صحافیوں اور سوشل میڈیا کی یہ جنگ آخر کب تک

صحافیوں اور سوشل میڈیا کی یہ جنگ آخر کب تک

74 views

جب بھی بات ہوتی ہے  آزادی اظہار کی تو سب نظریں میڈیا کی جانب ہی جاتی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں  چاہے وہ الیکٹرانک ہو یا ڈیجٹل میڈیا  نے جس تیزی سے ترقی کا سفر طے کیا وہ قابل دید ہے۔ تاہم غور طلب بات یہ ہے  کہ  میڈیا کی آزادی اور میڈیا کے بڑھتے قدموں نے ملک اور قوم  کو باخبر اور باشعور  تو ضرور بنایا ہے لیکن  وہیں دوسری جانب ایسا لگتا ہے کہ  سوشل میڈیا پر  جیسےہتھکڑیاں  کھول دی ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ  سوشل میڈیا پر آزادی اظہار  نے  حد کو بالائے  طاق رکھ دیا ہے  دوسری جانب  پاکستان میں سوشل میڈیا پر ٹویٹر صارفین نے تو  بالخصوص  صحافیوں  کی نجی زندگی سےلیکر ان  کے کام  کی  کردار کشی  کرنے  کو تو  جیسے ٹاپ ٹرینڈ بنانا اپنا  فرض  ہی بنالیا ہے

آئے دن سوشل میڈیا پر  نت نئے ٹرینڈز سے صارفین نے قیامت برپا کر رکھی ہوتی ہے ماضی میں ایسے کتنے ہی واقعات کی ایک لمبی فہرست نظر آتی  ہے  جہاں بدقسمتی سے  سب سے زیادہ نشانہ بننے والوں صحافی برادری شامل ہے ۔

ہمارے معاشرے میں صحافی  برادری ایک ایسا طبقہ ہے کہ جس کی نوکری ہی ایسی ہے کہ اسے سب برداشت کرنا  پڑتا ہے بدترین  حالات میں بھی خبروں کو ہم تک پہنچانے کا فرض نبھانا ہوتا ہے

، اپنے اس فرض کی ادائیگی میں  اپنی زندگی تک  داؤ پر لگادیتے ہیں ۔ لیکن شاید آئنیے  میں اپنے آپ کو دیکھنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا شاید دوسروں پر کیچڑ اچھالنا ہوتا ہے

نہ ذاتی زندگی اپنی نہ ہی پیشہ ورانہ زندگی اپنی  مصائب برداشت کرنے کے باوجود بھی کوئی صحافیوں سے خوش نہیں ہوتا۔ حکومت وقت کو ہمیشہ یہی شکایت ہوتی ہے کہ صحافی حضرات اس پر بے جا تنقید کرتے رہتے ہیں اور اپوزیشن کو لگتا ہے کہ یہ حکومت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

جبکہ عوام کو لگتا ہے کہ یہ لفافہ صحافی ہیں، اس لیے ان کو چند پیسے دے کر آسانی سے خریدا جاسکتا ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے بلکل برعکس ہی ہے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ تنقید صحافیوں پر کی جاتی ہے سب سے زیادہ خطرے کی زندگی بھی صحافی کی ہی ہوتی ہے ۔

فیس بک پوسٹ یا ٹویٹ کرنے پر سوشل میڈیا صارفین  ذاتیات پر اُتر آتے ہیں جیسا کہ  اگر کوئی صحافی بیرون ملک چھٹیاں گزارنے جائے تو  سوشل میڈیا پر طوفان آجاتا ہے کہ یہ کون سا اپنے پیسوں سے گیا ہے، اس کو کسی نے اسپانسر کیا ہوگا۔

یہاں تک کہ حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی کرنے والے صحافیوں کو بھی نہیں بخشا جاتا،جبکہ صحافی اگر کسی  ذاتی رائے کا اظہار بھی کردے تو سوشل میڈیا پر ایک کہرام مچ جاتا ہے اس کی مخالفت میں بولنے والے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ جان کے لالے تک پڑ جاتے ہیں

در حقیقت صحافی برادری آج بھی عدم تحفظ کا شکارہے جبکہ صحافیوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کیے جارہے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا نے تو صحافیوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کسی کی کردار کشی کوئی نیا معاملہ نہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان میں دن بدن تیزی دیکھنے میں آرہی ہے

خاص طور پر پاکستان میں صحافیوں کے خلاف حالیہ مہم پر نوجوان صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے مگر یہ پہلی بار نہیں جب صحافیوں کو اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے صحافیوں کی زبان بندی کی گئی جس کی درجنوں مثالیں موجود ہیں جہاں نہ صرف صحافیوں کو نازیبا القابات سے نوازا گیا بلکہ خاتون صحافیوں کو ہراساں کیا گیا اور اپنی رائے کا اظہار کرنے پر ڈرایا ودھمکایا بھی گیا

اسی  حوالے سے راوانیوز  نے خصوصی طور پر  خواتین  صحافیوں سے ان کی رائے لی جس پر انہوں نے بھی  کھل کر بات کی اور اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

سینیرصحافی یا سمین آفتاب 

اس حوالے سے سینیرصحافی  یاسمین آفتاب کا کہنا تھا کہ یہ صرف خواتین صحافیوں کا ایشو  نہیں ہے  کہ انہیں ہراساں کیا گیا ہو یا تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو ایسے کتنے ہی مرد حضرات موجود ہیں جن پر سوشل میڈیا پر  کیچڑ اچھالی جاتی  ہے ،ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی ایجنڈے کےتحت کیا جاتا ہے اسی لیے یہ کسی ایک کے لیے نہیں ہوتا بلکہ مرد اور عورت دونوں کے لیے برابر کیا جاتا ہے ان کا کہنا تھا  کہ میں توکھل کر بولتی ہوں اور بولتی رہونگی

سینیرصحافی اور اینکر پرسن تنزیلہ مظہر 

سیاسی اختلافات کے حوالے سے پاکستان کی معروف اینکر پرسن تتنزیلہ مظہر نے راوا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ یہ  بہت عام ہے کہ جب خواتین سیاسی معاملات پر بات کرتی ہیں تو برداشت نہیں کیا جاتا  ،کیونکہ شاید ہمارے یہاں اب تک یہ رواج نہیں کہ خواتین اپنی رائے کا اظہار کرے ،اسی لیے شاید سوشل میڈیا پر یا دوسرے پلیٹ فارم پر اتنا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنی رائے دینا چھوڑ  دیں اس کی بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ کیونکہ ہم عورت ہیں  اس کو بہت مدعا بنایا جاتاہے جبکہ ان کایہ بھی ماننا ہے کہ اب اس کی عادت   ہوگئی ہے

سینیر صحافی اور اینکر پرسن فریحہ ادریس 

پاکستان کی معروف ترین اینکر پرسن اور سنیر صحافی فریحہ ادریس  کا  کہنا تھا کہ خواتین کو نشانہ بنانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خواتین کے لیے یہ سمجھا جاتا کہ وہ ایک آسان ہدف ہیں نشانہ بنانے کے لیے ،ان کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ سامنے نہیں آتے ساتھ دینے کے لیے یا برے کو برا بولنے کے لیے کہ آپ ایک عورت ہیں اسی لیے آپکو دبایا جاتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتی ہوں کہ ہم اکھٹے ہوں اور پھر غلط کو غلط کہیں لیکن صحیح کو صحیح کہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ کافی بار میں ایسے  لوگوں کو بلاک بھی کردیتی ہوںجو نازیبا بات کریں یا گالی دیں لیکن یہ جانتی ہوں  کہ یہ حل نہیں کیونکہ بلاک کرنے سے معاشرے سے یہ معاملہ ختم نہیں ہوگا  اسی لیے ہمیں ایک ہونا ہوگا اکھٹے ہونا ہوگا

سینیر صحافی جویریہ صدیق

صحافیوں کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے سینیر صحافی جویریہ صدیق   کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کا اصل مقصدر ہی یہی ہوتا ہے کہ جن کی بات سب سن رہے ہیں یا جن کو  یہ خطرہ ہوتا ہے  کہ ان کے  کچھ کہنے سے پارٹی کو نقصان پوگا تو اس صحافی کے پیچھے سوشل میڈیا کے پریشر گروپ  لگ جاتے ہیں انہیں ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تا کہ ان کی بات کو ان کی آواز کو دبایا جاسکے یا بات کرنے کی آزادی کو ختم کیا جاسکے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ذاتی زندگی پر حملےاسی لیے کیے جاتے ہیں جس  کا مقصد بھی  یہی ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کو متاثر کرکے ان کی اواز کو دبایا جاسکے اور انہیں ڈرا کےسوشل میڈیا چھوڑنے پر مجبور کردیا جائے تاہم ان کا بھی یہ ماننا تھا کہ اب اس سے فرق نہیں پڑتا جو سچ ہے وہ ہم بولتے رہینگے

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو با خبر رکھنے والوں کی مشکلات کی بھی خبر لی جائے اور ان کے مسائل پر بھی کھل کر بات کی جائے اب  کچھ ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے سوشل میڈیا پر تنقیدی مہم چلانے والوں کے چہرے بے نقاب کیے جاسکیں

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *