کیا بھارتی تیجس پاکستانی جے ایف 17ڈویل سیٹ تھنڈر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟؟

کیا بھارتی تیجس پاکستانی جے ایف 17ڈویل سیٹ تھنڈر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟؟

2699 views

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں ڈویل سیٹ جے ایف۔17 تھنڈر کی تکمیل اور بلاک تھری کی پیداوار کے باضابطہ آغاز نے بھارتی فضائیہ اور دفاعی تجزیہ کاروں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے تو دوسری جانب بھارتی فضائیہ کی مایوس کن کارکردگی بھی بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے لمحہ فکریہ بن گئی ہے۔

فہمیدہ یوسفی

یہ بات تو سب جانتے ہی ہیں کہ جے ایف سیونٹین کے بلاک تھری میں وائیڈ اینگل ہولوگرافک ہیڈ اپ دیسپلے کے ساتھ نیا ایماجن انفرا ریڈ ۔ بیسڈ میزائل اپروج وارننگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، یہ دونوں ٹیکنالوجیز چین کے ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر چینگ ڈو جے ٹوینٹی میں استعمال کی گئی ہیں۔

یعنی اب جے ایف سیونٹین پر ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔ ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی کے اضافے سے اب تھنڈر بلاک تھری کے پائلٹ کو موجودہ صورتحال کی آگاپی پہلے سے زیادہ ہوگی اور وہ جہازاڑانے کے بجائے کمبیٹ پر زیاد بہتر طورپر توجہ دے سکے گا اس کے ساتھ ہی اس میں نیا روسی ساختہ آر ڈی 93 ایم اے انجن بھی لگایا گیا ہے جو روس کے فور پلس جنریشن سمجھے جانے والے مگ 35 پر بھی لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلاک تھری تھنڈر میں چین کا پہلے سے زیادہ طاقتور ڈبلیو ایس 13 انجن کا آپشن بھی موجود ہے۔

Pakistan About to Receive 12 JF-17B Fighter Jets

تاہم بات یہاں ختم نہیں بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے جس نے جے ایف سیونٹین تھنڈر کو رافیل اورتیجس کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے وہ خاص بات پی ایل ففٹین ہیں۔پی ایل ففٹین کی رینج 300 کلومیٹر ہے جو یقینا امریکی ساختہ کی 180 کلومیٹر رینج سے کہیں زیادہ ہے۔

اس کا سیدھا مطلب ہے کہ پاکستان کا جے ایف سیونٹین تھنڈر دشمن کو 300 کلومیٹر کی دوری سے بھی نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ بھارت کے رافیل پر نصب میٹئیور میزائل کی اعلان شدہ رینج ڈیڑھ سو کلومیٹر ہے۔ تیجس پر آر 77 میزائل نصب ہونگے سو اس کو مزید ایک سو سات کلویٹر مزید آگے آنا ہو گا جبکہ فضائی ماہرین کے مطابق ایرئیل کمبیٹ میں ایک ایک سیکنڈ کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔

Rafael wins $30m Indian Air Force communications deal - גלובס

شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اپنے دیسی ساختہ طیارے تیجس کو فضائی بیڑے میں شامل کرنے کا اعلان کر ہی ڈالا ہے۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایچ اے ایل اور ایروناٹیکل ڈویلپمنٹ ایجنسی نے اپنی پرانی غلطیوں کو نہ دہرایا تو 2024 میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے حوالے کیا جا سکے گا۔

بھارتی طیارے تیجس کے حوالے سے بھارتی ائیر چیف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ یہ طیارہ پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے تیار جے ایف سیونٹین تھنڈر سے برتر اور بہتر ہے تاہم یہ بیان جاری کرتے ہوئے وہ شاید یہ بھول گئے کہ سال 2019 میں ہی سابقہ بھارتی ائیر چیف بی ایس دھنوا نے کہا تھا کہ بھارتی فضائی بیڑے میں شامل روسی ساختہ مگ 21 طیارے 44 سال پرانے ہوچکے ہیں، فضائیہ کو کسی بھی ہنگامی اور جنگی صورت حال سے نمٹنے کیلئے جدید اور بہترین لڑاکا طیاروں کے فلیٹ کی ضرورت ہے۔

An Indian Navy Tejas LCA takes off from a Rafael aircraft carrier just off the coast of the port city of Bangalore, Rajasthan [1996 x 1258] : MilitaryPorn

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہر ذی شعور شخص 44 سال قبل کی کار بھی چلانا نہیں چاہے گا کیوں کہ اس میں خطرہ ہے لیکن ہمیں اتنے ہی پرانے طیارے فضا میں اُڑانے ہوتے ہیں اور ایف-16 سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

اگر اب بات جے ایف سیونٹین تھنڈر کی جائے تو یہ نہ صرف پاکستان ائیرفورس کا حصہ بن کر بالاکوٹ اسٹرائیکس کے بعد بھارتی مگ ٹوینٹی ون بائزن اور سخوئی تھرٹی کا شکار کر چکاہے بلکہ دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کی نظریں اب بلاک تھری پر ٹکی ہیں۔

خبروں کے مطابق ارجنٹینا کی فضائیہ کے سربراہ بریگیڈیئر زیویئر آئزک نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ان افواہوں کی تصدیق کی تھی کہ ملک جے ایف کے بلاک تھری ویرینٹ پر غور کر رہا ہے۔

پاکستان پہلے ہی نائیجیریا اور برما کو یہ طیارے فروخت کر چکا ہے جبکہ بھارت کے تیجس کو اب تک کسی خاطر خواہ کامیابی کا سامنا نہیں ہوا ہے۔

در حقیقت جے ایف-17 تھنڈر ایک مؤثر اور کم لاگت رکھنے والا ایک انجن کا لڑاکا طیارہ ہے، جو عالمی مارکیٹ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عمدہ انتخاب ہے۔ دوسری جانب بھارت کی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے تیار کردہ ایم کے۔1اے تیجس بین الاقوامی طور پر اتنی توجہ اور پذیرائی حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جے ایف سیونٹین تھنڈر کے مقابلے میں بھارت نے یہ طیارے بہت کم تعداد میں بنائے ہیں۔

بھارت کے انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کونفلکٹ اسٹڈیز، نئی دہلی کے سینئر فیلو ابھیجت آئیر-مترا کا کہنا ہے کہ تیجس کے مقابلے میں جے ایف-17 کو ترجیح دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ تیجس اپنی کارکردگی سے خود بھارت کی فضائیہ کو متاثر کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔اگر کوئی ملک اپنے مِگ-21 سے مگ-27 کے طیاروں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، یا چینی ایف-6 یا ایف-7 ٹائپ طیاروں یا امریکی ایف-5 طیاروں کی جگہ نئے طیارے لینا چاہتا ہے یا پھر جدید ٹرینر ہی حاصل کرنا چاہتا ہے تو جے ایف-17 اس کے لیے بہترین قابلیت اور قیمت رکھنے والا جہاز ہے۔

جبکہ تیجس ایک مکمل طور پر کنفیوزڈ طیارہ ہے اور کسی بھی جانے مانے مارکیٹ سیگمنٹ فٹ نہیں ہوتا۔ بھارتی ماہر نے کہا کہ تیجس ایک ڈراؤنا خواب ہے، اس کی کوئی بات آزمودہ اور ثابت شدہ نہیں ہے۔ اس پر کچھ زیادہ ہی تجربات کر لیے گئے ہیں اور یہ کسی خریدار کا اعتماد حاصل نہیں کرتا۔

India's Tejas versus Pakistan's JF-17 Thunder: Don't even compare, say  experts - The Financial Express

بھارتی فضائیہ نے رواں سال 83 تیجس ایم کے ۔ 1 اے طیاروں کا آرڈر دیا ہے اس وقت جو تیجس ایم کے 1 اے طیارے بھارت کے پاس موجود ہیں، انہیں کو چند مہینے پہلے ہی آپریشنل کلیئرنس دی گئی ہے اور اسکواڈرن 18 میں شامل کیا گیا ہے۔ تیجس کو ابھی نہ صرف لڑائی کا مزہ چکھنا ہے بلکہ اسے اپنے ایکسپورٹ کوالٹی ہونے کا ثبوت بھی دینا ہے۔

تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ڈویل سیٹ جے ایف سیونٹین بلاک تھری کی گرج اور چمک ایسی ہو گی کہ رافیل اورتیجس کو شاید سنبھلنے کا بھی موقع نہ مل سکے۔

Dislike -1
مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *