فوری ادائیگی کے نظام اور اسٹیٹ بینک کے منصوبے ’راست‘ کا افتتاح

فوری ادائیگی کے نظام اور اسٹیٹ بینک کے منصوبے ’راست‘ کا افتتاح

69 views

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام ’راست‘ کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اسلام آباد میں ایک تقریب میں افتتاح کر دیا ۔

راوا نیوز  کے مطابق ’راست‘ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ایک اقدام ہے جس کے تحت اس نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور کار انداز پاکستان کے اشتراک سے پاکستان کا فوری ادائیگی کا پہلا نظام تیار کیا ہے۔ ’راست‘ ڈجٹلائزیشن اور ملک میں مالی شمولیت بڑھانے کے اسٹیٹ بینک کے وسیع تر اسٹریٹجک ایجنڈا کے ایک سنگِ میل کی تکمیل ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اسٹیٹ بینک کو مبارکباد دی اور ’راست‘ کے افتتا ح کو معیشت کی ڈجٹلائزیشن کو موثر طور پر فروغ دینے اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کے وژن اور وعدے کی تکمیل کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔

’راست ‘ پاکستان کے عوام کو ڈجیٹل، استعمال میں آسان، ادائیگی کے سستے اورموثر طریقے فراہم کرے گا، اور توقع ہے کہ یہ نظام چھوٹے کاروبار اور افراد کو مستحکم مواقع کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم نے امیدظاہر کی کہ ’راست‘ ادائیگیوں کی مختلف اقسام مثلاً تنخواہ اور پنشن میں موجود نقائص کو دور کرے گا، اور دیگر شعبوں میں سے احساس پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقوم کی فراہمی کو مزید بہتر بنائے گا۔

اسی حوالے سے ڈاکٹر رضا باقر نے بتایا کہ مرکزی بینک بینکاری اور ادائیگی میں ٹیکنالوجی کی اختراعات کی حوصلہ افزائی طویل عرصے سے کرتا رہا ہے، تاہم وزیر اعظم کے وژن کی پیروی کرتے ہوئے اور اُن کے تعاون سے اسٹیٹ بینک نے ملک میں ڈجٹلائزیشن کی رفتار مزید بڑھانے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

ملک کے بینکاری اور ادائیگی کے سسٹمز کو جدید بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے متعدد اقدامات کیے ہیں جیسے سازگار فِن ٹیک ادارے، اور ادائیگیوں کے انفرا سٹرکچر کو ماڈرن بنانا۔

اس حکمتِ عملی کے نفاذ میں ’راست‘ پہلا اہم قدم ہے۔ انہوں نےیہ بات اجاگر کی کہ اسٹیٹ بینک نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور کار انداز پاکستان کے تعاون سے منصوبہ ’راست ‘ کا آغاز کیا، تاہم اس سے قبل اس نے ادائیگی کی موجودہ عادات کے بارے میں زمینی حقائق کا مکمل جائزہ لیا اور بہترین بین الاقوامی روایات اور معیارات کے مطابق اسے تیار کیا ۔

اسٹیٹ آف دی آرٹ تیز تر ادائیگی کا نظام پاکستان کے عوام کو سستی اور عالمی رسائی فراہم کرے گی خاص طور پر ان لوگوں کو جو مالی لحاظ سے الگ تھلگ اور مراعات سے محروم ہیں جیسے خواتین۔

ڈاکٹر باقر نے تقریب کے شرکا کو بتایا کہ تیز تر ادائیگی کے نظام سے، خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں اور افراد کو سہولت دینے سے معاشی نمو کے پھیلاؤ میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے اس سسٹم کے مرحلہ وار آغاز کے لیے اسٹیٹ بینک کے منصوبے کے بارے میں بتایا جس کی ابتدا میں بڑی تعداد میں ادائیگی کا ماڈیول ہوگا ، اس میں ڈیوڈنڈ کی ادائیگیوں، تنخواہوں، پنشن، اور سرکاری محکموں کی دیگر ادائیگیوں کی ڈجٹلائزیشن شامل ہوگی۔

اگلے مرحلوں میں ’راست ‘ بہت چھوٹے اور چھوٹے کاروباری مالکان یا دکانداروں کی ادائیگیوں کو ڈجٹائز بنائے گا جس کے ذریعے یہ لوگ سپلائرز کو بروقت ادائیگی کر سکیں گے اور ادائیگی کی دیگر فوری ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں گے۔ اسی طرح یہ سسٹم ایک فرد سے دوسرے کو ادائیگیوں کی یکجا سہولت بھی فراہم کرے گا جس میں فون نمبر یا دیگر طریقوں سے شناخت استعمال کرتے ہوئے ادائیگیوں کی درخواست بھیجنا، اورادائیگیوں کا آغاز کرنا جیسی خصوصیات شامل ہوں گی۔

اس تقریب کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ برائے ترقی کے لیے شمولیتی مالیات (یو این ایس جی ایس اے) نیدر لینڈز کی ہر میجسٹی ملکہ میکسما نے بھی رونق بخشی اور انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وہ بطور خصوصی نمائندہ پاکستان میں مالی شمولیت کے فروغ میں گذشتہ کئی برس سے تعاون کرتی رہی ہیں، جن کے دوران وہ 2016ء اور 2019ء میں پاکستان تشریف لائیں۔

پاکستان نے مالی شمولیت کی اپنی اولین قومی حکمتِ عملی (این ایف آئی ایس) کا آغاز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ برائے ترقی کے پہلے دورے سے کچھ قبل کیا تھا۔ انہوں نے نومبر 2019ء میں اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے مائکرو پیمنٹ گیٹ وے کے قیام کا ذکر کیا تھا جسے اب ’راست‘ کی صورت میں شروع کیا جا رہا ہے جو پاکستان کا فوری ادائیگی کا نظام ہے۔

ہر میجسٹی ملکہ میکسما نے کہا ’’مجھے آج یہاں غریب پرور مائکرو پیمنٹ گیٹ وے ’راست‘ کے افتتاح میں شرکت کی خوشی ہے

’’ہم جانتے ہیں کہ کووڈ 19 کی بنا پر آنے والے صحت کے اور معیشت کے بحران پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے مالی شمولیت کا مرکزی کردار ہے

اس طرح وہ نئے مواقع بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ اعدادوشمار ہمارے لیے مستقبل کے چیلنجوں کا ایک اشارہ ہیں‘‘۔

گیٹس فاؤنڈیشن کے سی ای او مارک سوزمین نے شریک سربراہ بل گیٹس کی جانب سے ایک وڈیو پیغام کے ذریعے تیار شدہ بیان دیا جس میں انہوں نے کہا ’’مجھے امید ہے کہ آئندہ برسوں میں ہم پلٹ کر دیکھیں گے اور ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ نیا، ڈجیٹل عوامی طریقہ تمام لوگوں کو غربت سے نکالنے کے قابل بنانے والے طریقوں کی فراہمی کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان میں ڈجیٹل مالی شمولیت کی جانب کوششوں میں تیزی لانے میں تعاون کی فراہمی پر ہماری فاؤنڈیشن کو پولیو کے خاتمے ، اور غربت کے خاتمے کے احساس پروگرام کے لیے ہماری جاری شراکت کی طرح بہت خوشی ہے ۔ ‘‘

تقریب میں اہم شخصیات بشمول وفاقی وزرا اور سیکرٹریز ، کار انداز کی سی ای او، بینکوں اور ٹیلکوز کے سی ای اوز اور متعدد دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے موجود تھے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *