ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کا گرے لسٹ معاملہ

ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کا گرے لسٹ معاملہ

116 views

پاکستان جو ایک طویل عرصے سے دہشت گردی بد امنی اور معاشی معاونت اور پشت بناہی کے الزامات سہتا آرہا ہے اور اس کا مقابلہ کررہا ہے لیکن اب امید کی ایک کرن اجاگر ہوگئی ہے کہ پاکستان جو 2013سے 2016 تک گرے لسٹ میں رہا اور اب بھی ایسی ہی صورتحال سے دو چار ہے ۔

صبحین عماد

تو خیال کیا جارہا ہے کہ اب پاکستان ملک جلد ہی اس فہرست سے نکل دیاجائیگا۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے ؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 30 سال قبل جی سیون ملکوں نے 1989ء میں فرانس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف

ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا۔

امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ دہشت گردی کے لیے فنڈز کی

فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012ء

میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد

کی گئی۔

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا

فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر بھی کچھ اہم شرائط لاگو کی ہیں چونکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پاکستان وجود میں آنے کے بعد سےہی ایک مسلسل

پریشانی اور دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

 ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پاکستان مخالف تصور نہیں کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت رُکے گی تو اس کا فائدہ قانونی

طریقے سے کمانے والے عام عوام کو ہوگا۔

حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی، قانونی لین دین میں اضافے سے ٹیکسوں کی وصولی بھی بہتر ہوگی، سب سے بڑھ کر

دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری پر کاری ضرب لگنے سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔

پاکستن کا کردار ایف اے ٹی ایف میں

بد قسمتی سے پاکستان جون 2018ء سے گرے لسٹ میں ہے۔ پاکستان ایک ایکشن پلان پر متفق ہوا تھا، تاہم اس کی پیش رفت ناکافی ہے۔ ایکشن کا مقصد منی

لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا تھا۔ پاکستان نے اعلیٰ سطحی پر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی بڑی

پیش رفت نہیں کرسکا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے اپنے اعلامیے میں ایف اے ٹی ایف نے 10 ایسے نکات کی نشاندہی کی تھی جس پر پاکستان کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق اپنے قوانین اور طریقہ کار عالمی معیار کے مطابق بناسکے۔

پاکستان نے بہت پہلے سے ہی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی قوانین کو اپنانا شروع کردیا تھا۔ 2010ء میں پاکستان نے منی لاندڑنگ اور دہشت

گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے پہلا قانون متعارف کروایا تھا جسے بعدازاں 2016ء میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کی غرض

سے بذریعہ ترمیم بہتر بنایا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے تحت پاکستان کو اپنی سرحدوں میں ہونے والے سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے علاوہ دیگر ملکوں میں منی لانڈرنگ

ٹیکس چوری، دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی دولت کی پاکستان منتقلی کے خلاف بھی اقدامات کرنے ہیں۔ جس میں جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری میں

مدد کے علاوہ غیر قانونی پیسے سے حاصل کردہ جائیداد یا نقد رقم کی ضبطگی بھی شامل ہے۔

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان

اکیس اکتوبر کو انسدادِ منی لانڈرنگ کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس کا آغاز ہوگیا ہے ۔ تین روزہ یہ اجلاس 23

اکتوبر تک جاری رہے گا اور کورونا وبا کے باعث اس کا انعقاد ورچوئلی یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے ہو گا۔

پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نشست کے دوران پاکستان کی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے شعبوں میں ہونے

والی اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہو گا کہ آیا پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھا جائے یا نہیں؟

چند روز قبل، 11 اکتوبر کو منی لانڈرنگ کا جائزہ لینے والے ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی ایک رپورٹ (ایم ای آر) میں پاکستان کو ’اِنہانسڈ فالو اپ‘

فہرست میں ڈالا گیا ہے۔

اے پی جی کے مطابق ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنناسنگ کی روک تھام میں کوئی خاص پیشرفت نہیں کی ہے۔

کسی ملک کو انہانسڈ فالو اپ لسٹ میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی مانیٹرنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کسی

بھی ملک کی گرے لسٹ میں شمولیت کے بعد اس ملک کی پیشرفت غیر تسلی بخش ہونے پر مانیٹرنگ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

اے پی جی ادارہ کیا ہے ؟

اے پی جی، ایف اے ٹی ایف سے منسلک ایک ادارہ ہے جو خطے میں ایف اے ٹی ایف کی ذیلی شاخ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسی طرز کے ذیلی ادارے

یورپ، جنوبی امریکہ اور دیگر خطوں میں بھی ہیں۔

اے پی جی میں خطے کے مختلف ممالک شامل ہوتے ہیں جو ادارے کو وقتاً فوقتاً سفارشات دینے کے ساتھ ساتھ ان کو ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں شامل

ممالک کی پیشرفت سے متعلق آگاہ بھی کرتے ہیں۔

اکیس سے 23 اکتوبر تک ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے اے پی جی کی اسی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا اور پاکستان کے حکام کی

طرف سے دہشتگردی میں ملوث گروہوں کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائی اور انھیں معاشی مدد فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف کی

جانے والی کارروائی کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان دہشتگردی

میں ملوث گروہوں اور دہشتگردوں کی مالی اعانت کر رہا تھا۔

اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران

اور شمالی کوریا شامل ہیں۔

پاکستان جو گرے لسٹ ہوجانے اور دہشت گردی کے الزامات کا ڈٹ کا سامنا کرتا آرہا ہے انڈیا کی جانب سے تمام تر توجہ کا مرکز اب پاکستان بنا ہوا ہے کہ

انڈیا کی نظر حال ہی میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے کہ وہ جان سکے پاکستان کے لیے کیا فیصلہ کیا جاتا ہے کیونکہ گرے لسٹ میں موجود

ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر

روکا جا سکتا ہے۔

انڈیا کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان مزید تنزلی کا شکار ہونے کے بعد بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے کیونکہ انڈیا کا الزام

ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی روک تھام اور اس کی مالی اعانت کو روکنے کے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے۔

لیکن دوسری جانب پاکستان کے اتحادی مانتے ہیں کہ محدود وسائل ہونے کے باوجود پاکستان دہشتگردی کو روکنے کی تمام تر کوششیں کر رہا ہے۔

انڈیا ہمیشہ کی طرح پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش میں ہے اور میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی احکامات پر سنجیدگی

کا مظاہرہ نہیں کرتا جبکہ دوسری جانب گذشتہ ماہ چین نے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اکتوبر کا جائزہ پاکستان کے حق میں جائے گا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ21 اکتوبر سے شروع ہوئی میٹنگ میں پاکستان گرے لسٹ میں رہے گا یا نکال دیا جایئگا لیکن خیال ایسا ہی کیا جارہا ہے

کہ شاید اے پی جی کی رپورٹ پاکستان کے حق میں کام آسکے اور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *