بلدیاتی اداروں میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر غیرمقامی افسران تعینات

بلدیاتی اداروں میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر غیرمقامی افسران تعینات

21 views

حکومت سندھ نے سندھ سروس ایکٹ کو پس پشت کرکے کراچی کے بلدیاتی اداروں میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر غیرمقامی افسران تعینات کردیئے۔

یاسمین طہٰ

افتخار شلوانی کی بحیثیت ایڈمنسٹریٹر کراچی اور ڈپٹی کمشنرز کی ضلعی بلدیات ایڈمنسٹریٹر تعیناتی سے شہری مسائل میں میں مذید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا

جارہا ہے۔ کے ایم سی سمیت کراچی کے ضلعی بلدیاتی اداروں میں غیرمقامی افسران کی تعیناتی پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی شدید تحفظات کا اظہار

کیا گیا ہے۔

خاص طور پر سابق کمشنر افتخار شلونی کی تعیناتی پر سوالات اٹھ رہے ہیں،ان کی بحیثیت کمشنر کارکردگی کے دوران کراچی میں مہنگائی میں ریکارڈ

اضافہ ان کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کرنے کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ سینئر افسران کی جانب سے حکومتی اقدام کو اقراباء پروری کی بدترین مثال قرار دیا جارہا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کمشنر ہوتے ہوئے وہ معمولی گراں فروشوں کو قابو نہ کرسکے اور ناہی سپریم کورٹ کے کسی بھی حکم پر عملدرآمد یقینی

بناسکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو افسر سبزی،دودھ مافیا کو قابو نہیں کرسکتا وہ شہر کیا چلائے گا۔ واضح رہے سندھ سروس ایکٹ کے تحت شہری اداروں

میں صرف مقامی افسران کو ہی تعینات کیا جاسکتا ہے جبکہ حکومت سندھ نے شہر کے 6 ضلعی بلدیاتی اداروں میں کسی بھی مقامی افسر کو تعینات نہیں کیا

ہے۔اور کراچی کے تمام اضلاع میں لگائے جانے والے کسی بھی ایڈمینسٹریٹر کا تعلق کراچی سے نہیں۔

متحد ہ قومی مو ومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اجلا س میں کنو ینرڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی نے کہا کہ منتخب بلد یا تی قیا دت کی عدم مو جو دگی اور

مدت ختم ہو جا نے کے بعد غیر منتخب افراد سے پیکیج کی رقم کا استعما ل باعث تشویش ہے اور اس پیکیج پر صوبا ئی اور وفا قی حکو متو ں کے متضا د

دعوے عوام کو تشویش میں مبتلا کئے ہو ئے ہیں۔کر اچی سمیت سندھ کے شہری علا قوں میں ایڈمنسٹر یٹر کی تعینا تی میں سندھ حکو مت نے تعصب اور اقربا

پر وری کا مظا ہر ہ کیا ہے اس تعصب کی بنیا د پر صوبے کو نہیں چلا یا جا سکتا۔سندھ حکو مت آئین اور قانون کے تحت انصاف کے تقاضو ں کو سامنے

رکھتے ہو ئے فیصلے کر ے اور ایڈمنسٹر یٹر کی تعینا تی میں ہو نے والا نسلی امتیا ز ختم کر کے مقامی افراد کو ایڈمنسٹر یٹر تعینا ت کیا جا ئے۔

عوام کی توقع کے عین مطابق کراچی پیکج پر وفاق اور سندھ حکومت میں محاز آرائی شروع ہوگئی ہے، وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ 62فیصد حصہ

وفاق کا ہے جبکہ دوسری طرف بلاول بھی اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وفاق نے 300اور سندھ حکومت نے 800ارب فراہم کئے۔جبکہ ایم کیو ایم پاکستان

سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ 1100 ارب کا کراچی پیکیج شہر کیلئے کوئی احسان نہیں، یہ ترقیاتی پیکیج ہے، جو کراچی کا حق

ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پر پیسے لگیں گے تو یہ شہر اس سے زیادہ کما کر دے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی پیکچ کیلئے ملنے والی فنڈ کی مانیٹرنگ

کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی کراچی پیکچ کی رقم کو کرپشن سے بچانے کے لئے حساس اداروں کو بھی ذمہ داری سونپی گی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو براہ راست پیسے نہیں دے سکتے، ان پر اعتبار نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ

پیپلز پارٹی میں بلدیاتی اداروں کو اپنے تسلط میں لینے کے لئے وزیر اعلی سندھ کے قریبی افسران کاگروپ متحرک ہوگیا ہے، افسران کی تقرری وتبادلوں کے

سلسلے میں وزیر بلدیات کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے قربت رکھنے والے افسران کو بلدیاتی اداروں سے فارغ کر نے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جس پر

وزیر اعلی سندھ اور وزیر بلدیات میں اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حال ہی میں تعینات کئے جانے والے سیکریٹری بلدیات افتخار شالوانی اور کمشنر کراچی تعینات کئے جانے والے سہیل راجپوت بھی وزیر

اعلی سندھ کے قریبی افسران بتائے جاتے ہیں،جب کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈی ایم سیز میں ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کے سلسلے میں بھی وزراء کی

سفارشات کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔دریں اثنا سندھ بھر میں تمام بلدیاتی سربراہان اپنے چار سالہ اختیارات اپنے مفادات کی نذر کرکے رخصت ہوگئے۔

بارشوں نے ان کی بدترین کارکردگی کو بے نقاب کردیا۔ ٹوٹی سڑکیں،سیوریج کی بدترین صورتحال نے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا،اربوں روپے کے

فنڈز کا کہاں استعمال ہوا،یہ سوال عوام پوچھ رہی ہے۔لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کراچی کے عوام جو پی پی پی اور متحدہ دونوں جماعتوں سے

پہلے ہی بیزارتھے کہ بارشوں نے تحریک انصاف کے ممبر ان اسمبلی کی کارکردگی کو بھی بے نقاب کردیا۔اور محض اکا دکا ممبر ہی سڑکوں پر نظر آئے۔

میئر کراچی وسیم اختر چار برس تک اختیارات کا رونا روتے رہے مگر چار سال کے دوران 104ارب روپئے کے چار بجٹ کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے،اس

مدت کے دوران سندھ حکومت نے 42ارب روپے کے ایم سی کو دیئے مگر میئر وسیم اختر شہر کو بدترین حالت میں چھوڑ کر رخصت ہوئے۔

میئر کراچی پوری مدت کے دوران اختیارات کا رونا روتے اور تمام مراعات حاصل کرتے رہے بلدیہ کے 32محکموں کی کوئی کارکردگی عوام کے سامنے

نہیں اختیارات نہ ہونے کا شور مچانے والے میئر کے دور میں بلدیہ کی زمینوں کی غیرقانونی فروخت کے اسکینڈل سامنے آئے مبینہ طور پر شہر میں ڈیوٹی

کرنے کے لیے رکھے گئے سیکڑوں سٹی وارڈنز بلدیہ کے افسران اور ایم کیوایم کے رہنماوں کے گھروں پر ڈیوٹی کرتے رہے۔کراچی کی چھ زونل میونسپل

کمیٹیوں کی صورت حال بی انتہائی خراب رہی ترقیاتی کام تو درکنار مرمتی کام بھی نہیں ہوئے گلیوں اور ذیلی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں گندگی اور کچرے کے

ڈھیر جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ زونل میونسپل اداروں اور یونین کمیٹیوں کے پاس مجموعی طور پر لاکھوں کے فنڈز تھے مگر ان کا استعمال

کہیں نظر نہیں آیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے لندن میں پارٹی کی 10 ملین پاؤنڈز سے زائد مالیت کی 7 جائیدادوں پر دعویٰ دائر کردیا۔ لندن ہائی کورٹ میں یہ دعویٰ ایم کیو

ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق کی ہدایت پر دائرکیاگیا ہے۔

درخواست میں بانی متحدہ اور ان کے بھائی اقبال حسین کے علاوہ طارق میر،محمدانور، افتخارحسین، قاسم رضا اور یوروپراپرٹی ڈویلپمنٹ کو فریق بنایا گیا

ہے۔جن 7 جائیدادوں کی ملکیت مانگی گئی ہے ان میں بانی متحدہ کی رہائش گاہ بھی شامل ہے،درخواست میں ایم کیو ایم پاکستان کے وکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ

برطانوی ٹرسٹ قوانین کے تحت ایم کیوایم پاکستان ہی ان جائیدادوں کی قانونی طور پر حق دار ہے۔درخواست میں جائیداد کی فروخت اور ان کے کرایہ وغیرہ

کی رقم پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔27اگست کی شدید بارشوں کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھی کراچی یاد آگیا اور

انھوں نے اپنے دورے میں کاروباری برادری کے وفد نے گورنرہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال، کراچی پیکج

کاروباری برادری کو درپیش مشکلات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کراچی کی کاروباری برادری ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے، کاروباری طبقہ کو درپیش مشکلات

کے خاتمہ کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،حکومت کاروباری طبقے کے تعاون سے معاشی ترقی کے وژن کو یقینی بنائے گی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *