آرمی چیف سے ملاقات گلے پڑ گئی،بلاول کی وضاحتی پریس کانفرنس

آرمی چیف سے ملاقات گلے پڑ گئی،بلاول کی وضاحتی پریس کانفرنس

64 views

آرمی چیف سے ملاقات گلے پڑ گئی، سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے فیصلے میں منصوبہ سازوں کو بچالیا گیابلاول کی وضاحتی پریس کانفرنس۔

یاسیمن طحہٰ

آرمی چیف سے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات کی باز گشت جاری ہے اور غالباًپاکستان پیپلز پارٹی نے اس ملاقات کی وضاحت دینے کے لئےکراچی میں پریس

کانفرنس کا انعقاد کیا،جس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہا کہ کہ آئندہ کسی ایسے اجلاس میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوگی جس میں شیخ رشید

موجود ہوں گے۔ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی یا کوئی بھی ان کیمرہ اجلاس ہو تو اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی جاتیں لیکن کچھ غیر ذمہ دار

لوگوں نے مجبور کیا ہے کہ میں اس حوالے سے بات کروں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر جو اجلاس بلایا گیا اس کے حوالے سے میڈیا

پر ایسی باتیں کرنے سے معاملہ متنازع ہوتا ہے۔انہوں نے اِن کیمرہ اجلاس کی باتیں باہر کرنے والے کو چپ کرانے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان ہر معاملے پر ناکام رہے ہیں، قومی مسائل پر اپوزیشن کو انگیج کرنا

وزیراعظم کی ذمہ داری ہے، اہم ایشوز پر وزیر اعظم نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیکر کسی اور کو موقع دیں، اس بار بھی وزیراعظم

شریک نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی پاکستان کی تاریخی اے پی سی ہے اور موجودہ حکومت کے آنے کے بعد پہلی مرتبہ آصف زرداری اور نواز شریف ایک ساتھ

موجود تھے۔بلاول کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں الیکشن ریفارمز پر کام کریں تو عام انتخابات بھی شفاف اور غیر جانبدار ہوسکتے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آرمی چیف سے یہ تاثر ملا کہ ایسی اصلاحات ہوں جس سے الیکشن متنازعہ نہ ہوں۔پاکستان کے 9/11 سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے

فیصلے میں منصوبہ سازوں کو بچالیا گیا۔کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سب ہی جانتے ہین کہ اس خوفناک سانحہ کے پیچھے متحدہ کا ہاتھ ہے، لیکن

حکومت کی اتحادی جماعت ہونے کی بنا پر ایم کیو ایم کے رہنما کو کلین چٹ دی گئی ہے ۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری

میں جرم ثابت ہونے پر ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 بار سزائے موت اور دو لاکھ روپے فی کس جرمانہ کی سزا

سنادی۔ عدالت نے سہولت کاری اور اعانت جرم کے جرم میں شاہ رخ لطیف، علی محمد، ارشد محمود اور فضل احمد کو تین سو چوبیس بار عمر قید اور دو لاکھ

فی کس جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ چاروں ملزمان کو متاثرین کو دیت ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

رحمٰن بھولا نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی لیکن بعد میں رحمٰن بھولا نے عدالت میں بیان دیا کہ

پولیس نے عدالت میں پیش کر کے اس سے زبردستی بیان دلوایا ۔عدالت نے عدم ثبوت پر ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی، عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبداستار

اور اقبال ادیب خانم بری کردیا ہے۔ مقدمہ میں متحدہ کے حماد صدیقی اور علی حسن قادری مفرور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رؤف صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ہونے کی باعث سزا سے بچالیا گیا جب کہ حماد صدیقی کو مفرور کرایا گیا

ہے کیوں کہ مصطفیی کمال اس کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔سانحہ بلدیہ فیکٹری کے شہداء کے لواحقین نے فیصلہ ڈیل کا نتیجہ قراردیتے ہوئے مستردکردیا

اورانصاف نہ ملنے پرخودسوزی کی دھمکی دی ہے۔ لواحقین نے الزام لگایا کہ 52 کروڑ روپے کی امداد بھی ہڑپ کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا جو ضامن تھے

وہی لواحقین کی امداد ہڑپ کرگئے۔ 8 سال سے میڈیا رپورٹ کرتا رہا آج انہی لوگوں کو بری کردیا گیا۔ لواحقین نے کہا فیصلے میں تاخیر کی وجہ ڈیل معلوم

ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا مصطفی کمال کہتے تھے کہ حماد صدیقی بے گناہ ہے، آج فیصلہ آگیا ہے کہ حماد صدیقی مجرم ہے۔انہوں نے کہا مصطفی کمال، انیس قائم خانی،

ناصر حسین شاہ، سعید غنی، کرامت علی اور دیگر نے امداد ہڑپ کرلی۔اس فیصلے پر خود حکمراں جماعت تذبذب کا شکار ہے اور پاکستان تحریک انصاف

کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زما ن نے کہا ہے کہ ہم عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جنہیں سزائیں ہوئی ہیں

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسی کے کہنے پر یہ کام سرانجام دیا۔ اصل تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کام کو کرنے کا حکم دیا، ہماری عدلیہ سے یہ درخواست

ہے کہ سزا یافتہ قاتلوں کے پیچھے اصل کرداروں کو منظر عام پر لایا جائے اور انہیں بھی سخت سزائیں دی جائیں۔

چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاورقی کی سربراہی میں کے الیکڑک انتظامیہ بزنس کمیونٹی اور اسٹیک ہولڈر سے مشاورت اور رائے کیلئے کراچی میں سماعت

ہوئی۔ اس دوران شہریوں نے کے الیکٹرک کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے اور دیگر کمپنیوں کو بھی اجازت

دینے کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کوسیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کی حمایت حاصل رہی

ہے،کے الیکٹرک کی پیپلز پارٹی ایم کیو ایم نون لیگ اور پی ٹی آئی سہولت کار رہے، کے الیکٹرک کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے۔بزنس مین گروپ کے چیئرمین

سراج قاسم تیلی نے کے الیکڑ ک کے ڈسٹری بیوشن لائسنس میں ترمیم کے ساتھ دیگر کمپنیوں کو بھی بجلی فراہم کرنے کے لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ

کردیا۔سراج تیلی نے کہاکہ،اگر کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کی جائے تو کراچی کی بزنس کمیونٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی بنانے کو تیار ہے۔

اس موقع پر کے الیکڑک کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔بلدیاتی اداروں کے اختیارات سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس

دئیے ہیں کہ میئر کراچی نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا۔مقامی حکومتیں لازمی،بلدیاتی اختیارات وفاق و صوبے کو دینا آئین کے آرٹیکل 140کیخلاف ہے۔ سیاسی

جماعتیں حکومت میں ہوں تو اختیارات دینا نہیں چاہتی، حکومت میں نہ ہوں تو یہ اختیارات منتقلی کی بات کرتے ہیں، برسر اقتدار جماعت خود کو فائدہ دینے

کیلئے قانون سازی کرتی ہے،میئر کراچی نے تو شہر کا حلیہ بگاڑ دیا، گھروں میں پانی تھا لوگ مر رہے تھے، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا

عملہ بارشوں میں کہیں نظر نہیں آیا، کے ایم سی ملازمین کو پانچ ارب تنخواہ دی جاتی ہے،وہ کام کرتے نظر کیوں نہیں آتے۔متحدہ قومی موؤمینٹ نے کراچی

مارچ میں ایک بار پھر سندھ صوبے کا نعرہ لگایا۔ ایم کیو ایم کے میئر اور دیگر نمائندوں کی بلدیاتی اداروں میں مبینہ کرپشن،اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے فیصلے

پر کراچی کے شہری سخت تحفظات رکھتے ہیں،اسی لئے کراچی ہاتھ سے نکلنے کے خوف نے غالباًمتحدہ کو کراچی مارچ کے انعقاد پر مجبور کیا۔

اتحادی جماعت ہونے کے باوجود مارچ مین وفاق پر شدید نکتہ چینی وفاق سے کسی نئے مطابے کے لئے تو نہیں؟

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *