بھارتی کسان ٹریکٹر ریلی: ایسا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا

بھارتی کسان ٹریکٹر ریلی: ایسا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا

40 views

چھبیس جنوری کے روز بھارتی پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ ، پتھراؤ ، سرکاری عمارتوں پر دھاوا ، مواصلاتی نظام کا معطل ہوجانا مقبوضہ کشمیر کی نہیں بلکہ بھارت کے اپنے ہی دارالحکومت دہلی کی ایک داغ دار داستان بیان کررہا ہے، بھارت کا یوم جمہوریہ سیاہ ترین دن میں بدل گیا ۔

غانیہ نورین

بھارت کا یوم جمہوریہ اس غیر معمولی حق کا جشن ہے جو برطانوی راج سے آزادی کے ڈھائی سال بعد 26 جنوری کو 1950 میں بطور دستور ہند میں عمل میں آیا۔ اس دن کی مناسبت میں جہاں ہر سال راشتر پتی بھون (ایوان صدر) میں سخت حفاظتی حصار میں فوجی پریڈ کا انعقاد کیا جاتا ہے ،سرکاری سطح پر چھٹی پر ہوتی جبکہ بھارت واسی یوم جمہوریہ کے جشن میں مشغول رہتے ہیں۔

وہیں رواں سال دہلی کی سڑکیں کسی جنگ کا منظر پیش کررہی تھیں، معنوں انتہاپسند مودی سرکار کی لگائی ہوئی آگ میں پورا بھارت جل رہا ہو، اس سے سلگھتی آگ کسی بغاوت کی بو مہکا رہی ہے۔

86 cops injured in farmers protest, several admitted: Police - India News

جنت نظیر وادی میں جنگی مناظر پیش کرنے والا بھارت اب خود خونی مناظر کی تصویر کشی کرتا نظر آرہا ہے۔

یہ کیسا جشن ہے ؟؟ جہاں دہلی کی سڑکوں پر فوجی پریڈ کی جگہ سینکڑوں ٹریکٹروں پر سوار رنگ برنگی پگڑیاں پہنے کسان بھارت اور کسان اتحاد کا جھنڈا اٹھائے رکھے ہیں اور لال قلعے کی جانب رواں دواں ہے،مودی سرکار کی جانب سے کہا جانے والا کسانوں کا “غیرمعمولی احتجاج” نے زور پکڑلیا تھا، جس کے آگے تعصب پسند حکومت کی تمام تر رکاوٹیں بے بس ثابت ہوئی۔

After Months of Farmers' Protest, Why Did India's Supreme Court Suspend Controversial Farm Laws Now?

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا علمبردار بھارت کی متنازع زرعی قوانین کے خلاف دو ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج کرتے کسان اب دہلی کے قلب میں واقع آئی ٹی او چوک کے قریب تک پہنچ گئے تھے، جہاں سے پارلیمان اور پریڈ کی جگہ یعنی راج پتھ صرف دو کلومیٹر دور ہے۔ ٹریکٹر پریڈ میں شامل ایک دوسرا گروپ دہلی کے تاریخ لال قلعے تک پہنچ گیا اور اس نے کسانوں کی تنظیم کا پرچم قلعے کی فصیل پر اس جگہ لہرا دیا، جہاں بھارتی وزیر اعظم ہر سال یوم آزادی کے موقع پر روایتی طور پر پرچم لہراتے اور قوم سے خطاب کرتے ہیں۔

لال قلعے پر کسان کا لہراتا جھنڈا نشان صاحب کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کو روکنے کے لئے مودی سرکار کی کٹھ پتلی پولیس نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا، مشتعل کسان ظالمانہ زرعی پالیسی پر مودی سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوگئے جبکہ ایک کاشتکار دم گھٹنے کے باعث جاں بحق بھی ہوگیا۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں لگی آگ کے شعلے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر بھی نمایاں رہی جہاں کسانوں اور کاشتکاروں سے اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا صارفین نے بڑھ چڑھ  کر حصہ لیا وہیں مودی کے پالتو جانثاروں نے بھارتی کسان اور کاشتکاروں کو دہشت گرد قرار دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارتی دورے پر بھارت واسی شہریت کے متنازع قانون سی اے اے کے خلاف سرآپا احتجاج تھے جس میں ہزاروں مسلمانوں اور اقلیتی برادری کے گھر نذر آتش کردیئے گئے تھے ۔

بھارت میں نام نہاد اور فاشسٹ وزیراعظم نریندر مودی کے شدت پسند پالیسوں کیخلاف احتجاج ایک عام سی بات ہے۔ بھارتی کسانوں نے ٹریکٹر ریلی میں مودی سرکار کا سازشی چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے یوم جمہوریہ کو سیاہ ترین دن میں بدل دیا تھا۔

وہ دن دور نہیں جب بھارت اپنے ہی بنائے گئے مسلمانوں اور اقلیتی برادری کے خلاف متنازع قوانین پر پوری دنیا کے آگے سر نگوں ہوجائے گا  ۔

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *