مجھے ہاتھ مت لگانا

مجھے ہاتھ مت لگانا

124 views

کہاں سے لاوں میں وہ دور جس میں آزادی ہو ،امن ہو ،برابری ہو اور سب سے بڑھ کر عورت ایک گالی نہیں بلکہ عزت ہو،کیا نہیں ہورہا زمانے میں کہانی شروع تو ہوجائے پر ختم کہاں ہوگی ،نا ملک نا گلی نا محلہ نا ہی اپنا گھر محفوظ تو کہاں ختم کریں کہانی کو قبر میں؟ کیا واقع عورت قبر میں محفوظ ہوگی ،یا وہاں بھی یہ انسانی جسم میں چھپے درندے بھیڑیے اس کی لعش تک کو نوچ ڈالیں گے ؟

تحریر: صبحین عماد

اس کی روح تو نہیں ہوگی جسم میں لیکن بد قسمتی سے مردہ جسم موجود ہوگا تو ہوس کے پوجاریوں کا کام تو چل جائے گا ،کیوں کہ ہوس کی آگ بجھانے کے لیے ان مرد نما بھیڑیوں نے عمر کی کوئی قید ہی نہیں رکھی ،وہ چار 6 ماہ کی بچی بھی ہوسکتی ہے جوان لڑکی سے شادی شدہ عورت بھی ،نہیں تو 80 سال کی بوڑھی بھی ۔

ہوس کہاں دیکھتی ہے کہ عمر رنگ نسل ذات پات جنس کیا ہے ۔

حیران ہوں میں زمانے کے اس انداز سے اس چال چلن سے جہاں بیٹی کو ہر ظلم پر خاموش رہنے کو تلقین کی جاتی ہے مگر اپنے بیٹوں کو کیوں نہیں بتایا کہ اکیلی لڑکی مال نہیں ہوتی بلکہ ذمیداری ہوتی ہے ،کیوں مائیں ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو چھپا کر سمیٹ کر رکھتی ہیں کیوں بیٹوں کو شرم و حیا کا سبق یاد نہیں کروایا جاتا ، کیوں ماؤن نے یہ نہیں سکھایا بیٹی کو کہ کوئی غیر مرد چاہے چاچا ماموں خالو،کزن کوئی بھی ہو ہاتھ لگائے تو چلاو اور کہو کہ مجھے ہاتھ مت لگانا کیوں یہ ہمت نہیں دی گئی بیٹیوں کو کہ کوئی بری نظر سے دیکھے تو نظریں چرانا نہیں بلکہ شور مچانا ہے ۔

یہ کسی ایک دور یا ایک نسل کا مسئلہ نہیں یہ نسل در نسل چلنے والا وہ نظام ہے جس کو ہر بدلتے دور میں مزید بہتر کی جگہ خراب کردیا گیا ہے۔

یہ کیسا رواج ہے کہ لڑکی ہے تو باہر نا جائے ،پڑھیں لکھے نا،گھر میں رہے کچن میں دل لگائے ،ہر ایک کی اچھی بری گندی ناپاک نظریں خاموشی سے سہے اور گھٹ گھٹ کے ایک گھر سے دوسرے گھر جائے اور پھر مر جائے ۔

والدین کو چاہیے ایسی زندگی دینے سے بہتر ہے پرانا دور ہی دہرائیں اور بیٹی کو جنم دیتے ہی زندہ گاڑ دیں ۔

پھر نا ریپ ہونگے،نا یہ رونا ہوگا کہ اکیلی گھر سے کیوں نکلی نا مردوں کے اعضاء کاٹنے کی مہم چلے گی نا ہوس کی آگ جلے گی نا کوئی حواء کی بیٹی رسوا ہوگی شاید ہمارے لیے یہی بہتر ہے ۔

اب تک ملک میں جتنے بھی زیادتی کے کیسز ہوئے ہیں ان میں قصور عورت کا ہی ہوتا ہے کیوں رات کو گھر سے نکلی ،کیوں گڑیا کو تھامے ننھی بچی گلی میں کھیل رہی تھی ،کیوں تعلیم حاصل کررہی تھی ،کیوں آخر کیوں بیٹی پیدا کی،کیوں بیٹی کو اتنی چھوٹ دی یہ تو ہونا ہی تھا مرد تو مرد ہیں وہ تو بھٹک ہی جائیں گے ۔

ایسے کتنے ہی جملے میرے اور آپکے کانوں سے ٹکرائے ہونگے لیکن ہم نے وہی کیا ہوگا جو اس زمانے کی ہر عورت کرتی ہے خاموش رہ کر صبر کا گھونٹ پیا ہوگا ، راہ چلتے جب کسی کی نظروں نے جب جسم کو تار تار کیا ہوگا تو برداشت کا آنسو دل میں گرا ہوگا لیکن مجبور کہ جواب تو دور ایک آہ بھی نا بھری ہوگی کیوںکہ کون نہیں جانتا ہر ریپ، زیادتی کے پیچھے کہی نا کہی لڑکی کی غلطی ہوتی ہے ،لڑکی نا ہوئی چلتی پھرتی ماچس ہوگئی جیسے ہی جہاں جہاں سے گزرے گی مرد کی دردنگی کی آگ جل جائے گی اور مرد نا چاہتے ہوئے بھی ریپ کر بیٹھے گا ۔

توٹھیک ہے پھر اس غلطی کو گناہ بننے سے پہلے اب روکنے کی کوشش کرتے ہیں اب مظلوم بننے سے پہلے طاقتور بن جاتے ہیں پھر اس مردوں کے زمانے میں برابری کا انصاف بھی کرنا ہوگا اگر غیرت کے نام پر کوئی عورت قتل ہوئی تو اب مرد کو بھی مرنا ہوگا، اسی طرح شاید میں آپ یا ہم جیسی کوئی بچ سکے کوئی ہاتھ لگائے تو ڈر کے رونا نہیں بلکہ چیخ کے صرف یہ کہنا ہوگا مجھے ہاتھ مت لگانا۔۔مجھے ہاتھ مت لگانا۔۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *