تعلیمی نظام میں تین بنیادی چیزیں

تعلیمی نظام میں تین بنیادی چیزیں

148 views

آجکل ساری دنیا تعلیم کے بارے میں بات کر رہی ہے کہ یہ تعلیم دراصل ہوتی کیا ہے اس کی تعریف کی جارہی ہے۔

تحریر: سید حمزہ گیلانی

جیسا دنیا میں کوئی نئی چیز آتی ہے تو اس کے بیس تیس سال بعد اس کو رد کیا جاتا ہے مثال کے طور پر ایک دوائی تیس سال سے کھا رہیں ہیں لیکن آج تحقیق کے بعد پتہ چلا اس کے فائدے کم ہیں اور نقصانات زیادہ ہیں۔

تو تعلیم کو بھی دنیا نے کئی باربتایا گیا ہے لیکن تین چیزیں ہر دور میں مشترک ملی ہیں وہ دس ہزار سال پہلے کا دور ہو یا جدید دور ہو جس میں بڑا مشکل ہے خیر اور شر نے فرق کرنا لیکن تین چیزیں سب میں مشترک ہیں۔ وہ دنیاوی تعلیم ہیں یہ دینی تعلیم ہو اگر وہ تین چیزیں نہ ہوں تو وہ تعلیم تعلیم نہیں بلکہ جاہلیت ہو سکتی ہے۔ اب ذرا سوچیں وہ تین چیزیں ہم میں ہیں یا نہیں اگر ہیں تو ہم ایک آکسفورڈ سے پڑھے ہوئے سے بہتر ہیں۔

جدید دور میں یہ تین چیزیں 3 سی کے نام سے مشہور ہیں۔

اگر تعلیم میں 3 سیسز ہیں تو تعلیم تعلیم ہے اگر نہیں ہیں تو وہ جاہلیت ہے خواہ وہ تعلیم کہیں سے بھی حاصل کی گئی ہو سرکاری سکول سے یا دینی مدرسے سے یا انگریزی اسکول سے يا تو ماں سے اگر ان میں3 سیسز ہیں تو وہ تعلیم تعلیم ہے۔

اب 3 سیسز ہیں کیا؟

پہلا سی

تعلیم اک ایسا عمل ہے جس سے بچوں نے پہلا سی ڈال دیا جاتا ہے پہلے کا نام کونفیڈینس/اعتماد ہے۔ اعتماد کے بغیر تعلیم تعلیم نہیں ہے یہ جدید دور میں ایک انگریز تحقیق کر کے کہ رہا ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ ایک مومن اور مسلمان کے پاس جو اعتماد ہے وہ دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے ایمان دنیا کا سب سے بڑا اعتماد ہے۔

دوسرا سی

دوسرے سی سے مراد کریٹو ہے۔

عنی خود سے سوچنے والا سوچ کو پیدا کرنے والا راستہ بنانے والا بنے بنائے راستوں کے بجائے اگر کچھ خود سے کرنا پڑھ جائے تو کسی کا محتاج نا ہونا پڑھے وہ تعلیم یافتہ ہے۔ دنیا میں جتنی بھی ایجادات ہیں وہ دوسرے سی والے لوگوں کی ہیں۔

اگر یہ کُچھ نیا کرنے والے لوگ نہ ہوتے تو دنیا میں کوئی جدت نہ آتی۔

دوسری سی کو کیوں کہا جاتا ہے تا کہ آپ کا ذہن امکانات کی دنیا میں رھے یعنی تعلیم یافتہ انسان امکانات کی دنیا میں رہتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرا راستہ بند نہیں ہوتا کیوں کے رب کریم نے وسائل باہر اور میری ذات کے اندر پیدا کر رکھا ہے تو وہ سوچتا ہے میرے لئے کوئی دروازہ نہیں بند ہو سکتا ہاں ممکن ہے تھوڑا انتظار کرنا پڑے،صبر کرنا پڑے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ میرے رب نے وسائل کو میرے اندر پیدا نہیں کیا۔

اس دنیا میں بہت ساری ذرائع ہیں امکانات والے ذہن کے لئے کمانے کے تو تعلیم اس عمل کا نام ہے جو آپ میں اعتماد پیدا کرے۔

تیسرا سی

اگر تعلیم کریکٹر / کردار پیدا نہیں کرتی تو وہ تعلیم تعلیم نہیں ہے۔

اگر پڑھ لکھنے کے بعد کوئی ایماندار نہیں ہوا وقت کا پابند نہیں ہوا تو وہ تعلیم نہیں ہوسکتی یہ کون کہہ رہا ہے انگریز تحقیق کر کے کہ رہا ہے۔لیکن وہ تحقیق کر کے یہ بھی کہہ رہا ہے ایک وقت ایسا تھا جس میں بیٹھے ہوئے ہر شخص میں تین چیزیں پیدا ہو گئی تھیں اور وہ وقت آج سے چودہ سو سال پہلے کا تھا اور وہ ہمارے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کی تھیں۔

اس تعلیم کا وہ نتیجہ ہوا کہ وہ کردار سامنے آئے جنکو ہم نصاب میں پڑھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔

غنی کیا ہوتا ہے عثمان غنی کو دیکھ لیں عدل کیا ہوتا عمر فاروق کو دیکھ لیں وفا کیا ہوتی صدیق اکبر کو دیکھ لیں شجاعت کیا ہوتی علی کی شجاعت کو دیکھ لیں سو کتابیں پڑھنے سے بہتر ہیں آپ ان اصحاب کی زندگی کو پڑھ لیں۔

تیسرا سی  دو وجوہات کی بنا پر پیدا کیا جا سکتا ہے۔

پہلا طریقہ، سسٹم مضبوط ہو تو لوگوں میں کردار پیدا ہو جائے گا۔

دوسرا طریقہ، رول ماڈل کردار پیدا کرتا ہے۔

تو بس ہمیں اپنا رول ماڈل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنانا ہوگا ان کی زندگی کو پڑھنے سے انسان میں یہ تینوں چیزیں اعتماد، کردار اور کچھ نیا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔

رزق کا رازق خدا ہے وہ رزق دے گا لیکن ہمیں اپنے کردار کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے بہت پڑھے لکھے جاھل دیکھے ہیں میں نے۔ اگر ہم دین السلام کے مطابق زندگی گزاریں ہیں کام کریں گے تو بہت سارے معملات ختم ہوجائیں گے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *