ہزارہ برادری کا ماتم کب تھمے گا۔۔۔؟؟

ہزارہ برادری کا ماتم کب تھمے گا۔۔۔؟؟

100 views

جہاں نظر کرو وہاں مسائل کا ایک ڈھیر لگا ہوا ہے اور اگر ایک ایک کرکے ان مسائل کی طرف باریکی سے نظر ڈالیں توایک اور گھمبیر معاملہ سامنے آتا ہےاور وہ یہ ہے کہ حکومتی اہل کار اور ادارے بلوچستان اور بالخصوص کوئٹہ جیسے کثیرالقومی اور کثیرالسانی خطے میں کیسے کسی قوم کے بارے میں بات کریں جس سے اس کی تذلیل یا دل آزاری نہ ہو۔

صبحین عماد

کیسے اس دکھ کی بات کی جائے جو ختم ہونے کا نام نہ لے رہا ہو سفر ہو منزل کی خبر ہی نہ مل رہی ہو پہلے تو بات کرلیتے ہیں کہ یہ ہزارہ برادری والے ہیں کون ؟

ہزارہ برادری ہیں کون ۔۔؟؟؟

تاریخ کے صفحات کو پلٹ کے دیکھیں تو پتہ لگتا ہے کہ تیرہویں صدی میں چنگیز خان کے افغان حملے کے بعد اس کے لشکر کے کچھ لوگ وہیں رہ گئے۔ ہزارہ انہی منگول فوجیوں کی اولادوں میں سے ہیں۔ افغانستان کے پشتون امرا نے ہزارہ آبادی کو افغانی کبھی تسلیم نہ کیا اور ان سے امتیازی سلوک روا رکھا

ہزارہ برادری زیادہ تر شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، جن کی مجموعی تعداد چند لاکھ ہے تاہم حالیہ کچھ برسوں میں ایران اور افغانستان میں غربت، تشدد اور معاشرتی عدم مساوات کے شکار ان افراد کی بڑی تعداد نے سویڈن کا رخ کیا ہے۔

Documentary on Hazara Community of Quetta - YouTube

ہزارہ برادری کو عموماً مذہب کی بنیاد پر طالبان اور دیگر شدت پسند سنی گروہوں کی جانب سے حملوں کا سامنا رہا ہے۔ سن 1996 تا 2001 تک افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دور میں اس برادری کے خلاف سخت اقدامات نے انہیں ایران اور پاکستان ہجرت پر مجبور کیا تاہم وہاں بھی ان کے خلاف پرتشدد واقعات تھمے نہیں در بدر کی ٹھوکریں اس برادری کا مقدر بن کر رہ گئیں کبھی کسی ملک تو کبھی کسی ملک میں پناہ گزیر بن کے رہنا ہی ان کی زندگی ہے۔

کوئٹہ میں ہزارہ آبادی تقریبا پانچ سے چھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ضیا دور میں جب فرقہ واریت کا جن بوتل سے باہر نکلا تو ہزارہ آبادی پر الزام لگایا گیا کہ انہیں ایران سے مدد ملتی ہے۔ اسی دور میں مسلکی بنیادوں پر جیش اور لشکر بنے جنہوں نے ملک میں قتل و غارت کے کلچر کو پروان چڑھایا۔ شیعہ ہزارہ آبادی بھی اسی ستم کا شکار ہے۔ پاکستان میں شعیہ ہزارہ کی نسل کشی پر طویل خاموشی طاری رہی ہے۔ہزارہ برادری کا دکھ آج بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا لاشیں ہیں کہ خود تھک گئیں ہیں پر ظالم ظلم سے نہیں تھک رہا ۔

ہزارہ کا دکھ

ہزارہ برادری پر ظلم تشدد اور قتل و غارت کے واقعات کی یہ کہانی کوئی پہلی بار نہیں ہوئی لعشوں کے ڈھیر ،کھلے آسمان تلے جنازے ،احتجاج ریلیاں وعدے دعوے محض باتیں ۔

Hazara genocide in Balochistan | The Financial Daily

کوئٹہ میں جاری ہزارہ قتل عام کے سرسری جائزے سے حقائق بالکل واضح ہوجاتے ہیں۔ جہاں شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو سبزی خریدنے پولیس اور ایف سی کے پہرے میں آنا پڑتا ہے، وہاں یہ کہہ دینا کہ یہ کوئی رینڈم سا دھماکہ تھا، جس میں یہ لوگ یونہی مر گئے ہیں یہ بہت ہی آسان ہے۔اب ایک ساتھ اتنی جانین ٹارگٹ کرکے ختم کردینا بھی عام سی ہی بات ہوگی اور پھر وہی سب ہوگا جو ہوتا آیا ہے احتجاج اور پھر خاموشی کچھ دن بعد یہ قصہ بھی باقی سانحات کی طرح دب جائیگا ۔

مچھ واقعہ

حال ہی میں ضلع بولان کی تحصیل مچھ میں یہ واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے کان کنوں کو قتل کردیا۔

واقعے کے بعد پولیس، ایف سی اور انتظامیہ کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی جبکہ قریبی کوئلہ کانوں کے مزدور جمع ہوگئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔

مزید پڑھیے: غریب کا خون سب سے سستا، دہشت گردوں کے حملے میں 11 مزدور شہید

صوبہ بلوچستان گزشتہ چند سالوں سے بدامنی کا شکار ہے اور یہاں سیکیورٹی فورسز پر حملے، دھماکے اور مختلف واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔

11 killed as armed men attack coal miners at Machh, Balochistan - Latest Breaking News | Top Stories |Sports |Politics |Weather

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ مچھ واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور دھرنا دینے والے مظاہرین سے ملاقات کے لیے کوئٹہ پہنچے۔

اس موقع پر شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا کہ مچھ سانحہ ظلم اور زیادتی ہے اس سانحے پر شرمندہ ہوں، دہشتگردوں نے چار مرتبہ مجھ پر بھی حملہ کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری گلی سے بھی 4 جنازے اٹھے ہیں۔

دوسری جانب واقعے کے خلاف ہزارہ برادری کا ہزارہ ٹاؤن کے قریب مغربی بائی پاس پرمیتیں رکھ کردھرنا جاری ہے۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری ورنہ مستعفی ہونےکا مطالبہ کیا ہے۔

تازہ ترین حالات

سانحہ مچھ کی قیامت کو 4 دن ہوگئے ،زمین پر قیامت برپا ہوئی لیکن طوفان اب تک تھما نہیں جنازے انصاف کے طلبگار ہیں،لواحقین اپنے پیاروں کو لیےبیٹھے ہیں خون جمانے والی سردی میں یہ آگ اگلتے آنسوں اور صدمے میں ڈوبی آہیں منتظر ہیں انصاف کی سانحہ مچھ میں 11 جاں بحق افراد کے ورثا کا دھرنا شدید سردی کے باوجود کھلے آسمان تلے میتوں کے ساتھ جاری ہے۔

Young boys hold up placards outside the KPC. —Fahim Siddiqi/Shakil Adil/White Star

احتجاج کرنے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ سبھی شامل ہیں۔ مظاہرین نے مغربی بائی پاس کو دونوں اطراف سے ٹائر جلا کر بند کررکھا ہے اور ہر قسم کے ٹریفک کی روانی معطل ہے۔

پیر منگل کی درمیانی شب وزیر داخلہ شیخ رشید اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری دھرنے کے شرکا سے مذکرات کے لیے پہنچے تو لواحقین نے وزیراعظم کی آمد اور صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے کی شرط عائد کی۔

مظاہرین نے ملزمان کی گرفتاری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا جسے شیخ رشید نے منظور کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی یقین دہانی کرادی تاہم مظاہرین نے دیگر مطالبات کی منظوری تک میتوں کی تدفین سے انکار کردیا۔

مظاہرین سے مذاکرات کے لیے منگل اور بدھ کی درمیانی شب وفاقی وزیر علی زیدی اور زلفی بخاری بھی پہنچے تاہم شرکا نے وزیراعظم کی آمد تک دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین سے انکار کردیا،علی زیدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین سے درخواست ہے کہ شہدا کی تدفین کردیں میں یقین دلاتا ہوں وزیراعظم عمران خان لواحقین سے ملاقات کرنے ضرور آئیں گے۔

سانحہ مچھ متاثرین کے حق میں اسلام آباد ڈی چوک میں بھی دھرنا دیا گیا جس کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کی۔ بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مچھ کے شہدا کے حق میں لاہور اور کراچی میں بھی دھرنے جاری ہیں، اگر کل تک کوئٹہ میں بیٹھے مظاہرین کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے احتجاجی دھرنے پورے ملک میں شروع کردیے جائیں گے، وزیر اعظم عمران خان خود جائیں اور کوئٹہ دھرنے میں بیٹھے مظلومین کے مطالبات سنیں۔

کراچی دھرنا

دریں اثنا کراچی میں بھی مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے مچھ واقعے کے خلاف کراچی میں بھی مختلف مقامات پر دھرنے دیے گئے جس کی وجہ سے کو کامران چورنگی، نارتھ کراچی کے علاقے پاور ہاوس، نمائش اور ابوالحسن اصفہانی روڈ پر جاری دھرنوں میں قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

دھرنوں کے سبب شہر قائد میں سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہا، گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، دفتر سے گھر جانے والے شہریوں نے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیا جبکہ متعدد گاڑیوں کا ایندھن ختم ہوگیا، ٹریفک پولیس کے افسران و جواں سڑکوں پر ٹریفک بحال کرانے کی کوشش کرتے رہے اور شہریوں کو متبادل راستے بتاتے رہے   شہر بھر میں آج بھی مختلف مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے جس میں شاہراہ پاکستان انچولی پر بھی احتجاجی دھرنا دیا جائیگا جبکہ شام تلک ناظم آباد میں بھی دھرنا جاری جبکہ شہر کہ 18 مقامات پر بھی دھرنے دیے جارہے ہیں جس میں عباس ٹاون ،نمائش چورنگی ،ملیر 15 ،نیپا چوورنگی پاور ہاوس چورنگی پورٹ قاسم ،کامران چورنگی جبکہ مرکزی دھرنا نمائش پر دیا جارہا ہے

مطالبہ ایک ہی ہے کہ انصاف دیا جائے یہ کھلے آسمان تلے رکھے جنازے اور سوگ میں ڈوبے لواحقین بس اسی ایک آس لیے بیٹھے ہیں کہ اب یہ قیامت روکی جائے کہ کب تک یوں ہی خون بہتا رہیگا اور ایسے ہی کتنے اور جنازے اٹھائے جائینگے ۔

ان خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کئی بچے یتیم ہوگئے، عورتیں بیوہ ہوگئی، بہنوں سے بھائی چھن گیا، بھائیوں کا بھائی چھن گیا، ماں باپ کا سہارا ٹوٹ گیا، لیکن انسان کو قتل کر کے کیا ملا؟ تو پھر ذرا سوچیئے، لواحقین نے تو تسلی بھرے وعدوں کی صداقت پر یقین کر لیا ہے، تو پھر آخر ان سوالوں کا جواب کون دے گا؟ آج بھی شہداء کے لواحقین جواب کے منتظر ہیں کہ وزیر اعظم آئینگے اور انصاف کا بول بالا ہوگا

فرقہ واریت زہر قاتل ہے جوپاکستان اور ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت نے ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دہشتگردی فرقہ واریت اور انتہا پسندی پاکستانی قوم کیلئے ایک ناسور کی حثیت رکھتے ہیں۔ایک خاص فرقہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے واقعات سے صاف پتہ چلتاہے کہ پاکستان کوشیعہ سنی کی جنگ میں دھکیلنے کی گھناؤنی سازشیں کی جارہی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *