نوحہ حوا کی بیٹیوں کا

نوحہ حوا کی بیٹیوں کا

90 views

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔۔اس کی سب سے بڑی وجہ کوئی ایسی سخت سزا کا نہ ہونا ہے جو دیگر افراد کے لیے عبرت کا نشان بن سکے۔

تحریر: شہلا محمود

جینز پہنتی ہے۔۔ کافی ماڈرن ہے۔۔ ڈوپٹہ نہیں لیتی۔۔ بے شرم ہے۔۔ ننگے سر گھومتی ہے۔۔حیا سے عاری ہے۔۔آفس میں کام کرتی ہے۔۔بولڈ ہی ہو گئی۔۔ترقی پہ

ترقی ہوتی جا رہی ہے۔۔ضرور باس کو پھانس لیا ہو گا۔۔لڑکی کا پہناوا۔۔گویا اس کے کردار کا عکاس ٹھرا۔۔جبکہ اس کا ذہین ہونا ذہنی بیمار معاشرے کے لیے

آوارہ اور بولڈ ہونا ٹھرا۔

اسلام نے خواتین کو جس قدر حقوق اور تحفظ دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے کھبی نہیں دیا۔۔لیکن ہمارے بیمار معاشرے میں حوا کی بیٹی چاہے وہ تین سال کی

ہے یاتیس سال کی، شادی شدہ ہے یا بچوں کی ماں۔۔کوئی بھی اب محفوظ کہاں رہی۔۔کراچی شہر کی ننھی مروہ یا قصور شہر کی زینب۔۔یا پھر لاہور میں حالیہ

ہی جنسی درندوں کی ہوس کا نشانہ بننے والی ایک ماں۔۔جسے اس کے معصوم بچوں کے سامنے ہی روندا گیا۔۔جنسی درندگی کا نشانہ بننے کے لیے اب عمر

کی قید کہاں رہی؟

بجائے اس ماں کے غم کا مداوا کرنے کے لاہور کے پولیس چیف نے میڈیا پر آ کر گویا اس خاندان کے زخموں پر نمک ہی چھڑک دیا یہ کہہ کر کہ خاتون کو

اتنی رات میں گھر سے نکلنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔ اگر نکلی بھی تھیں تو اس راستے سے جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔ مورود الزام وہ لٹی پٹی خاتون ہی ٹھری۔۔

نہ کہ وہ درندے جنہوں نے ایک ماں کی عزت اس کے معصوم بچوں کے سامنے تار تار کر دی۔۔سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔۔ سول سوسائیٹی ہو یا درد

دل رکھنے والا کوئی بھی انسان ہر کوئی اس گھناونے واقعے کی شدید مذمت کر رہا ہے۔۔ لیکن مذمت سے کیا اس ماں کو انصاف مل پائے گا۔

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔۔اس کی سب سے بڑی وجہ کوئی

ایسی سخت سزا کا نہ ہونا ہے جو دیگر افراد کے لیے عبرت کا نشان بن سکے۔۔اگر ہمارے ملک میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سے سخت سزائیں

سنائی جائیں اور ان پر عملدرآمد بھی یو تو شاید کوئی وحشی کسی مروہ کو زندہ نہ جلائے یا پھر کوئی ماں یوں سر راہ اپنے ہی بچوں کے سامنے بے آبرو نہ

ہو۔۔قومی اسمبلی،،صوبائی اسمبلی،، دنیا جہان کے ایسے قوانین جن سے سوائے اشرافیہ کے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔۔وہ منظور کرا سکتی ہیں تو جنسی

زیادتی کے مجرموں کو سخت سزا دینے کے حوالے سے کوئی اقدام کیوں نہیں کرتیں۔۔کراچی کی مروہ کے بعد لاہور میں ایک ماں کی عصمت دری کا واقعہ

ابھی تازہ ہے۔

جس پر ہر فورم پر گرما گرم بحث بھی جاری ہے لیکن کب تک شور مچے گا،، چار دن کی کہانی ہے پھر ہم سب بھول جائیں گےاور تب تک نہیں جاگیں گے

جب تک کوئی اور کلی نہ روندی گئی۔۔جنگلوں میں بھی کوئی قانون ہوا کرتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ تو جنگل سے بھی گیا گزرا ہے۔

نہ تو جان کا تحفط، نہ مال کا اور نہ ہی عزت و آبرو کا۔

ایسے میں حوا کی بیٹیاں کریں تو کیا کریں؟ لڑکی ہونے کے ناطے مجھے یہ سب لکھتے ہوئے بھارت کی ایک مشہور فلم کا وہ سین یاد آگیا جب ہیروئن اپنی

لاج بچانے کے لیے اپنی تمام باندیوں سمیت خوشی خوشی آگ میں کود جاتی ہے۔

تو ایک کام کرتے ہیں حوا کی تمام بیٹیاں ایسے ہی کسی جلتے الاو میں کود جاتیں ہیں تاکہ لاشیں تک نہ ملیں کیونکہ ذہنی بیمار ہوس پرستوں کی ہوس سے تو

اب جنازے بھی محفوظ نہ رہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *