بینکوں کو ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی منتقلی کا آسان طریقہ کار متعارف

بینکوں کو ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی منتقلی کا آسان طریقہ کار متعارف

41 views

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو مکمل اختیار کے ساتھ ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی منتقلی کا شفاف اور آسان طریقہ کار متعارف کرا دیا۔

بینک دولت پاکستان نے پاکستان میں کمپنیوں کو ڈس انوسٹمنٹ آمدنی اپنے غیرملکی حصص داروں کو بآسانی منتقل کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک نیا

طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا کر اور کاروبار کرنے کی آسانی کو تقویت دے کر پاکستان کو سرمایہ کاری کے

لیے ایک پُرکشش مقام بنانا ہے۔ نیا طریقہ کار سرمایہ کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے صلاح مشورے کے ساتھ تشکیل دیا گیا ہے۔

سابقہ طریقہ کار میں مقرر کردہ بینک کو فہرستی تمسکات کے لیے مارکیٹ کی قیمت سے زیادہ اور غیرفہرستی تمسکات کے لیے بریک اپ قیمت سے زیادہ

ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی ترسیل کی خاطر اسٹیٹ بینک کی منظوری درکار ہوتی تھی۔ اس شرط کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو متعدد رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔

نئے طریقہ کار کے تحت کمپنی کے مقررکردہ بینک کو ایک آسان طریقے پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک سے رجوع کیے بغیر مطلوبہ دستاویزات جمع

کرانے پر تمام ڈس انوسٹمنٹ آمدنی غیررہائشی حصص داروں کو منتقل کرنے کا اختیار سونپ دیا گیا ہے۔مطلوبہ دستاویزات کی تعداد ٹرانزیکشن کے حجم کے

مطابق ہوگی۔

ڈس انوسٹمنٹ کی اس آمدنی کے لیے جو مارکیٹ قیمت؍بریک اپ قیمت سے متجاوز نہ ہومطلوبہ دستاویزات میں یہ شامل ہیں: شیئر پرچیز ایگریمنٹ کی نقل

کوٹیڈ شیئر کی صورت میں بروکر کا میمو؍غیرفہرستی حصص کی صورت میں ایک فعال کیو سی آر کے حامل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا بریک اپ ویلیو سرٹیفکیٹ

کمپنی کے تازہ ترین آڈٹ شدہ مالی گوشوارے، دستخط شدہ ایم فارم اور خریدار کی طرف سے یہ حلف نامہ کہ اگر ٹرانزیکشن متعلقہ فریقوں کے درمیان ہے تو

اسے آرمز لینتھ بنیاد پر چکا دیا گیا ہے۔

ڈس انوسٹمنٹ کی اس آمدنی کے لیے جو مارکیٹ قیمت؍بریک اپ قیمت سے متجاوز ہو اضافی مطلوبہ دستاویزات یہ ہیں: خریدار کی جانب سے تفصیلی

ویلیوایشن؍ٹرانزیکشن کی جانچ پڑتال جس میں ویلیوایشن کی بنیاد، طریقہ اور اہم ویلیوایشن میٹرکس شامل ہوں۔ اگر ڈس انوسٹمنٹ آمدنی کی مجموعی ترسیل چھ

ماہ کے عرصے کے دوران 50 ملین ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں اس کے مساوی) سے زیادہ ہو تو درخواست گزار خریدار کی آزادانہ ویلیو ایشن جو ایک کیو

سی آرکے حامل فعال چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے کرائی گئی ہو بھی جمع کرائے گا، جسے مقرر کردہ بینک جانچے گا اور اسٹیٹ بینک کو بھیجنے کی ضرورت نہیں

ہوگی۔

اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھائے گا اور مقامی کمپنیوں خصوصاً نئی کمپنیوں کو اپنے کاروبار کے لیے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری لانے

میں سہولت فراہم کرے گا۔ ان اقدامات کا اعلان بینکوں کو جاری کردہ سرکلر میں کیا گیا ہے جو اس لنک پر دستیاب ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *