اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشہ نہ بنا۔۔۔۔۔راوا اسپیشل

اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشہ نہ بنا۔۔۔۔۔راوا اسپیشل

237 views

قلم اٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں

فہمیدہ یوسفی

کون کہتا ہے کہ محنت کا صلہ نہیں ملتا یا جو دل سے چاہو وہ حاصل نہیں ہوتا ،مشکل وقت ،حالات ،معاشرہ اپنوں سے دوری ،ٹوٹے رشتے ،بکھرا دل اور

زمانے کی ٹھوکر کھا کر جب انسان سنبھلتا ہے تو پھر کامیابی خود اس کے قدم چومتی ہے پھر کوئی خوف کوئی چیز اسے ڈرا نہیں پاتی نا اس کے بڑھتے

قدموں میں کوئی زنجیر اٹکتی ہے بس ہمت و حوصلہ اور سچی لگن ہوتو انسان کیا کچھ نہیں پا سکتا ایسے ہی ایک منفرد ، اور انوکھے کردار سے راوا نے کی

ملاقات ۔

خود کو الگ جاننے کے بعد اپنا سب بہت پیچھے چھوڑ کر تپتی دھوپ میں کھڑا کیا کہ گھر والے ماں باپ بہن بھائی زمانے میں سر اٹھا کے چل سکیں اس کے

خواجہ سرا ہونے کی سزا اس کے گھر والے نا بھگتیں  کیوں کہ کہنے والے کا کچھ نہیں جاتا سہنے والے کمال کرتے ہیں۔

ایسی ہی ایک با کمال ،متاثر کن کہانی کا کردار ہے نیشا راوٗ جو اپنی کمیونٹی ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کی بھی پہلی خواجہ سرا ہیں

جنہوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور لوگ کیا کہیں گےجیسے معاشرے میں خود کو منوا لیا کہ لوگ اب جو بھی کہیں لیکن نیشا کو وکیل ضرور کہیں گے ۔

راوا کی ٹیم سے بات کرتےہوئے نیشا نے اپنے اس مشکل ترین سفر کی داستان سنائی پاکستان کی پہلی وکیل خواجہ سرا نیشا کا کہنا تھا کہ میں دس سال کراچی

کی سڑکوں اور سگنلز پر بھیک مانگنے کے بعد آج اس مقام پر پہنچی ہوں۔ یہ دس سال کا سفر آسان نہیں تھا جب گھر چھوڑ کے نکلی تو سارے مسئلےجو کبھی

گھر میں نہیں ہوئے وہ ایک ایک کر کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے ،بہت مشکل تھا سوسائٹی کا رویہ ،فیملی کی جانب ریجیکشن ،ایک سال بھیک مانگنے کے

بعد میں نے خود کو سنبھالا اور تعلیم کا سلسلہ پھر سے جوڑا میٹرک کرکے آئی تھی ۔

نیشا کا کہنا تھا کہ می٘ں نے یہ سوچا کہ کیوں نا تعلیم حاصل کرکے محنت کرکے اپنے اور اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کرسکوں ،صبح بھیک مانگتی تھی اور شام

میں اپنی کلاسز لیتی تھی ،نیشا نے راوا کو بتایا کہ اس سب کے بعد میرے استاد مدثر اقبال چوہدری نے مجھے وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے مجھے ہمت دی اور بتایا کہ تم وکالت کی تعلیم حاصل کرواور اپنی کمیونٹی کی آواز بنو تشدد کے خلاف کھڑی ہو ،اس مشورے کو عملی جامہ

پہنانے کے لیے نیشا راوٗ نے سندھ مسلم لا کالج سے نے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور اب وہ خواجہ سراؤں  کے کیسز لڑتی ہیں، وہ اپنی

کمیونٹی کی مدد کرنے سمیت دیگر سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

نیشا راؤ نے راوا کے سوال کے جواب میں کہا کہ بھیک مانگنے کا تجربہ میرے لیے برا نہیں رہا بلکہ لوگ میری مدد کیا کرتے تھے جب انہیں اس بات کا علم

ہوتا کہ میں پڑھتی ہوں سوسائٹی نے بہت بہتر طریقے سے مجھے قبول کیا اور سپورٹ کیا ۔

نیشا راؤ کا مزید کہنا تھا کہ اس معاشرے میں لاء ضرور ہیں لیکن ضروری ہے کہ ہسپتال میں ان کے لیے الگ وارڈز بنائے جائیں جبکہ جیل میں بھی اگر

کوئی قیدی ہوتو انہیں مردوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے میں ان سب معاملات پر کام کرنا چاہتی ہوں کہ میری کمنیوٹی کے لوگ بھی آگے آسکیں اور تعلیم کے

شعبے میں آگے بڑھ سکیں ،ہنر سیکھ سکیں معاشرہ بہتر طریقے سے قبول کرسکیں ،نیشا راوٗ نے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ٹرانس جینڈر کے

حوالے سے یہ غلط تاثر لیا جاتا ہے کہ صرف کمانے یا شوقیہ  خواجہ سرا کا روپ دھار لیتے ہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔

نیشا راؤ نے سوال کے جواب میں کہا کہ گورمنٹ کو چاہیے کہ ٹرانس جینڈر کے لیے بہتر لاء بنائے جائیں تاکہ جرائم پیشہ افراد خواجہ سراؤں  کو درندگی یا

تشدد کا نشانہ نا بنا سکیں،راوا نے نیشا کے استاد سے بھی بات کی مدثر اقبال چودھری کا کہنا تھا کہ جب نیشا کی خواہش کو دیکھا کہ وہ اپنی کمیونٹی کے

لیے کچھ کرنا چاتی ہیں تو انہیں وکالت کا مشورہ دیا اور نیشا نے اپنی محنت سے ثابت کردیا کہ وہ ایک مثال ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مدثر اقبال کا کہنا تھا کہ لوگ تو باتیں  کرتے ہی ہیں بہت سے لوگوں نے مجھے سراہا اور کچھ لوگ آج تک تنقید کرتے ہیں کہ میں

نے کسی خواجہ سرا کو سپورٹ کیا۔ لیکن لوگ تو بات کرتے ہی ہیں میں نے معاشرے کو ایک بہت بہتر شخصیت دے دی ہے اب آگے حالات بہتر ہی ہونگے ۔

نیشا راوٗ نے تو اپنی محنت اور لگن سے اپنی اندھیر زندگی کو تعلیم کی کے دیے سے روشن کرلیا ہے اور ر معاشرے کے لیے خود کو روشن مثال بنالیا

اب معاشرے کو بھی دل بڑا کرکے ٹرانس جینڈر کو بھی قبول کرنے کی ضرورت ہے،ضرورت ہے اس سوچ کی کہ خواجہ سرا کو بھی انسان سمجھا جائے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *