انگلیاں اٹھانے والے،کامیابی دیکھ کر تالیاں بجائیں گے

انگلیاں اٹھانے والے،کامیابی دیکھ کر تالیاں بجائیں گے

190 views

کسی زمانے کا تذکرہ ہے یہ کہ جب گولی ،بم ،بارود ،ریڈ زون ایریا ،ہر طرف گولیوں کی گھن گرج اور چاروں طرف جنگ کا سماں،ڈرے سہمے چہرے ،تعلیم سے نا آشنا لوگ، کون سی گولی کس کو کب لگ جائے کوئی نہیں جانتا ،خون بس خون خرابا اور بس شاید میری طرح آپ نے بھی لیاری کے حوالے سے یہی سب سن رکھا ہوگا کہ شاید ایسا ہی ہے لیاری وہاں کے لوگ خطرناک اور جو جائے واپس نا آسکے جیسے حالات ہیں لیاری کہ جبکہ حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔

فہمیدہ یوسفی

لیاری میں رہنے والے لوگ نوجوان نسل بھرپور ہنر کے ساتھ اپنے علاقے اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں کوشان ہیں۔

لیاری کے بچے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل میں ایسے کے کسی کو بھی با آسانی چاروں شانے چت کردیں ،چاہے لیاری کو لوگ بھول گئے ہوں لیاری کو گینگ وار ،یا ریڈ زون کا نام دیکر بلکل شہر سے کاٹ دیا ہو لیکن وہاں کی نوجوان نسل کے حوصلے ،برے حالات ،دہشت گردی کے بعد بھی پست نا ہوسکے بلکہ آج بھی وہاں موجود ننھی بچیاں اپنے باپ کا ہاتھ تھامے باکسنگ جیسے مشکل ترین کھیل میں مہارت حاصل کررہی ہیں ،ایسی ہی پیاری اور بہادر باکسر بہنوں سے راوا کی ٹیم نے کی ملاقات ۔

 بائیس سالہ نمرہ نثارچوڑیوں اور مہندی کی عمر میں ہاتھ باکسنگ گلوز پہنے ایک مشکل ترین کھیل کو اپنا جنون بنائے کامیابی کی سیڑھی چڑھ رہی ہے ۔

نمرا نے راوا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے والد سے سیکھا اور انہی سے یہ شوق میرے اندر بھی آیا ،ان کا کہنا تھا کہ جب لوگوں نے رشتہ داروں میرے اس شوق کے بارے میں سنا تو والد کو بہت باتین سنائی ۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں بیٹی کو پڑھانے کے لیے لوگ ڈرتے ہیں ،اس زمانے میں تم بیٹی کو پاکسر بنا رہے ہو لیکن والد نے ہمت نہیں ہاری اور مجھے خود ٹریننگ دی اور آج میری اور میرے والد کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے جو میں آج میرا نام باکسنگ میں 8ویں نمبر پر ہے۔

نمرا نے راوا نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں انٹرنیشنل لیول پر کھیلنا چاہتی ہوں اگر حکومت ساتھ دے اور بہتر اقدامات کیے جائیں تو دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرسکتی ہوں۔

نمرا نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی کھیل سے وابستہ رہیں ہیں اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ وہ ہمیں سپورٹ کریں تاکہ میں بھی ملک کا نام روشن کرسکوں ۔

نمرا نے اس نوجون نسل اور خاص لڑکیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں آج کل کے ماحول کی وجہ سے خود کو آگے بڑھنے سے روکتی ہین ہمت کریں اور اگر کچھ کر دکھانے کو جنون ہے تو وہ کچھ بھی کرسکتی ہیں تو بس ہمت نا ہاریں ۔

راوا نیوز نے نمرا کی مزید 3 بہنوں سے بھی ملاقات کی جو نمرا کی ہی طرح باکسنک کے شعبے سے ہی منسلک ہیں اور اپنے والد اور بہن کی طرح باکسنگ جیسے خطرناک کھیل میں اپنا مقام اور نام بنانا چاہتی ہیں،تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو فروغ دینے اور اس ملک کا نام روشن کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

راواء نیوز کی ٹیم نے نمرا کے والد سے ان کی بیٹیوں کے حوالے سے بات کی اور پوچھا کہ اس مشکل سفر پر ان کا تجربہ کیسا رہا ،جس پر نمرا کے والد نے بتایا کہ میری بیٹیاں شروع سے ہی گھر میں رہنی والی اور ڈری سہمی سی رہتی تھی ۔

اعتماد کی بے تحاشہ کمی تھی لیکن پڑھنے کا شوق تھا تو کہتی تھی کی ہمیں کالج جانا ہے ،میں سوچتا تھا کہ یہ کیسے اس ظالم اور سخت معاشرے کا مقابلہ کریں گی بس وہی سے میں نے سوچا کے ان کو باکسنگ سکھاؤنگا ۔

نمرا کے والد کا کہنا تھا کہ میری بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہیں اور آج میں نے ان کو اس قابل کردیا ہے کہ وہ زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چل سکتی ہیں ۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے ،غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے وہاں نثار اور نصیب جمال جیسے باپ بھی موجود ہیں جو اپنی بیٹیوں اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے اپنی مدد آپ سے کوشش کررہے ہیں تاکہ بیٹیوں کو اعتماد کے ساتھ ساتھ کچھ کر دکھانے کا حوصلہ دے سکیں اور بیٹی کو بوجھ سمجھنے والے یہ جان لیں کہ بیٹی کو اگر ہمت و حوصلہ دیا جائے تو وہ بھی بیٹوں سے کم نہیں ہوتی ۔

ایسے مستقبل کے معماروں کو اگر حکومت سپورٹ کرے اور کھیل کے شعبے کو بھی توجہ دی جائے تو اس ملک میں ایسے نایاب اور گوہر ستارے موجود ہیں جو اپنے ہنر اور محنت سے اس ملک کو دنیا بھر میں ایک نئی پہچان اور کامیابی کی بلدیوں تک لے جاسکتے  ہیں لیکن ضرورت ہے اس امر کی کہ کھیل کو بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی باقی شعبوں کو حاصل ہے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *