مجھے مالی امداد کی نہیں آپ سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے

مجھے مالی امداد کی نہیں آپ سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے

145 views

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد

روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد

فہمیدہ یوسفی

بچپن معصومیت کا نام بچپن شرارتوں کا ، مسکراہٹوں کا نام اور بچپن خواہشوں کا  خوابوں کا نام ۔ تاروں جیسی چمکتی آنکھیں  اجالوں جیسے چہرے  جن کو دیکھ کر ہی  سکون محسوس ہوتا ہے۔فرشتوں جیسی معصوم کلیوں جیسے نرم یہ مخلوق زندگی کا استعارہ ہے ۔

لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں بچوں کو بچپن کے مفہوم کا علم ہی نہیں ۔ کہیں کوئی معصوم  چائے کے ڈھابے پر، کہیں مکینک کی دکان پر ، کہیں کسی فیکٹری میں تو کہیں سڑکوں پر  کام کرتے  تو گھروں  اور کہیں دکانوں پر کام اور گالیاں کھاتے نظر آئینگے۔

یہ وہ کم نصیب بچے ہیں جو آنکھ کھلتے ہی غربت کے باعث پانچ  چھ سال کی عمر سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ

کیا آپ جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق پاکستان میں تقریبا ایک کروڑ 2 لاکھ بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس تعداد  میں ساٹھ لاکھ بچے دس سال سے بھی کم عمر ہیں۔ جبکہ پاکستان کے   ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے مطابق، اگر کوئی  شخص بھی سولہ سال سے کم عمر بچوں کو ملازم رکھتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے تو اسے بیس ہزار روپے تک جرمانہ یا قید کی سزا جسکی مدت ایک سال ہے ہو سکتی ہے، یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔

جبکہ اگر وہ شخص دوبارہ اسی طرح کے جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی کم از کم سزا چھ ماہ ہے جس کی مدت دوسال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔تاہم اس قانون کا اطلاق نہ ہونے کے برابر  ہے

انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن کے تحت جو رپوٹ شائع ہوئی، اس میں دنیا کے سرسٹھ ایسے ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے، جہاں چائلڈ لیبر کے حوالے سے خطرناک صورتحال ہے۔ تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ اس فہرست  میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔

تیرہ سالہ عبدالوارث کون ہے

گزشتہ دنوں ایک تیرہ سالہ بچے کی  ویڈیو سوشل میڈیا پر اس قدر تیزی سےوائرل ہوئی  کہ  سب کی نظریں اس بچے کی جانب گئیں ۔ ٹیم راوا بھی اس بچے کی تلاش میں  کراچی میں واقع  پاپوش سعدیہ مارکیٹ  پہنچ گئی  معمولی سے شلوار قمیض  میں ملبوس  چھوٹے سے قد  کا سانولا سا  لگ  بھگ تیرہ سال کا ایک بچہ ہمارے سامنے تھا جس کے سپاٹ  چہرے پر اتنی سنجیدگی تھی کہ احساس ہوا کہ شاید زندگی کی مسافتیں کچھ مسافروں کو وقت سے پہلے  ہی منزل پر پہنچادیتی ہیں

وارث نے اپنے بارے میں بتاتے ہہوئے کہا کہ اس کی عمر اس وقت تیرہ سال ہے اور جو کھانے پینے کا سامان  وہبیچتا  ہے  وہ اس کی  والدہ بناتی ہیں جن میں ڈونٹس گلاب جامن  اور پیزا بائٹس شامل ہیں  جبکہ دن میں وہ پاپوش کی سعدیہ مارکیٹ میں موجود کپڑے کی دکان میں کام کرتا ہے

اس سوال کے جواب میں کہ وہ کب سے یہ کام کررہا ہے  تو اس سوال کا جواب ہمارے معاشرے کی اس بھیانک سچائی کا عکاس ہے  جو ہمارے معاشرے کے  ہر چوتھے بچے کی کہانی ہے  اس کا کہنا تھا کہ  وہ پنجاب کا  رہنے والا ہے ۔ کراچی اس کا خاندان یہاں روزگارکے سلسلے میں آیا تھا جبکہ وہ چھ سال کی عمر میں  کپڑے کی دکان  پر کام میں لگ گیا تھا۔

جبکہ  دکان مالک کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے  اپنے گھر کا فرد ہی بناکر رکھا ہے  میری والدہ گھروں میں کام کرتی تھیں تو میں چاہتا  تھا کہ میری والدہ کو کہیں کام نہ کرنا پڑے ۔ ہمارا گھر تو بہت چھوٹا ہے تو اب میری والدہ دکان مالک کے گھر ہی  آکر یہ سب بناتی ہیں اور میں وہاں سے لیکر سب رات کو بیچتا ہوں اور شکر ہے کہ اچھا گزارا ہوجاتا ہے اور سامان اکثر ختم بھی ہوجاتا ہے پہلے میں چائے بیچتا تھا اور اب تین  چار مہینے سے یہ کام کررہا ہوں۔جبکہ  مجھے کوئی ناخوشگوار واقعہ  بھی پیش نہیں آیا  سب میرا خیال رکھتے ہیں

جب سے وڈیو وائرل ہوئی ہے میری سلیز بڑھ گئی

کسی سے مالی امداد نہ لینے کےفیصلے پر اس کا کہنا تھا  کہ مجھے اپنی محنت سے کمانا ہےکسی کا احسان نہیں چاہیے اپنا کام کسی کی مدد کے بغیر کرنا ہے۔

میری  جب سے وڈیو وائرل ہوئی ہے میری سلیز بڑھ گئی ہے  آگے کا سوچنا پڑتا ہے جبکہ میں اپنی ڈونٹس کی برانڈ بنا چاہتا ہوں جبکہ اس کا  مزید کہنا تھا کا پڑھنے کا شوق نہیں ہے نہ ہی کھیلنے کا شوق ہے  دوست نہیں ہیں ہاں   مدرسے جاتا ہوں  گھر پر رات کے  دو بج جاتے ہیں جاتے جاتے  تو بس زیادہ بات نہیں کرتا ہوں نہ ہی ٹی وی دیکھتا ہوں

جبکہ اپنے ہم عم بچوں کے لیے وارث نے کہا کہ میں  یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بھیک مت مانگیں اپہنے حالات سے مقابلہ کریں اور کام کریں  چھوٹا ہی صحیح  لیکن  اپنا کام کریں

دکان مالک حسان کا موقف

دوسری جانب دکان مالک  حسان کا  ٹیم راوا سے بات جیت  کے دوران کہنا تھا کہ وارث بہت چھوٹا تھا سات سال سے میرے پاس ہے اور میرے فیملی ممبر کی طرح ہے.جبکہ ان کا کہنا تھا کہ  وارث محنتی بہت ہے اور سنجیدہ بہت ہے اور دکان سنبھالتا ہے اور جتنی سپورٹ ہوسکتی ہے  ہم کرتے ہیں۔جبکہ یہ  پڑھنا نہیں چاہتا میں تو چاہتا تھا کہ پڑھے مگر یہ پڑھنا نہیں  چاہتا  میں اس کے کام کو پرموٹ کررہا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ بھیک مانگتے بچوں کو کوئی کام کی آفر کردوں ۔

پاکستان بیت المال کا موقف

پاکستان بیت المال کے اسسٹنٹ ایاز حسین شیخ نے راوا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  مینجینگ ڈائریکٹر ’بیت المال‘نے اس بچے عبدالوارث کی ویڈیو دیکھ کر فوری مدد کا فیصلہ کیا تھا  اور، ہم  اپنی پالیسی کے مطابق ان کی مدد کرسکتے ہیں ، لیکن یہ  بچہ بہت خود دار ہے اور کسی قسم کی امداد کے لیے تیار نہیں ہے۔

مالی امداد کی نہیں بلکہ دعاؤں کی ضرورت  ہے

راوا نیوز کے اس سوال کے جواب میں کہ وہ اپنا کام بغیر کسی مدد کیسے آگے لیکر جاؤگے  تو اس پر  وارث  کا کہنا تھا کہ  اس کو آپ سب کی  مالی امداد کی نہیں بلکہ دعاؤں کی ضرورت  ہے

جن ہاتھوں میں کتاب ہو ان ہاتھوں میں کہیں  بھاری اوزار تو کہیں کھانے کے پیکٹ تو کہیں پھول نظر آتے ہیں ۔

 میلے کپڑوں اور ٹوٹی چپلوں  میں  یہ کم عمر  اپنی بے بس نگاہوں  سے ہم سے سوال پوچھتے  نظر آتے ہیں لیکن ہماری  آنکھیں، کان بند ہیں  اور ارباب اختیارکی بے حسی کہ  تو کیا ہی کہنے

تاہم وارث جیسے بچے جس نے آنکھ کھولتے ہی معاشرے کی تلخیاں دیکھیں ہیں اس کی کم  سن عمر  بڑے عزم   چھوٹی چھوٹی آنکھوں کے بڑے خواب  اور خود داری کو  ٹیم راوا کی جانب سے سلام

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *