سانحہ مچھ: ایک انصاف ہی تو مانگا ہے

سانحہ مچھ: ایک انصاف ہی تو مانگا ہے

73 views

انہیں یہ ڈر ہے کہ لاشوں پہ سیاست ہو گی، مجھے یہ فکر کہ لاشوں پہ ریاست ہو گی، بعد کرنے کے ستم آپ بھی پچھتا ئیں گے،آپ کے خون میں تھوڑی جو شرافت ہو گی۔

صبحین عماد

کسی بھی ملک میں چاہے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں چاہے حکومت کو گرانے کے کتنے ہی منصوبے نہ بنائے جارہے ہوں لیکن ہر ایک انسان میں سیایست دان ہونے سے پہلے ایک چیز کا زندہ رہنا بے حد ضروری ہے وہ ہے اسکا ضمیر کیوںکہ جب ضمیر مر جاتا ہے یا اسے مار دیا جاتا ہے تو پھر ایسے ہی لوگ سڑکوں پر لاشیں لیے بیٹھے ہوتے ہیں اور یہ جمہوریت اور انصاف کے ٹھیکےدار ان لاشوں پر سیاست رچاتے ہیں ۔

ایک پرندے کا ذکر تو سب نے ہی سنا ہوگا کہ گدھ مردار کھاتے ہیں لیکن حیرت ہے نہ کہ ایک گدھ دوسرے گدھ کا گوشت نہیں کھاتا ،مطلب ایک پرندے میں بھی یہ شرم و لحاظ پایا جاتا ہے کہ اپنے کا گوشت نہیں کھانا لیکن افسوس ہے ان سیاست میں بیٹھے گدھوں پر جنہوں نے ملک تو کھانے کی قسم کھا ہی رکھی ہے اب لاشوں پر بھی سیاست کرکے انسانیت بھی کھا گئے ہیں۔

خون جمانے والی سردی میں اپنے پیاروں کی لاشیں لیے بیٹھے یہ لوگ کون ہیں جو بے خوف و خطر بیٹھے ہزارہ کی لاچار بہنیں ،مائیں بیٹیاں ہیں جو صرف سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی کچھ نہیں مانگ رہے سوائے ایک وزیر اعظم کی آمد کے ،انصاف کب ملے گا ،قاتل کب پکڑا جائیگا یہ تو ایک طویل سفر ہے جو طے کرنا ہے لیکن اب تو بات صرف وزیر اعظم کے مچھ جانے اور دلاسے دینے پر ٹک گئی ہے ۔

Hazara community refuse to bury coal miners until demands are met

وزیر اعظم صاحب کے مشیر خاص اور وزیر خاص کی مذاکرات کی ناکامی پر اپوزیشن جماعت کو بھی یاد آیا کہ ہزارہ میں کوئی واقعہ ہوا ہے ۔ شاید حکومت کو گرانے کی تیاریوں اور منصوبوں سے ان کو فرصت ہی نہیں ملی مگر اچانک کسی مشیر با تدبیر نے ان کے کان میں یہ بات ڈال دی یا کوئی خواب تھا جو آیا کہ اچھا موقع ہے عمران خان کو اپنی جگہ سے ہلانے کا سیاست کی دکان چمکانے کا جلسے میں تو پھر کوئی سنتا یہاں تو سب ہماری ہی سنیں گے۔

بس پھر سابق وزیراعظم صاحب کی سیاسی بیٹی اس پر سیاست کرنے چل پڑی۔

مزید پڑھیں: ہزارہ برادری کا ماتم کب تھمے گا۔۔۔؟؟

عمران خان کے کوئٹہ کے دورے کا تو کوئی شیڈول اب تک سامنے نہیں آیا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سمیت حزبِ اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت اور دیگر رہنما دھرنے کے شرکا سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کوئٹہ پہنچے۔

Maryam, Bilawal meet heirs of slain coal miners - Newspaper - DAWN.COM

اب آہی گئے تھے تو تعزیت بھی کرنی لازمی تھی لیکن اصل میں تو سیاسیت کی دکان سجانی تھی اور وہ ہی کیا مریم نواز صاحبہ نے سارے دکھ درد ہزارہ کی تکلیف ،دھرنا سب کا لب لباب بس ایک چیز پر تھا نا کہ وہ تھا عمران خان ۔

بلاول بھٹو زرداری نے متاثرین سے خطاب میں کہا کہ ’ہم کوئٹہ سیاست نہیں دکھ کے لیے آئے ہیں۔ جب بھی کوئٹہ آتے ہیں دکھ میں شریک ہونے کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک ایسی دھرتی ہے جہاں ہمارے شہیدوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے، لاشوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ملک میں سب کچھ مہنگا ہوتا جا رہا ہے مگر مزدور کا خون سستا ہو رہا ہے۔ ’آپ کا اور ہمارا مطالبہ ایک ہی ہے کہ ہمیں جینے دو۔

مریم نواز نے دھرنے کے شرکا کو مخاطب کر کے کہا ’میں حکومت میں نہیں اور آپ کے لیے سوائے آواز اٹھانے کے کچھ نہیں کر سکتی۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ ایک بے حس شخص کو پکار رہے ہیں لیکن اس کے پاس آنے کا وقت نہیں ہے۔

مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان صاحب لاشیں رکھ کر لوگ آپ کے منتظر ہیں۔ کیا آپ کی انا ان لاشوں سے بڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کوئٹہ نہیں آ سکتے تو پھر عوام انھیں اسلام آباد میں کرسی پر بیٹھنے نہیں دیں گے کوئی اب ان سے پوچھے کہ یہ سیاست نہیں کہ آپ یہاں آکر بھی عمران خان کی کرسی کا رونا رہ رہی ہیں مریم بی بی کا اپنا ہی دکھ کم ہونے کو نہیں آرہا کہ انہیں بھی فرصت ملے کہ وہ سیاست کرنے کے بجائے دلاسے دیں ہمت دیں۔

قوم کی بیٹی کے جذبہ کو سلام ہے مگر پتا نہیں یہ جذبہ اس وقت کہاں سویا ہوا تھا جب ان کے دور حکومت میں ہزارہ ٹاؤن میں ایک بم دھماکے میں 33 ہزارہ شہید ہوگئے اور وہ میتیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کرتے رہے ۔

مزید پڑھیے: غریب کا خون سب سے سستا، دہشت گردوں کے حملے میں 11 مزدور شہید

کیا تب قوم کی یہ بیٹی اقتدار کی بانہوں میں جھولا جھول رہی تھی؟ یا کیا وہ خون ہزارہ کا خون نہیں تھا؟ ان کے پانچ سالہ دور حکومت میں 289 ہزارہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر ان کے والد محترم نے ہزارہ کے لیے کیا کیا؟ کیا قوم کی بیٹی کو اس وقت ہزارہ کا دکھ نہیں تھا؟ کیا تب ہزارہ کا خون سرخ نہیں تھا یا تب سیاست کا موقعہ نہیں تھا؟ لیکن اب یہ دکھ کھیچ کر یہان تک نہیں لایا اصل میں تو ہر ایک کو اپنا الو سیدھا کرنا ہے ۔

یہ سیاسیت کے ٹھیکےدار میتوں کا دکھ کیا جانے، یہ جذبات کو پیسے اور سیاست میں تولنے والے بیوپاری ایک بیوہ کا، ایک یتیم کا، ایک بوڑھی ماں کا، ایک لاچار باپ کا، کسی معصوم بچے کا، کسی بے کس بہن کا درد کیسے جان سکتے ہیں۔

انہیں کیا پتہ خاموشی کی آہ کیا ہوتی ہے آنسووں میں چھپی چیخ کیا ہوتی ہے انہیں کیا پتہ یہ بے موت جنازوں کو بوجھ کسقدر بھاری ہوتا ہے انہیں کیا پتہ یہ درد کتنا ناقابل برداشت ہوتا ہے یہ ہر چیز کو سیاست میں تولنے والے بے حس میتوں کے بوجھ کو کیا جانیں۔ یہ سیاسی گدھ سانحوں کے کرب کو کیاں سمجھیں گے۔

آپ کے جھوٹ کو ہے درکار آواز بلند
میں جو بولوں گا تو لہجے میں صداقت ہو گی

ظلم بڑھ جاۓ گا برداشت کی حد ٹوٹے گی
پھر جو ہو گی وہ میری جان بغاوت ہو گی

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *