پاکستان کا سمندری نمک بہترین زرمبادلہ ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔راوا اسپیشل

پاکستان کا سمندری نمک بہترین زرمبادلہ ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔راوا اسپیشل

385 views

پاکستان کا سمندری  نمک بہترین زرمبادلہ ثابت ہوسکتا ہے۔

فہمیدہ یوسفی

پاکستانی کھانوں میں نمک کے بغیر  کھانا ادھورا رہتا ہے۔ پاکستان کا نمک اپنے مخصوص ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ تاہم نمک کا

استعمال صرف کھانوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ  نمک کو  اندازے کے مطابق ایک سو چھبیس انڈسٹریز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

جس میں ٹیکسٹایل ، چمڑا، کیمیکل  انڈسٹریز وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ تاہم یہ نمک کھانے والا نمک نہیں ہوتا بلکہ یہ  معدنی نمک ہوتا  ہے جس کی کھپت انڈسٹری

کے لیے ہوتی ہے۔

پاکستان میں نمک کے ذخا ئر کی صورتحال

کیا آپ  جانتے ہیں کہ پاکستان نمک کے ذخا ئر میں دنیا میں سر فہرست ہے ،پاکستان میں 172سے  بھی زیادہ نمک کی لیک موجود ہیں۔

پاکستان میں  اندازے کے مطابق نمک کے چھ ارب ٹن سے بھی  زیادہ  کے ذخائر موجود ہیں جبکہ یہ حقیقت بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ پاکستان میں پایا جانے

والا نمک نناوے فیصد خالص ہے جو  ہمالیہ سالٹ کے نام سے مشہور ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نمک اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند

کیا جاتا ہے،پنک راک سالٹ صرف پاکستان میں ہی دستیاب ہیں۔

تھرپارکر کی حب سالٹ ریفائنری

جہاں نہ چوری اور ڈکیتی کا خوف، نہ ہی  ماحول میں آلودگی نہ ہی کسی اجنبیت کا احساس۔ یہ ہے صحرائے تھر، جہاں کی ثقافت، روایت  کے اصلی رنگ

مدہم نہیں پڑے  تھر کا نام تھل سے نکلا ہے جس کا مطلب نمک ہے  اور یہاں کہ مقامی اپنی دھرتی کو لاوان(نمک) سمندر  بھی کہتے ہیں ۔

اس نمکین صحرا کے مقام  موکھائی  پر حب سالٹ ریفائنری کی  فیکٹری موجود ہے۔

حب سالٹ ریفائنری نے اپنی فیکٹری کے لیے  2011 میں حکومت سندھ سے  لیز پر بارہ سو ایکڑ کی  موکھائی  نمک جھیل حاصل کی ہے۔ اس  سالٹ ریفائنری

کے لیے حب سالٹ کا اپنا بجلی گھر بھی موجود ہے۔ جبکہ مٹھی سے موکھائی  نمک جھیل تک پچھتر کلو میٹر کی  سڑک بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے ۔

جبکہ قابل تعریف بات یہ ہے کہ اس سالٹ ریفائنری کی وجہ سے   تھر باسیوں  کو باعزت  روزگار مل رہا ہے  تو ان بچوں کے لیے بھی  مدرسہ اور مسجد کا

انتظام موجود ہے۔ 

نمک کیسے بنایا جاتا ہے ؟؟

نمک کی جھیل سے نمک بنانے کا عمل کیسے کیا جاتا ہے اس سلسلے میں  راوا نیوز  نے جب سالٹ  فیکٹری کے منیجر طارق محمود ستی سے پوچھا تو انہوں

نے بتایا کہ یہ جھیل قدرتی طور پر ہی نمک ذخیرہ ہے  جبکہ مون سون میں ہونے والی  بارشوں کے بعد نمک بڑی مقدار میں حا صل ہوتاہے۔ اس جھیل کی

گہرائی چار سے پانچ فٰت ہے اور جب یہ سوکھنے لگتی ہے تو یہاں سے نمک کشید کیا جاتا ہے  پیدا ہونے والے اس  نمک  کو کرین اور ٹریکٹر ٹرالیوں کی

مدد سے ایک جگہ  جمع کیا جاتا ہے ۔ جس کے بعد  اس نمک کو پراسس کرکے صاف کیا جاتا  ہے، اور قابل استعمال شکل میں لایا جاتا ہے۔ انہوں نے  راوا

نیوز کو مزید بتایا  کہ کہا کہ یہ  نمک ڈائنگ فیکٹری میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہےجبکہ یہ  والا نمک کھانے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صنعتی مقاصد

کے لیے  استعمال کیا جاتا ہے۔

طارق ستی نے یہ بھی  بتایا کہ اس سالٹ لیک  سے ماہانہ تین  سے چارہزارٹن  نمک کی سپلائی پاکستان کے مختلف شہروں میں کی جاتی ہے۔ دوسری جانب

حب سالٹ میں تیار نمک کی برآمدات یورپ،امریکا،کینیڈا،جاپان،چائنا سمیت دیگر ممالک میں بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ پاکستان مشہور اینگروکمپنی بھی اپنے

صنعتی استعمال کے لیے نمک حب سالٹ سے خرید تی ہے۔

پاکستان کے سمندری نمک کی اہمیت

اسی سلسلے میں راوا نیوز نے لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر،ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدراورحب پاک سالٹ

ریفائنری کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسماعیل ستار سے رابطہ کیا ہے  جس پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پایا جانے والا نمک نناوے فیصد خالص ہے

یہ صرف کھانے کے کام نہیں آتا بلکہ صنعتوں میں خام مال  کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے

جبکہ یہ کھاد چمڑے اور کیمیکلز انڈسٹریز  کا اہم خام مال ہے

انہوں نے بتایا کہ پاکستان  میں صنعتی نمک  کی سالانہ کھپت  چالیس لاکھ ٹن ہے  اور مقامی ضروریات  میں ان کا حصہ انیس فیصد بنتا ہے

جبکہ ان کا کہنا تھا کہ صرف موکھائی پلانٹ سے  دو لاکھ ٹن  نمک کی سالانہ پیداوار ہورہی ہے

جبکہ  ان کے دیگر پلانٹ  حب  اور اینکریو پلانٹ سے سالانہ تین تین لاکھ ٹن   کی پیداوار کی جارہی ہے

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کہ ان کا ارادہ بلوچستان نہیں بلکہ  بلکہ دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ  سالٹ سایٹ بنانے کا ہے

جہاں  سے سالانہ چوبییس  ملین ٹن  پیداوار کا  ٹارگٹ  حاصل کرنے کا ہدف ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ  حکومتی توجہ سے  صرف پانچ سال میں صنعتی نمک  کی برآمدات سے  ٹیکسٹایل  ایکسپورٹ سے حاصل زرمبادلہ  کا نصف کما کر دے سکتے ہیں

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سمندری نمک کی مینوفیکچرنگ کے لیے سالٹ انڈسٹری کو نہ بجلی اور نہ ہی گیس کی ضرورت ہے البتہ حکومتی تعاون اور متعلقہ اداروں کی توجہ اس

شعبے کی اہم ضرورت ہے، یہ شعبہ غیرروایتی پروڈکٹ برآمد  کر کے زرمبادلہ میں آمدنی کو وسیع پیمانے پر بڑھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

 تاہم اس کے لیے نمک کی برآمدات بڑھانے کے لیے  اس شعبے کو مراعات اور منسٹری آف کامرس کو  ایک طویل مدتی قابل عمل پلان بنانا ہوگا

ضرورت اس امر  کی ہے پاکستان حکومت اس شعبے میں اپنی دلچسپی لے اور زرمبادلہ کے لیے اس صنعت کو توجہ دے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *