پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران 

پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران 

87 views

اس وقت پاکستان  آبادی کے لحاظ سے  دنیا میں پانچواں بڑا ملک ہے  جہاں پانی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے  اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ سال  2025 تک پاکستان کو پانی کی شدید ترین قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے  جبکہ صورتحال کی سنگینی کا اس حقیقت سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  اندازے کے مطابق  سال 2040  تک پاکستان کا شمار جنوبی ایشیا کے اس ملک میں ہوگا جس کے پاس شاید پانی نہ ہو۔

 فہمیدہ یوسفی

یو این ڈی پی کے مطابق  پاکستان میں  فی کس باشندے کے پاس پانی  2172 مکعب میٹر سے گھٹ کر صرف    1306 مکعب میٹر ہے۔ جبکہ 27.227 اس

وقت تک صاف پانی سے محروم ہیں ۔صاف پانی سے محرومی اور آلودگی  کے باعث پاکستان میں ہر سال اندازے کے مطابق 39000 بچے اسہال کا شکار

ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔پاکستان میں صاف پانی کے لیے انفرا اسٹرچکر کی ناقص صورتحال کی حالت زار کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا

ہے  کہ پاکستان سے  ہر سال ایک کثیر تعداد میں میٹھا  پانی نکلتا ہے  لیکن حیران کن طور پر اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے گنجائش 120 دن سے گھٹ کر

تیس دن پر  ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صرف تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم ہی پانی کا ذخیرہ  کرنے کے لیے  دو بڑے ڈیم رہے ہیں پاکستان کے پالیسی سازوں

اور دوسرت تمام اسٹیک پولڈرز نے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور وسائل پر بہت ہی کام کیا ہے جس کی وجہ سے آبادی کی بڑھتی تعداد کو صاف پانی تک کی

رسائی  میں مشکلات  کا سامنا ہے   ۔

Tarbela 4th extension hydropower project, Pakistan - Mott MacDonald

ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانی کی ناقص منصوبہ بندی پر پاکستان کو کو سالانہ بارہ بلین امریکی ڈالر خرچ  کرنا پڑتے ہیں جو اس کی جی ڈی پی

 کا  چار فیصد ہیں دوسری جانب گھریلو صارفین کو صاف اور آلودگی سے پاک پانی پہنچانا  اور پانی کی صفائی بہت بڑا  چیلینج ہے ۔

کیونکہ پاکستان  ایک زرعی ملک ہے  اور اس کا دارومدار زراعت پر ہے  معاشی طور پر  پنجاب  کا آبپاشی میں بائیس ارب ڈالر کا حصہ ہے تاہم چار بڑی

فصلیں کپاس گندم  چاول اور گندم  اسی فیصد سے زیادہ پانی کھیتوں میں  آبپاشی  کے  لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ صرف ملک کے جی ڈی پی میں پانچ

فیصد کے حصے دار ہیں  اس لیے آبپاشی کے نظام کو موثر اور بہترکرنے  کی ضرورت ہے تاکہ پانی کو بچایا جاسکے۔

Pakistan : FAO in Emergencies

غور طلب بات یہ ہے کہ پانی  کی پیداواری صلاحیت پر پاکستان میں کام نہیں ہوا  حالانکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کی وجہ سے آبپاشی  کے نظام پر

انحصار کرتا ہے جبکہ بجلی پیدا کرنے کے لیے بھی پاکستان کا انحصار پانی پر ہے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان میں واٹرمینیجمنٹ کو بہتر کیا جائے کیونکہ

پاکستان میں اس وقت ساٹھ ملین افراد کو جو پینے کا پانی ملتا ہے اس میں آرسینک کی خطرناک حد تک موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے جس کی وجہ سے

کینسر  دل کی بیماریاں ذیابیطس اور ذہنی جسمانی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

Drinking water issue prevails in Peshawar despite govt's tall claims - Pakistan - Dunya News

آلودہ پانی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے جسکا تدارک ضروری ہے پاکستان کو فوری طور پر واٹر مینجمنٹ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ

صاف پانی کو شہری اور دیہی علاقوں کے لیے مہیا کیا جاسکے  جبکہ بڑھتی ہوئی پانی کی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پالیسی سازوں کو بھی اپنی پالیسی

واضح طور پر بنانا ہوگی تاکہ پانی کے وسائل کو بھی محفوط کیا جاسکے۔

Why Millions Of People In Pakistan Drink Sewage Water - What's on

 واٹر مینجمنٹ کے لیے قومی سطح پر اور صوبائی سطح پر ایمرجنسی پروگرام نافذ کرنے کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور

انڈس ریور اتھارٹی کو فعال کرنے کی ضرورت ہے  جبکہ ایک مربوط فریم ورک کی ضرورت ہے جو نہ صرف پانی کی تقسیم پر نظر رکھے  بلکہ صاف

پانی کی ترسیل بھی ممکن بناسکے  جبکہ دوسری جانب جنگلات کے مناسب اور وسیع منصبوں سے بھی آبی آلودگی  پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

Pakistan's timber mafia threaten forest protection plans

جنگلات کی کمی کی وجہ سے پاکستان کو  بار بار سیلاب کی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو پانی کو ذخیرہ کرنا بھی مسئلہ

ہوتا ہے  جبکہ پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لیے ڈیمز بھی بہت ضروری ہیں جبکہ بڑے ڈیمز بنانے سے بہتر چھوٹ ڈیمز ہیں جن پر سب کا اتفاق ہو چھوٹے

ڈیمز  کی وجہ سے ویسے بھی ماحولیاتی خطرات کم ہوتے ہیں جبکہ  ان ڈیمز کے پانی کو گھریلو استعمال آبپاشی اور کھیتی باڑی کے لیے آرام سے استعمال

کیا جاسکتا ہے  جبکہ آبی وسائل کے موثر انتظام میں بھی یہ ڈیمز قابل قدر  کرادر ادا کرسکتے ہیں  وزیر اعظم عمران خان ماحولیا ت کو لیکر بہت سنجیدہ ہیں

امید کرتے ہیں کہ وہ پانی کے سنگین مسلے  پر بھی اب سنجیدگی سے غور کرکے ایک متناسب فریم ورک بنانے میں کامیاب ہونگے تاکہ  آلوہ پانی کے باعث

ضائع ہونے والی جانیں بچ سکیں ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *