فصیل شہر پر تازہ لہو کے چھینٹے ہیں: راوا اسپیشل

فصیل شہر پر تازہ لہو کے چھینٹے ہیں: راوا اسپیشل

2493 views

فصیل شہر پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں، حدودِ وقت سے آگے نکل گیا کوئی

فہمیدہ یوسفی

بس ایک  22 سالہ نوجوان جس نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہی ہوجس  کا  باپ  اسے دیکھ دیکھ کر خوشی سے نہال ہو کہ اس کا بیٹا اب اس کے قد سے اونچا ہوگیا ہے  ماں اس کی نظر    ۔اتارے اس  کے دلہا بننے کے  ارمان  دیکھے  بہن  اپنےبھائی  کی راہ تکے لیکن یہ کیا  کہ  خبر آئے کہ اس کے  سہرے کہ نہیں بلکہ اس کے کفن کا انتظام کرو  بس  اچانک زندگی سے بھرپور جوان جہاں  لڑکا  اندھی  گولیوں سے چھلنی  ہوگیا۔

سارے خواب، سارے ارمان ، سارے ارمان   کرچی کرچی  اور 22 سالہ اسامہ ستی اپنی جان سے چلا گیا ۔ تو یہ ماتم کس پر کریں کہ  یہ نوحہ  کس  کے نام لکھیں ؟؟ یہ گولیاں ایک بار پھر ان  بندوقوں  سے  چلی ہیں جنہیں ہمارا محاٖفظ بنایا گیا ہے۔

Police officers or terrorists?': Twitter up in arms over Osama Satti's death | The Express Tribune

یہ ہے ہماری  پولیس چاہے کراچی ہو  لاہور ہو یا پھر اب اسلام آباد  محافظوں کارویہ اور مزاج وہی  کل نقیب  آج اسامہ  نہ جانے آنے والے کل کس کا لعل ان گولیوں کے نشانے پرہوگا

ذہن اور دل  ماننے  کو تیار ہی نہیں کیا گاڑی نہ روکنے کی اتنی خوفناک  اور دردناک قیمت ادا کرنی پڑتی ہے   کہ گاڑی کا پیچھا کرکے نصف درجن کے قریب گولیوں سے بھون دیا جائے

اسامہ ستی قتل واقعہ کا پس منظر 

تفصیلات کے  مطابق  یہ انسانیت سوز واقعہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آیا جب  انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں کی طرف سے ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب علم اسامہ ندیم ستی کی ہلاکت ہوگئی فائرنگ کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ  گاڑی روکنے کے اشارے پر اسامہ نے ڈر کے گاڑی نہیں  روکی اور سکیورٹی اہلکاروں نے   پہلے سے موجود اطلاعات کے شہبے میں گولیاں  چلادیں  ۔

اس حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا  اور لواحقین  کے  کہرام  کے بعد  چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی نے عدالتی انکوائری کاحکم دیا۔

اسامہ قتل والدین کا موقف کیا ہے 

مقتول کے والد ندیم ستی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں ان پانچ اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’اسامہ نے گذشتہ روز ان سے ذکر کیا تھا کہ ان کی پولیس کے کچھ اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر انھوں نے یہ دھمکی دی تھی کہ ہم تمھیں مزہ چکھائیں گے۔
ایف آئی آر کے مطابق 2جنوری کی رات دو بجے کے قریب میرا بیٹا اپنے دوست کو ایچ الیون نزد نسٹ یونیورسٹی چھوڑنے گیا۔ واپسی پر مذکورہ بالا پولیس اہلکاروں نے اس کی گاڑی کا پیچھا کیا اور گاڑی کو ٹکر مارنے کے بعد فائرنگ کی جس سے میرا بیٹا موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

اسامہ  کے چچا کا موقف

راوا نیوز سے بات کرتے ہوئے اسامہ کے چچا کا کہنا تھا کہ ہمارا بچہ بے گناہ چلا گیا اب ہم انصاف کی جنگ آخری وقت تک لڑیں گے۔   دباؤ میں اپنے بچے کے خون کا قصاص کسی صورت قبول نہیں کریں گے، جبکہ انہوں نے وزیر اعظم  پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بے گناہ قتل کی جوڈیشل انکوائری،ہائی کورٹ یا اس سے اوپر درجے کی تحقیقات ہونی چاہیے

جبکہ  اسامہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش مزاج اور سلجھا ہوا بچہ تھا اور اپنےدوستوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارتا تھا اور اس کو اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور طریقے سے احساس تھا

پولیس کا موقف کیا ہے

دوسری جانب پولیس نے کہانی کو کچھ الگ  ہی انداز میں پیش کیا  ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ میں واقعے کی ابتدائی تفصیلات بتائی گئی ۔

ان کے مطابق پولیس کو رات کو کال ملی کہ گاڑی میں سوار ڈاکو شمس کالونی کے علاقہ میں ڈکیتی کی کوشش کر رہے ہیں، اے ٹی ایس پولیس کے اہلکاروں نے جو علاقہ میں گشت پر تھے، مشکوک گاڑی کا تعاقب کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیس نے کالے شیشوں والی مشکوک گاڑی کوروکنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے گاڑی بھگا دی پولیس نے متعدد بار جی 10 تک گاڑی کا تعاقب کیا نہ رکنے پر گاڑی کےٹائروں میں فائر کیے، بدقسمتی سے دو فائر گاڑی کے ڈرائیور کو لگ گئے جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ تاہم وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی گئی۔

انھوں نے کچھ دیر بعد ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ وقوعہ میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب 22سالہ اسامہ قتل کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان نے کی،  ڈیوٹی جج نے ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

مارواۓ عدالت قتل اسامہ ستی ایک اکیلا نہیں

اسامہ ندیم ستی کا تعلق کوٹلی ستیاں سے تھا اور وہ ایف ایس سی کے طالبعلم تھا اور اسلام آباد میں ہی رہائش پذیر تھا۔ وہ اپنے تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق اسامہ کی گاڑی پر مختلف اطراف سے تقریباً 17 گولیاں چلائی گئیں جبکہ ملزمان پر دفعہ 302 اور دہشتگردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسامہ کی یہ ہلاکت اوائل میں ساہیوال میں پیش آنے والے ایسے ہی ایک واقعے کی جانب اشارہ بھی کر رہے ہیں جس میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور دو بچے معمولی زخمی ہوئے تھے۔

سنہ 2019 میں ساہیوال کے قریب ہونے والے واقعے کے بعد بھی پولیس اہلکاروں پر دہشتگردی اور قتل کی دفعات لگائی گئی تھیں تاہم انھیں انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے بری کر دیا گیا تھا ، بدقسمتی ہماری یہاں  واقعات بدلتے رہتے ہیں لیکن حالات ویسے ہی رہتے ہیں جوں کے توں ۔

یاد  رہے کہ اسی  طرح کا ایک واقعہ کراچی میں بھی پیش آیا تھا جب رینجرز کے اہلکاروں نے ایک شخص سرفراز شاہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس واقعے کی ویڈیو مقامی میڈیا پر چلی تھی، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس بارے میں از خود نوٹس بھی لیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی متعقلہ عدالت کو جلد از جلد اس مقدمے کو نمٹانے کا حکم دیا تھا۔

جبکہ کون  بھول سکتا ہے حیات بلوچ کو جب تربت میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے مقام کے قریب اپنے والدین کے ہمراہ موجود تھے اور دھماکے کے بعد ایف سی کے اہلکاروں میں سے ایک نے انھیں گولی مار دی تھی۔

پولیس  کے ہاتھوں یہ پہلا خون نہیں ہے  نقیب اللہ معصود کا واقعہ تو آج بھی لوگ بھول نہیں سکے جب ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے اس نوجوان کو عثمان خاصخیلی گوٹھ میں مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا اور ان کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا تھا۔

پولیس اہلکار آخر گولیاں کیوں چلاتے ہیں

 اس  سوال کے جواب کی تلاش میں جب راوا نیوز نے سابق ایس پی شاہ فیصل کراچی جاوید اسلم خان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ آج تک پاکستان میں پولیس ریفارمز پر کام نہیں ہوا اور اس ملک کا حکمران طبقہ پولیس کو صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ جبکہ انہوں نے پولیس اہلکاروں  کی تربیت میں موجود خامیوں کی طرف بھی نشاندہی کی   ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس ایکٹ دوہزار دو  نے بھی پولیس کو بگاڑ دیا اور پولیس صرف اور صرف  طاقتور حکمرانوں کی ہی سنتی ہے۔

The autopsy report reveals new details about the murder of Osama Nadim Sati - BULLETIN OBSERVER

  جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کو ہتھیار دفاع کے لیے دیے  جاتے ہیں اور کسی صورت میں بھی پولیس کو اختیار نہیں کہ وہ اندھا دھند گولیاں  چلادیں  تاہم ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ  میں سب سے زیادہ پولیس فورسز نے قربانیاں دیں ہیں

پاکستان میں پولیس ریفارمز پر کب کام ہوگا 

اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیر فیصل واڈا کا کہنا ہےکہ اس واقعے کی جتنہ مذمت  کریں کم ہے لیکن پولیس ریفارمز ایک دن کی بات نہیں ہے ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ اس ملک میں غریب کے لیے الگ قانون ہے جبکہ ہم اپوزیشن میں بھی یہی  بات کہتے تھے۔ پولیس ریفارمز پر پاکستان تحریک انصاف کیا کررہی ہے اس پر انہوں نے اپوزیشن پر ملبہ  ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم جب بھی کچھ اچھا کرنے جاتے ہیں  اپوزیشن آڑےآجاتی ہے  جب تک ملک میں عدل کا نظام  نہیں ہوگا   ملک نہیں سدھر سکتا۔

اسی سوال کے جواب میں پا کستان مسلم لیگ ن  کے رہنما ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ کہ سیاسی طور پر یہ ہم سب کی ناکامی ہے کہ ہم پولیس ریفارمز میں کامیاب نہیں ہوسکے،جبکہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا نظام انصاف غریب کے لیے کچھ اور جبکہ امیر کے لیے کچھ اور ہے اور اس پر ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

پولیس ریفارمز  پر پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور کا یہ ماننا ہے کہ جب تک اشرافیہ کے مفادات ہیں پولیس ریفارمز پر کام نہیں ہوسکتا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سارے نظام کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے

المیہ ہے کہ اسامہ ایک اسامہ نہیں اور نہ ہی یہ پہلی بار تھا نہ آخری بار  دو تین روز تک یہ طوفان جاری رہیگا پھر اور کسی بے گناہ کا خون ناحق ہوگا ۔ پھر فضا میں ماتم ہوگا اور ہم پھر سوگ کناں  ہونگے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *