بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس:8 برس کے بعد بھی ادھورا انصاف ؟؟؟

بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس:8 برس کے بعد بھی ادھورا انصاف ؟؟؟

82 views

وہ گیارہ ستمبر کی ستمگر شام تھی جب دفتر میں بیٹھے ہوئے اطلاع آئی کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون کی کسی فیکٹری میں آتشزدگی کی اطلاع ہے۔ ابتدائی طور پر یہی لگا کہ کسی فیکٹری میں شارٹ سرکٹ ہو گیا ہو گا۔کسے معلوم تھا کہ وہ اطلاع دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ کے ہولناک ترین سانحات میں شامل ہو جائے گی جس کے نتیجے میں دو سو ساٹھ انسان زندہ جل کر خاکستر ہو گئے۔

شہلا محمود

میری یاداشت میں اس ماں کا پریشان حال چہرہ گھوم گیا جو اپنے ہاتھوں میں ایک خوبصورت سا فوتو فریم لے کر ماری ماری پھر رہی تھی۔۔کھبی بلدیہ فیکٹری

تو کھبی اسپتال تو کھبی مردہ خانہ۔۔اس فوٹو فریم میں اٹھارہ سے پچیس سال کی پانچ پیاری سی شکل و صورت والی لڑکیاں اور اور ایک عمر رسیدہ خاتون

تھی۔۔پانچوں لڑکیاں اس دکھیاری ماں کی بیٹیاں تھیں اور عمر رسیدہ خاتون ان کی بہن۔۔یہ چھ کی چھ خالہ بھانجیاں حب ریور روڈ بلدیہ ٹاون میں واقع ڈینم

فیکٹری میں ملازمت کرتی تھیں۔۔جس دن فیکٹری میں آگ لگی اس دن یہ لڑکیاں بھی اپنی خالہ سمیت کام پر تھیں۔۔

فیکٹری میں اس دن سیلری ادا کی جانی تھی اسی لیے سب کے سب خوشی خوشی فیکٹری گئے تھے کہ آج اجرت ملنے والی ہے۔۔لیکن شام ڈھلے تک جب بیٹیاں

اور بہن گھر نہ آئیں تو اس ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو فیکٹری جا کر پتہ کرنے کا کہا۔۔بیٹا بھی ماں کے کہنے پر فیکٹری چلا گیا۔۔فیکٹری پہنچ کر بیٹے نے

ماں کو اطلاع دی کہ امی فیکٹری میں تو آگ لگی ہوئی ہے۔۔آپیاں اور خالہ ابھی تک اندر ہیں۔۔کچھ پتہ نہیں چل رہا یہاں کیا ہو رہا ہے۔۔میں جا رہا ہوں ان کو

لینے۔۔ بیٹے کی ماں سے وہ آخری گفتگو تھی۔۔کیونکہ وہاں موجود لوگوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان جذباتی انداز سے چیخ رہا تھا کہ میری ساری بہنیں اور خالہ

اندر ہیں کوئی کچھ کرے۔۔اور اس کے بعد وہ لڑکا بھی اندر چلا گیا۔۔اپنی بہنوں کو بجانے۔۔لیکن واپس نہ آ سکا۔۔

چاروں طرف سے اٹھتے شعلوں نے فیکٹری کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔۔دروازے بند تھے۔۔نہ جانے وہ لڑکا کب کہاں کیسے اندر چلا گیا ۔۔۔جس

کی واپسی ممکن نہ ہو سکی۔۔آج بھی اس ماں کے بارے میں سوچتی ہوں تو دل دہل کے رہ جاتا ہے۔۔آن کی آن اس ماں کی تو دنیا ہی بدل گئی۔۔چھ بچوں اور بہن

کی تلاش میں ان کی فوٹو ہاتھ میں اٹھائے کئی روز تک وہ ماں در بدر پھرتی رہی۔۔جانے والے تو کب کے جا چکے تھے۔۔جب اس خاتون سے بات کی تو پتہ

چلا کہ جو فوٹو فریم وہ لیے در در بھٹک رہی ہیں وہ در اصل انہوں نے خاص طور پر بچیوں کے رشتوں کے لیے بنوایا تھا۔۔قسمت کی ستم ظریفی تو دیکھیے

کہ وہ فوٹو فریم ان کے جنازے ڈھونڈنے کے کام آ رہا تھا۔۔

آٹھ سال بعد بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ سنایا گیا جس میں نامزد ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا ہے۔۔ان ملزمان نے جو

انکشافات کیے۔۔ اس وقت کی طاقتور سیاسی پارٹی کے جن کاروندوں کے نام لیے ان کا کیا ہوا؟ کیا اتنے بڑے سانحے کے ذمے دار صرف یہ دو افراد تھے۔۔

سیاسی پارٹی کے کرتا دھرتا جن کے ایک اشارے نے دو سو ساٹھ  گھرانوں کے چراغ گل کر دیے ان کو سزا کب ہو گی؟فیکٹری کے مالکان جن پر غفلت کا

مقدمہ درج تھا ان کا کیا ہوا؟صرف دو مجرموں کو سزا سنائی گئی ہے۔۔کیا یہ انصاف ادھورا نہیں؟

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *