بریسٹ کینسر کے متعلق یہ چند عام غلط فہمیاں دور کرلیں

بریسٹ کینسر کے متعلق یہ چند عام غلط فہمیاں دور کرلیں

91 views

ویسے تو کینسر جیسی بیماری ہر دور اور زمانے میں ہی خطرناک سمجھی جاتی تھی لیکن اب دور جدید میں جہاں سائنس نے اس قدر ترقی کرلی ہے تو کینسر جیسی موضی بیماری جو پہلے لاعلاج سمجھی جاتی تھی اب اس کی بر وقت تشخیص سے اس بیماری کا علاج بھی ممکن ہو گیا لیکین یہ بھی ضروری ہے اگر کسی پر بھی اس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کا جائے۔

صبحین عماد

دوسرے کینسر کی طرح بریسٹ کینسر کو لے کر لوگوں کو کئی طرح کی غلط فہمیاں ہیں ۔بریسٹ کینسرکے بارے میں ضروری آگہی پھیلانا اور غلط فہمیوں

کو دور کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ اس پر وقت رہے قابو پاکر اس کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔بریسٹ کینسر کے بارے میں مندرجہ ذیل غلط فہمیاں عام ہیں

بریسٹ میں گلٹی کی موجودگی لازماًکینسر کی علامت ہے

صرف چند فیصد گلٹیاں ہی کینسر کا باعث بنتی ہیں ۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر گلٹی کو کینسر کی علامت ہی سمجھ لیا جائے ۔ تاہم اگر کوئی گلٹی مستقل

طور پر چھاتی میں موجود ہے یا آپ کو چھاتی کی بناوٹ میں کوئی تبدیلی محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں ۔ اس صورت میں بریسٹ فزیشن سے رابطہ

ضروری ہے تاکہ وہ ضروری ٹیسٹ کے ذریعے بتا سکے کہ آیا یہ کینسر کی علامت ہے یا نہیں۔

بریسٹ کینسر صرف عورتوں میں ہوتا ہے

اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہر سال دو ہزار کے قریب مرد بھی بریسٹ کینسر کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 400 کی اموات بریسٹ کینسر کے باعث ہوتی ہے۔ یہ

تناسب نہایت کم ہے لیکن پھر بھی مردوں کو بھی بریسٹ کو جانچتے رہنا چاہئے اور کسی تبدیلی پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔مردوں میں اس کی آگاہی کم

ہونے کی بناء پراکثر علاج میں دیر ہو جاتی ہے۔

ایکسرے کینسر کے پھیلنے کا باعث بنتا ہے

میمو گرام یعنی بریسٹ کا ایکسرے بریسٹ کینسر کی جانچ کا ابتدائی ذریعہ ہے۔ میمو گرام کے دوران بریسٹ پر دباؤ دیا جاتا ہے جو بعض لوگوں کے مطابق

کینسر کے پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے مطابق میمو گرام سے حاصل ہونے والے فوائد اس سے نکلنے والی

شعاعوں کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ میمو گرام میں شعاؤں کا بہت معمولی اخراج ہوتا ہے۔

یہ موروثی مرض ہے

ایسی خواتین میں کینسر کے خطرات بڑھ ضرور جاتے ہیں جن کی فیملی میں کینسر کے مریض پہلے سے موجود ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس فیملی

کی ہر عورت کو کینسر ہوگا۔اکثر عورتیں جو بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہیں ان کی فیملی میں کینسر کی بیماری سرے سے ہوتی ہی نہیں۔صرف دس فیصد

مریض ایسے پائے گئے ہیں جن کی فیملی میں یہ بیماری پہلے سے تھی۔

اگر آپ کی والدہ یا بہن کو چالیس سال کی عمر سے پہلے کینسر ہوا ہے تو آپ کو اس عمر سے دس سال پہلے سے اپنا چیک اپ کراتے رہنا چاہئے۔اگر آپ کی

نانی یا خالہ کو کینسر تھا ،تو آپ کو کینسر کا اتنا خطرہ نہیں جو پہلی قسم میں تھا۔اگر آپ کے خاندان میں نسل در نسل یہ بیما ری چلی آرہی ہے جو ایک

دوسرے کے قریبی رشتے دار(ماں،بیٹی،بہن) ہیں اور ان سب میں پچاس سال کی عمرسے پہلے یہ بیماری پیدا ہوئی تو اس صورت میں یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ

یہ بیماری فیملی ہسٹری کی وجہ سے ہے۔

بریسٹ کینسر چھوت کی بیماری ہے

یہ بیماری نہ ہی دوسرے سے ہمیں لگتی ہے اور نہ ہی ہم سے دوسروں کو۔ خلیات کی غیر معمولی افزائش جو بریسٹ کے ٹشوز میں پھیل جاتے ہیں کینسر کا

باعث بنتے ہیں۔آپ صحت مند طرز زندگی اپنا کر اور ان خطرات کے بارے میں معلومات حاصل کرکے شروع میں ہی اس بیماری پر قابو پا سکتے ہیں۔

پسینے کا اخراج روکنے والی اشیاء یا ڈیوڈرنٹ بریسٹ کینسر کا باعث بنتا ہے،تحقیق نے اس بات کو کہیں بھی ثابت نہیں کیا کہ ڈیوڈرنٹ کا استعمال کینسر کا

باعث بنتا ہے۔

گلٹی ہی کینسر کی واحد ممکنہ علامت ہے

کینسر زیادہ تر گلٹی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے لیکن خواتین کو بریسٹ میں ہونے والی دوسری تبدیلیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔اس میں

سوجن،خارش ،چھاتی میں درد،نپل کا بڑا ہوجانا،دھنس جانا یا نپل سے پس کا اخراج ہونا شامل ہے۔

ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔اکثر بریسٹ کینسر بغل تک پھیل جاتا ہے اور بغل میں سوجن ہوجاتی ہے،یہ علامت چھاتی میں

گلٹی محسوس ہونے سے پہلے ہوتی ہے۔دوسری طرف بریسٹ میں کوئی ظاہری تبدیلی یا علامت نہ بھی ہو تو میمو گرام سے اسکا پتہ چل جاتا ہے۔

بائیوپسی سے کینسر پھیلتا ہے

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔یہ ایک دقیانوسی سوچ ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے مریض جن کی بائیوپسی ہوتی ہے ان میں کینسر تیزی سے

نہیں پھیلتابہ نسبت ان لوگوں کے جن کی بائیوپسی نہیں ہوتی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *