گزارش ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں: ترک صدر

گزارش ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں: ترک صدر

48 views

ترکی کے  صدر رجب طیب ایردوان نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔

غانیہ نورین

فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیان اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف مسلم ممالک متحرک ہوگئے ، مسلم دنیا میں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد

فرانسیسی صدر کیخلاف سرآپا احتجاج ہے وہیں کچھ ممالک نے مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کردیا۔

کویت ، اردن اور قطر کے شاپنگ مالز اور دوکانوں سے فرانس کی اشیاء کو ہٹادیا گیا وہیں ترک صدر نے بھی عوام سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا

اعلان کردیا ہے۔

ترکی کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن ٹی آر ٹی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ  کے  ملت کنونشن سینٹر  میں  ہفتہ عید میلاد النبی کے افتتاحی

پروگرام سے خطاب کے دوران فرانسیسی صدر ماکروں کے اسلام مخالف بیانات کے جواب میں  عالمی سربراہوں سے  درخواست کی  کہ اگر فرانس میں

مسلمانوں کے خلاف ظلم  روا رکھا جا رہا ہے تو آئیے مل کر اس کی تلافی کریں۔

صدر ایردوان نے فرانس پر اس وقت ذہنی طور پر مفلوج ایک شخص کی حکمرانی ہے جس نے دین اسلام پر بد کلامی اور بے حرمتی کا بازار گرم کر رکھا

ہے میری ترک عوام سے گزارش ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

 انہوں نے برلن میں گزشتہ ہفتے ایک مسجد پر پولیس چھاپے سے متعلق چانسلر مرکل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں تو آذادی مذہب کا کافی

پرچار ہوتا ہے  اور جسے وہاں  سرکاری سر پرستی بھی حاصل ہے تو کیا وجہ ہے کہ  جرمن پولیس کے ایک سو اہلکار نماز فجر کے وقت مسجد پر دھاوا بول

دیتے ہیں ،کیا کسی نے ترکی میں اس قسم کی حرکات کا مشاہدہ یا تجربہ حاصل کیا ہے نہیںٖ کیونکہ صحییح معنوں میں دینی آزادی کا اطلاق ہمارے یہاں ہے۔

صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام اور مسلم دشمنی  کی  سر پرستی اب یورپی رہنماوں کے منشور میں  شامل ہو چکی ہے، یورپی رہنما فاشسٹ ہیں اور

حقیقی معنوں میں نازی ازم  کی کڑی ثابت ہو رہے ہیں،حالیہ ایام میں پیش آئے واقعات ، صدارتی عہدے پر  فائز سربراہوں کی بد تہذیبی اور نماز فجر کے وقت

مسجد پر پولیس کا دھاوا ہمارے لیے غیر معمولی واقعات نہیں ہیں بلکہ ہم  ساٹھ لاکھ کی مسلم آبادی کے حامل ملک کے صدر کو  خبردار کر رہے ہیں کہ اسلام

دشمنی  روا رکھنے کے کچھ  ہاتھ نہیں آئے بلکہ تباہی مقدر بن جائے گی ۔

اس سے قبل بھی ترک صدر نے فرانسیسی ہم منصب کو اسلام مخالف بیان دینے پر دمافی مریض قرار دیا تھا انکا کہنا تھا کہ فرانس کا صدر بوکھلاہٹ کا شکار

ہے ، یہ حقیقی معنوں میں ایک مریض ہے۔

خیال رہے کہ 17 اکتوبر کو فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ایک حملہ آور نے استاد کا سرقلم کر دیا تھا۔ تاریخ کے استاد سیموئیل پیٹی  نے مبینہ طور پر

اپنے طلبہ کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھائے تھے۔ واقعے پر ردعمل میں فرانسیسی صدر نے اس کو دہشت گردی کا عمل قرار یتے ہوئے کہا تھا

اسلام بطورمذہب بحران کا شکار ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *