب سے زیادتی اورقتل کے بعد یہ امید ہوچلی تھی کہ پاکستان میں بچوں اور خواتین سے جنسی زیادتی کے واقعات میں شائد کمی آئیگی تاہم ملک

میں جنسی زیادتی کا سلسلہ کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہا، پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ گھریلو تشدد بھی ایک المیہ ہے۔

ایسی ہزاروں خواتین ہیں جو ہر روز جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں لیکین کبھی گھر کی عزت تو کبھی بچوں کی خاطر خومش رہتی ہیں اور ایسا کرنے والوں

کے حوصلے مزید بلند ہوجاتے ہیں ،ہمارے معاشرے میں مرد کو محاقظ سمجھا جاتا ہے لیکین اکثر لوگ عورت کو غلام اور خود کو حاکم سمجھ لیتے ہیں اور

صرف اپنی طاقت دکھانے کے لیے جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

واقعات میں اضافے کی وجاہات

پاکستان میں جنسی زیادتی کا مسئلہ غور طلب ہی نہیں بلکہ حل طلب بھی ہے، جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزاء نہ ملنے کی وجہ سے مسائل میں روز بروز

اضافہ ہورہا ہے، اکثر کیسز میں ملزمان قانونی سقم کا فائدہ اٹھاکر گرفت سے نکل جاتے ہیں اور مزید عورتوں کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں خونی رشتوں میں بھی جنسی استحصال کے واقعات تواتر کیساتھ دیکھنے میں آرہے ہیں لیکن قانونی کمزوری کے سبب اس مسئلے کا حل دکھائی

نہیں دیتا۔

پاکستان میں پہ در پہ رونما ہونیوالے واقعات معاشرے میں بے چینی پیدا کررہے ہیں خواتین کسی شعبے،گلی سڑک یہان تک کے اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں

ایسا کیوں ہے کہ مرد کا اانکار انکار ہے جبکہ عورت کا انکار مرد کی انا بن جاتا ہے اور اس کا بدلہ لینا فرض ہوجاتا ہے کسی عورت نے اگر کسی کام یا کسی

ایسے عمل کے لیے منع کردیا جو اسے قابل قبول نہیں تو کیوں ایک مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ جب چاہے اسے قتل کردے،اہنی حوس کا نشانہ بنا لے یا اس

پر تیزاب پھینک کر اپنی مردانگی اپنی انا کو تسکین پہنچا لے، اگر ہم ایک آزاد ملک میں رہ رہےہیں تو عورتوں کو اظہار راءے کا حق ابتک کیون نہ مل سکا

ایسا ہی رہا تو کیا عورتیں اسی طرح تشدد کا نشانہ بنتی رہنگی اور ہم صرف اس پر کچھ دن چرچہ کرینگے اور بھول جاینگے جنسی زیادتی کے واقعات نے

معاشرے میں ایک گھٹن پیداکردی ہے جس کی وجہ تعلیم اور تربیت کی کمی ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *