پاکستان میں آبی حیات کی افزائش نسل 84 فیصد ختم ہوچکی ہے: ڈبلیو ڈبلیو ایف

پاکستان میں آبی حیات کی افزائش نسل 84 فیصد ختم ہوچکی ہے: ڈبلیو ڈبلیو ایف

57 views

جنگلی حیاتیات و نباتات کی ایک عالمی تنظیم ورلڈ وائلڈ لائف کی رپورٹ کے مطابق پاکستا میں  گزشتہ 50 برسوں میں میٹھے پانی کی آبی حیات کی افزائش نسل 84 فیصد ختم ہوچکی ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کےتعاون سے “پانی کے استعمال اور نگرانی” کے عنوان سے بریفنگ دی گئی۔ جس میں پاکستان کے

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری منصوبوں میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بین الاقوامی لیبر اور ماحولیاتی معیارات (آئی ایل ای ایس) کے تحت

سیشن ہوا۔

ماہرین نے  کراچی میں اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لئے تاریخی آبی گزرگاہوں کی بحالی پر زور دیا جبکہ بریفنگ کےدوران ماہرین نے کراچی میں بارشوں

اربن فلڈنگ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حل بھی تجویز کئے۔ماہرین نے مطالبہ کیا کہ پانی کی نکاسی کے نظام پر ہر قسم کے تجاوزات کو فوری طور پر

ختم کیا جائے، تمام گندے پانی کو صاف کرنے والے واٹر پلانٹس کو فوری فعال بنایا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آبی گزرگاہوں اور نکاسی آب پر موجود تعمیرات نے بارش کے پانی کے بہاو میں رکاوٹ پیدا کی ، متعلقہ محکموں کی ناقص

منصوبہ بندی نے شہر کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، بڑا معاشی نقصان ہوا ۔ماہرین کے مطابق میٹھے پانی کی مچھلی اور صاف دریا مقامی آبادی کیلئے

خوراک ، آمدنی کے مواقع فراہم کرتے ہیں،پاکستان کے معاشی مرکز کراچی شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 50 برسوں میں میٹھے پانی کی آبی حیات کی افزائش نسل 84 فیصد ختم ہوچکی ہے، پلاسٹک آلودگی سے نجات

کے لئے متعلقہ سرکاری محکموں اور شہریوں کو مشترکہ ذمہ داری اٹھانی چاہئے۔

پاکستان کے 24 بڑےشہروں کے60 سے 80 فیصد افرادکو صاف پانی کےمسائل کا سامنا ہے، کراچی کے اکثر شہریوں کو ہفتے میں ایک بار پانی کی سہولت

میسر ہے، جو پانی دستیاب ہے وہ پینے کےقابل نہیں، صنعتی کیمیکلز سمندروں کو تباہ کررہاہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *