خواجہ سرا بعد میں وہ انسان پہلے ہے

خواجہ سرا بعد میں وہ انسان پہلے ہے

47 views

خط جو میں نے لکھا انسانیت ک نام پر، ڈاکیا ہی مرگیا ،پتہ پوچھتے پوچھتے۔۔

صبحین عماد

خواجہ سرا۔۔ ۔یہ ایک ایسا نام ہے جسے سنتے ہی سامنے والے کو لگتا ہے  جیسے کوئی اچھوت بات یا گالی استعمال کی ہو ۔ہم ایک آزاد ملک میں سانس لے

رہے ہیں ہر چیز کا حق حاصل ہے لیکین ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اپنے بنیادی حقوق تو دور انسان تسلیم کیے جانے کے حق سے بھی محروم ہے ۔

اس معاشرے میں جہاں ہمیں تو آزادی راۓ کا حق حاصل ہے وہیں یہ ایک طبقہ جنہیں لوگ خواجہ سرا ،ہجڑا ،اور ناجانے کن کن الفاط سے نوازتے اور جانتے

ہیں ۔خواجہ سراوں کی زندگی پر اگر بات کی جاۓ یا ان کے مسائل کی طرف ذرا سی نگاہ کی جاۓ تو ہر ایک مسکراتے سجے بنے چہرے کے پیچھے اسقدر

درد ناک کہانی اور تلخ یادیں چھپی ہیں کہ سننے والا اپنے آنسوؤں پر قابو نا رکھ پاۓ ۔

کہتے ہیں پرایا مارے تو دھوپ میں ڈالے گا اور اپنا مارے گا تو چھاوٗں میں ڈالے گا لیکن ان خواجہ سراؤں کی درد بھری زندگی ،نفرت کا پہلا بیج ہی ان کے

اپنے بو دیتے ہیں جن کے اپنے ہی اپنانے سے انکاری ہوں تو پھر زمانے سے کیا شکوہ ۔

شاید ہم اسقدر بے حس ہوچکے ہیں کہ ہمارے سینوں میں نا کبھی ان کے لیے ہمدردی جاگی ہے نا ہی ہم میں سے کسی نے ان کے دکھوں کی طرف نگاہ کی ہے۔

خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا ایک ایسا طبقہ ہے جو پیدایش سے لیکر مرنے تک صرف غم،تکلیف،تذلیل کے سوا اپنے دامن میں کچھ نہیں سمیٹتا،تپتے صحرا

میں کسی پیاسے کی طرح یہ بھی خوشیوں کی بوند بوند کو ترستے ہیں ہر ایک کی نگاہ میں اپنے لیے حقارت،ہوس،تذلیل دیکھنے سننے سہنے کے باوجود ہر

رات خود کو سنوارتے سجاتے ہیں کہیں بھیک مانگتے ہیں تو کہیں کسی کی ہوس پوری کرتے ہیں ۔

 مار کھاتے ہیں  گالیاں کھاتے ہیں قتل ہوجاتے ہیں ۔

پاکستانی معاشرے میں اس کمیونٹی کے حوالے سے یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہ صفائی پسند اور حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری نہیں کرتے۔ ایسے

ہی دوسرے مسائل کی وجہ سے یہ عام زندگی کے مرکزی دھارے سے بہت دور ہیں۔ ان میں سے تقریباً نوے فیصد بطور سیکس ورکر روزمرہ کے اخراجات

کو پورا کرتے ہیں جب کہ تقریباً آٹھ فیصد کے روزگار کا انحصار شادی بیاہ یا سالگرہ یا بچے کی ولادت پر ڈانس کرنے پر ہے۔

گھر میں شادی بیاہ کی تقریبات ہو یا کسی کے ہاں بچے کی پیدایش ہو خواجہ سراؤں کو بلایا جاتا تھا شاندار محفل سجتی تھیں  یہ ناچ گانا کرکے ڈھیروں دعائیں

دیتے تھے اور یہی ان کا ذریعہ معاش ہوا کرتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت بدلا لوگوں کی سوچ بھی بدلی اور اب لوگ انھیں دیکھتے ہی نظریں  پھیر لیتے ہیں

ان کا گھر بلانا تو دور دروازے پر بھی بھیک کے لیے آنے والے خواجہ سرا کو لوگ برا بھلا کہہ کر لوٹا دیتے ہیں ۔

حکومت کی طرف سے بھی ان کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان کی تربیت اور تعلیم کے  لیے ایسے مراکز بھی نہیں جہاں یہ کوئی ہنر

سیکھ کر اپنا معاش کما سکیں۔ایسے میں ان کے پاس بھیک مانگنے اور سیکس ورکرز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔

معاشرے کا یہی رویہ ان کے بدترین استحصال کا باعث بن گیا ہے۔

معاشرے کے تلخ اور غیر انسانی رویوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کی معاشی حالت بھی نہایت نا گفتہ بہ ہے۔ہمارے سماجی رویوں کی وجہ سے نہ وہ کسی

ادارے میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعلیم ان کا مقدر بن پاتی ہے ۔معاشی طور پرانہیں کنارے سے لگا دیا گیا ہے جبکہ  اگر کوئی اپنی محنت لگن سے آگے

نکل آۓتو یا تو اسے قبول نہیں کیا جاتا یا اسے اپنی جان سے ہی ہاتھ دکھونے پڑ جاتے ہیں۔

ملک بدل رہا ہے لوگوں کی سوچ بھی بدل رہی ہے لیکن نہیں  بدل رہا تو وہ ہے نظریہ انسان کو انسان سمجھنے کا نظریہ ہمارا معاشرے اور معاشرے کے

لوگوں نے انسان اور انسانیت کو صرف رنگ نسل ذات پات تک ہی محدود کردیا ہے۔ اپنوں کو کھونے اور رشتوں کے ٹوٹنے پر انہیں بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی

ہے جتنی دوسرے لوگوں کو،ان کے بہن بھائی ان سے رابطہ رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ماں باپ پیدا کرکے اپنانے سے انکار کردیتے ہیں انہیں اپنے ماتھے کا

کلنک سمجھتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس معاشرے کے ماتھے کا کلنک خواجہ سرا نہیں بلکہ وہ بہن بھائی اور والدین ہیں جو معاشرے کے خوف سے انہیں خود

سے جدا ہونے پہ مجبور کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *