بابر اعظم پر جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خاتون کا ڈراپ سین

بابر اعظم پر جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خاتون کا ڈراپ سین

260 views

قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم پر جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خاتون نے اپنے بیان پر یوٹرن لے لیا، حامیزہ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ انکا بابر اعظم سے ناپہلے تعلق تھا ، نا اب ہے۔

غانیہ نورین

ہالی ووڈ سے چلائی گئی جنسی استحصال کیخلاف مہم می ٹو نے کھیلوں کے میدان کی جانب بھی رخ کرلیا ہے، جہاں کھلاڑیوں اور اسپورٹس کی معروف شخصیات پر جنسی ہراساں کا الزام لگانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

پاکستان میں شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے بعد قومی کھلاڑی بھی می ٹو مہم کی لپیٹ میں آچکے ہیں ،عماد وسیم ، محمد آصف ، شاہین شاہ آفریدی بھی اس مہم کا شکار ہوئے وہیں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم بھی می ٹو مہم سے اپنے آپ کو بچا نا سکے۔

حال ہی میں قومی کپتان پر حامیزہ نامی خاتون نے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم خاتون اب اپنے ہی بیانات سے مکرگئی ہے۔

سوشل میڈیا پر حامیزہ مختار کا بیان حلفی اور ویڈیو منظرعام پر آگئی، بیان حلفی میں خاتون نے اقرار کیا کہ کسی کے بہکانے پر درخواست دی تھی۔

خاتون نے بیان حلفی میں کہا کہ میرا بابر اعظم سے نہ پہلے تعلق تھا اور نہ اب ہے، درخواست دینے کا مقصد بابر اعظم کو تنگ کرنا تھا۔

خاتون کا کہنا تھا کہ کچھ دوستوں کے بہکانے پر تھانے میں درخواست دی تھی، میں بابر اعظم کے خلاف اپنی درخواست واپس لیتی ہوں، میری درخواست بدنیتی پر مبنی تھی۔

ویڈیو بیان میں حامزہ مختار نے کہا کہ بغیر کسی دباؤ کے کیس واپس لے رہی ہوں۔

دریں اثناء ایڈیشنل سیشن جج نعمان محمد نعیم نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کیخلاف کیس کا فیصلہ جاری کیا تھا۔ عدالت نے پولیس کو بابر اعظم کیخلاف خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے اور ضروری قانونی کارروائی کا حکم دیدیا تھا۔

عدالت نے ایس ایچ او نصیرآباد کو ہدایت کی تھی کہ قومی کرکٹر بابراعظم کیخلاف درخواست گزار خاتون کا بیان ریکارڈ کریں اور معاملے کی قانون کے مطابق تحقیقات کریں۔

عدالت نے حمیزہ مختار کی درخواست نمٹاتے ہوئے خاتون کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی حکم اور ضروری کاغذات کے ہمراہ تھانہ نصیر آباد سے رجوع کریں

خیال رہے کہ حامیزہ مختار نے قومی کپتان کے خلاف سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں بابر اعظم، محمد اعظم، فیصل اعظم، کامل اعظم اور محمد نوید کو فریق بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور کی لڑکی نے بابراعظم پر جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام عائد کردیا

اختیار کیا گیا کہ سی سی پی او لاہور کو اندارج مقدمہ کی درخواست دی لیکن عملدرآمد نہیں ہوا۔حامزہ مختار نامی خاتون نے سی سی پی او لاہور کو ایک درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعدازاں انہوں نے ملزم کی ایما پر اسقاط حمل بھی کروایا۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندرا ج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *