پاکستان کا امن: امن مشقیں سال 2021

 پاکستان کا امن: امن مشقیں سال 2021

60 views

یہ سال 2007  کی بات ہے جب  امن کے نام سے پاکستان بحریہ کی جانب سے مشترکہ بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ ان کامیاب مشقوں  کہ انعقاد کے  بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ  ہر دو  سال کے  بعد بحیرہ ہند میں  ایسی مشقیں منعقد کی جائیں گی اب تک اس نوعیت کی چھ  کامیاب مشقیں منعقد کی جا چکی ہیں اورساتویں مشق اس سال یعنی 2021 کی پہلی سہ ماہی میں منعقد کی جائے گی۔

فہمیدہ یوسفی

 ان امن مشقوں  کا بنیادی مقصد میری ٹائم سکیورٹی کے ایک ایسے نظریے کو فروغ دینا ہے ، جس کی بنیاد اجتماعی کوشش پارٹنرشپ پر رکھی گئی ہو تاکہ تجارتی اور دفاعی مقاصد کے لئے بحیرہ ہند ایک پرامن اور محفوظ سمندر بن جائے۔

ان مشقوں میں پاکستان کے علاوہ بحیرہ ہند کے خطے اوراس سے باہر دیگر ممالک کی بحری افواج نے بھی حصہ لیا تھا ۔  کھلے سمندر میں کی جانے والی ان امن مشقوں کا  سب سے بڑا مقصد ان ممالک کی بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون اعتماد  اور مشترکہ کارروائیوں کے دوران استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ بحیرہ ہند میں امن  اور سلامتی کو موثر اور مربوط  طور پر قائم کیا جاسکے۔

اس سے پہلے کہ ہم ان مشقوں کی افادیت اور اہمیت پر بات کریں  نظر ڈالتے ہیں کہ بحیرہ ہند کی اقتصادی جغرافیائی علاقائی اور سیاسی اہمیت پر ۔

Pakistan to host 6th multi-national Naval Exercise AMAN, 2019 in Feb

کیا آپ جانتے ہیں کہ بحیرہ ہند بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا سمندر ہے جسے صدیوں  سے مشرق اور مغرب کے درمیان اہم ترین  تجارتی شاہراہ کی حیثیت حاصل ہے ۔

اگر بات کی جائے  حالیہ  دور کی تو اس حقیقت سے ہرگز انکار نہیں کیا جاسکتا بحیرہ ہند گلوبل ولیج میں  معاشی، دفاعی اور سیاسی  طور پر کلیدی اہمیت کا حامل ہے  اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس  بحری شاہراہ پر  اربوں نہیں بلکہ کھربو ں ڈالر مالیت کے سامان سے لدے ہوئے ہزاروں جہاز سارا سال ہی  اپنی اپنی  منزلوں  کی جانب  گامزن  رہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے زیر استعمال تیل کی 80 فیصد سے بھی  زائد رسد  بحیرہ ہند کی آبی گزرگاہوں ذریعے جاپان ،چین ،بھارت ، پاکستان،یورپ اور امریکہ پہنچتی ہے۔

اسی لیے  بحیرہ ہند کی اسٹریٹجک ویلیو بہت زیادہ ہے اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ   ایک ایسا سمندر ہے ۔

جس کی  آبی شاہراوں کی حفاظت اور کھلے سمندر میں جہازوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت سب ممالک کے لئیے تجارتی اور دفاعی طور پریکساں  اہم ہے۔

پاکستان کی اسی فیصد سے زیادہ بیرونی تجارت بحیرہ ہند اور اس سے ملحقہ بحیرہ عرب کے ذریعے ہی  ہوتی ہے   ۔

اسی وجہ سے پا کستان کے لئے بحیرہ ہند کی تقریبا ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحل کی حفاظت بلکہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت ایک انتہائی اہم ٹاسک ہے۔

Pakistan Navy — a responsible regional force | Daily times

بحیرہ ہند کی آبی شاہراﺅں کا تحفظ ان تمام ممالک کے لیے  ضروری ہے  جن کے تجارتی اور معاشی مفادات بحیرہ ہند سے وابستہ ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ  جہاں جہازوں کو مشکل اور پیچیدہ  آبی راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، وہیں سمندر میں  امن اور سلامتی کا قیام کسی ایک ملک کے لیے  نہیں بلکہ تمام  ممالک کی ذمہ داری ہے ۔ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے بحر ہند میں سے گزرنے والی آبی شاہراہوں کی حفاظت ،بحری قزاقی کی بیخ کنی اور دہشت گردوں کی طرف سے ان آبی راستوں کے ذریعے اپنی مذموم سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے خلاف کارروائیوں کے لیے منظم اور مربوط کوششیں جاری ہیں ۔

پاکستان کی امن مشقوں کا پس منظر

سال2007 میں منعقد ہونے والی یہ مشترکہ بحری مشقیں اپنی نوعیت کی پہلی مشقیں تھی اور اس میں 28 ملکوں کی بحری افواج نے حصہ لیا تھا۔ ان کامیاب مشقوں  کہ بعد یہ تجویز قابل عمل بنائی گئی کہ ہر دو  سال کے  بعد ایسی مشقیں منعقد کی جائیں گی اب تک اس نوعیت کی چھ مشقیں منعقد کی جا چکی ہیں اورساتویں مشق اس سال یعنی 2021 کی پہلی سہ ماہی میں منعقد کی جائے گی

پاکستان کی امن   مشقوں کی کیا اہمیت ہے

ان مشقوں کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال ہونے والی مشق میں حصہ لینے کے لیے 43سے زائدممالک نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔ تو اس حقیقت کو ماننا پڑیگا کہ امن کے نام سے شروع کی جانے والی پاکستان کی ان مشترکہ بحری مشقوں نے علاقائی سلامتی کے لئے بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ دینے میں کتنا موثر کردار ادا کیا ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ  بھی ہے کہ ان مشقوں میں ایسے ممالک کے جہاز حصہ لیتے ہیں جو اگرچہ بحر ہند کے خطے سے دور واقع ہیں مگر بحر ہند کے اردگرد واقع ممالک کے ساتھ ان کی اہم تعلقات قائم ہیں۔ اس کے علاوہ بحرہند چونکہ عالمی تیل سپلائی کا نہایت اہم حصہ ہے۔ اس لئے ان مشقوں میں شریک ہوکر یہ ممالک حقیقت میں اپنی قومی معیشت اور سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں ۔ان مشقوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں حصہ لینے والے ممالک کی تعداد میں برابر اضافہ ہو رہا ہے اور مشقوں میں باقاعدہ شریک ہونے والے ممالک کے علاوہ مبصرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مشق کا بنیادی مقصد میری ٹائم سکیورٹی کے ایک ایسے نظریے کو فروغ دینا ہے، جس کی بنیاد اجتماعی کوشش پارٹنرشپ پر رکھی گئی ہو تاکہ تجارتی اور دفاعی مقاصد کے لئے بحرہند ایک پرامن اور محفوظ سمندر بن جائے ۔

Aman 2019 naval exercise starts Friday

  بحری مشق امن کے مسلسل انعقاد سے جہاں بحری امن و استحکام کے حصول کے لئے متفقہ سوچ اور عالمی کاوشوں کو یکجا کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا ہوگا وہاںپاکستان کے حقیقی تشخص کو اُجاگر کرنے میں یہ مشقیں مدد گار ثابت ہوں گی۔ ان مشقوں میں عالمی افواج کی بھر پور شرکت اس امر کی بھی دلیل ہے کہ دنیا کی جدید، باصلاحیت اور طاقتور ممالک خطے میں قیام امن کے سلسلے میں کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں کو ثمر آور مانتے ہیں اور بحری امن و استحکام کے لئے پاک بحریہ کی ان کاوشوں کا بھر پور ساتھ دینے کو تیار ہیں ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *