ضمیر نہیں کانپتے یہاں ،زمین کانپ جاتی ہے

ضمیر نہیں کانپتے یہاں ،زمین کانپ جاتی ہے

121 views

اندھیری رات میں نکلی تھی جبھی تو نوچہ تھا درندوں نے، یہ گھٹنا دوپہر کی ہے اب بتاو کیا کریں، باپ نے پھانسی لگی وکیل کا بیان سن کر، تمھاری بیٹی نے پہل کی ہوگی ان بتاہ کیا کریں۔

صبحین عماد

ایکی المیہ، ایک سوچ ، ایک امید ،ایک آس اور ایک آواز اور اس پر سوال ایک ہزار ظلم آخر کب تک؟عورت بےبس اخر کب تک ؟آزاد ملک میں عورت اسقدر

غیر محفوط اخر کب تک ؟یہ اور اس جیسے کئی اور سوالات ہیں جن کا جواب کچھ نہیں ،تاریخ کے اوائل سے لے کر آج قوموں کے عروج تک اگر کوئی

مخلوق زمین پر ہرحوالے سے ظلم و تعدی کا شکار ہے تو یہ بیچاری عورت ہی ہے،معاشرہ چاہیے ترقی پذیر ہو یا ترقی یافتہ، عورت کے لیے غیر محفوظ ہی

ہے۔

کہنے کو ہم ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ معاشرہ بدقسمتی سے صرف مردوں کا معاشرہ رہ گیا ہے اور عورت

صرف ہوس،تشدد،گھریلو کام کاج یا بچے پیدا کرنے تک محدود ہے ،آخر کیوں ایک مرد کو عورت کا نہ کہنا سنائی نہیں دیتا آخر کیوں عورت کو اپنی مرضی

کرنے پرہمیشہ بھیانک سزا ہی بھگتنا پڑتی ہے ، آخر کیوں عورت کی مرضی سے شادی کرنے پر،کسی کو پسند کرنے پر مردوں کی غیرت جاگ جاتی ہے

،آخر کیوں ہر بار عورت ہی غریت کے نام پر قتل کی جاتی ہے ،کیوں عورت ہی کو پردے کا، نظروں کو جھکا کر چلنے کو کہا جاتا ہے مرد کی نظر اس کی

انا کی طرح کیوں نیچی نہیں ہوسکتیں ،آخر کیوں مرد خود کو حاکم اور عورت کو محکوم سمجھ لیتا ہے ریاست مدینہ کہنے والے اس ملک میں کیوں عورت کو

آج بھی اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے آخر کیوں عورت آج بھی رشتے سے انکار پر تیزاب سے جھلسا دی جاتی ہے تو کبھی اپنی ہوس پوری

کرنے کے لیے مرد اسے جانور کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں کیوں آخر عورت کی جان اسقدر سستی،حقارت زدہ ہے ،اس مردوں کے معاشرے

میں عورت گر رات کو اکیلی نکلے تو درندے اسے نوچ ڈالتے ہیں دن دھاڑے بچیاں اغوا ہوجاتی ہیں تو کس کو قصور دیں ،کہنے والے کہتے ہیں رات کو نکلی

تھی جبھی درندوں کا نوالہ بن گئی پر کوئی بتائے کوئی تو سمجھائے کہ اس کا کیا قصور تھا جو بچی بسکٹ لینے صبح نکلی اسے حیوانوں نے کیوں مار دیا

کوئی بتائے کہ زندہ عورت محفوظ نہیں ۔

لو مان لیا پر اس کا جواب کون دیگا جنہیں قبر میں بھی سکون نہ ملا ۔دنیا کی ستائی عورت کو قبر میں بھی کئی بار موت ملی،یہ تو وہ ہی بات ہوگئی کہ کہنے

والوں کا کچھ نہیں جاتا سہنے والے کمال کرتے ہیں ۔

اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں درندے حیوان کھلے پھرتے ہیں جبکہ اس ملک کے محافظ حادثہ ہوجانے پر کسی عورت کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی

کا نشانہ بن جانے پر،اکیلی گھر سے نکل جانے پر،غیرت کے نام پر قتل ہوجانے پر،مجرم کو مجرم کہنا حرام اور عورت قصوروار ٹہرادی جاتی ہے۔

اسے بد قسمتی ہی کہاجا سکتا ہے کہ معاشرے میں مذہب عورت کو تحفظ دینے کے معاملے میں ناکام نظر آ رہا ہے اگرچہ عورت کو دین کے نام پر ایسے

احکامات کی لاٹھی سے ہی ہانکا جاتا ہے جن کا دین میں کوئی وجود ہی نہیں۔

اس میں قصور نہ تو مذہب کا ہے اور نہ ہی مذہبی حکام کا کیونکہ جب صحیح چیز غلط ہاتھوں میں چلی جاتی ہے تب اس کا استعمال بھی غلط ہی ہوتا ہے

،عورت کے لیے تو ہم یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ قبر میں سکون مل جایئگا ۔۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *