مستقبل کے معماروں کا مستقبل خطرے میں ہے ۔۔

مستقبل کے معماروں کا مستقبل خطرے میں ہے ۔۔

31 views

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو
سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

کورونا وائرس کے باعث جہاں معمولاتِ زندگی درہم برہم اور معیشت سمیت دیگر کئی شعبے شدید متاثر ہوئے وہیں تعلیمی نظام بھی مفلوج ہوا۔ملک کا تعلیمی نظام پہلے ہی آخری سانسوں پر چل رہا تھا کہ اس کورونا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی

صبحین عماد

پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا۔

دنیا سے قدم ملا کر چلنے کی دوڑ میں تعلیمی سال ضائع ہونے اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کیلئے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا گیا، پاکستان میں چونکہ کورونا سے پہلے آن لائن تعلم  کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں تھا اور اچاناک اس آن لائن جیسی بلا نے تعلیمی اداروں اور طلباء کو اس سلسلے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آن لائن کلاسز کے حصول میں طالب علموں کو کبھی لوڈ شیڈنگ تو کبھی انٹرنیٹ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کون نہین جانتا ہمارے ملک مین بجلی کے نظام اور فراہمی کو۔

آٹھ سے 9 ماہ تعلیمی ادارے بند رہے لیکن لاک ڈاؤن اور افراتفری کے عالم میں بھی اسکوم انتظامیہ نے اپنی آنکھین ماتھے پر سجاءے رکھیں اور والدین سے بھاری بھرکم فیسیں وصول کی جاتی رہیں ، طلباء کو کوئی سہولیات فراہم تو دور بلکہ آن لائن کے حوالے سے کچھ معلومات بھی نہیں دی گئی ۔ وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن میں غریبوں اور مزدوروں کی تو بات کی لیکن افسوس وزیراعظم انتخابات سے قبل اپنی جماعت کو یوتھ کی جماعت کہا کرتے تھے مگر مشکل وقت میں وزیر اعظم نے یوتھ کیلئے فیسوں میں کمی اور دیگر مسائل میں کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا نا ہی اس سنگین معاملے پر کوئی بات ہوئی جبکہ یہی نوجوان نسل آنے والے کل میں ملک کے معمار ہیں لیکین افسوس کے ساتھ آج جو حال ہمارے تعلیمی نظام کا ہےاس سے کئی زیادہ برا حال ہمارے طلباء کا ہے ۔

HEC Takes Notice After Students Threaten To Boycott Online Classes

تعلیم کو تو جیسے طلباء نے اس کورونا مین بلکل ہی خیر آباد کہ دیا ہے یہی وجہ ہے شاید جس طرح کورونا وائرس کی پہلی لہر کے بعد تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولا گیا تھا ویسے ہی اب ایک بار پھر تعلیمی اداروں کو کھولا جارہا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران طلباء کو پروموٹ کرکے اگلی کلاسز میں ترقی دی گئی تھی، اس مرتبہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا، امتحانات ضرور ہونگے اور فزیکل ہونگے۔لیکن یہ بات طلباء کو بلکل پسند نا آئی اور ایک ہنگامہ برپا ہے ۔

یہ خبر سنتے ہی طلباء میں غم و غصہ پایا جارہا ہے اور ایک عجب ماحول ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہی طلباء کبھی سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے کہ اچھا نظام دو ،تعلیم کو بہتر بناو ،ہمیں تعلیمی معیار چاہیے لیکن صد افسوس کہ ملک کے مستقبل ملک بھر میں پلے کارڈز اٹھائے سراپا احتجاج ہیں کہ جب پورا سال آن کلاسز دی گئی ہیں تو اب امتحانات بھی آن لائن لئے جائیں۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ طلباء کے پاس اسمارٹ فونز یا انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے کیونکہ آج کے جدید دور میں اسمارٹ فون ہر کسی کی پاس موجود ہے۔ گھر میں کھانے کیلئے ہو یا نہ ہو اسمارٹ فون لازمی ہوگا مگر یہاں پر سوال یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس اسمارٹ فون بھی ہو اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی میسر ہو لیکن اگر اس کے پاس آن لائن کلاسز کے وقت بجلی نہیں ہو تو پھر انٹرنیٹ کی فراہمی کیسے ہوگی؟ جہاں تک بات ہے مہنگے مہنگے انٹرنیٹ پیکجز کی تو ہاں وہ ہر کوئی افورڈ نہیں کرسکتا۔

یہ بات سچ ہے کہ آن لائن اور فزیکل کلاسز میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اسی وجہ سے اسٹوڈنٹس کی تیاری بے یقینی کی کیفیت میں ہوئی اور تو اب اگر امتحانات آن لائن کے بجائے فزیکل لیے جائیں گے تو یقیناً طالب علموں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے لیکن یہ کہاں ک ریت نکل چلی ہے کہ ہر بات کے کے لیے سڑکوں پر نکل آو اور احتجاج کرکے ملک کو جنگ کا میدان بنا دو کیسے کوئی فرق کر سکےگا کہ کون تعلیم یافقہ ہے اور کون تعلیم سے محروم کیونکہ آج جو کچھ سڑکوں پر ہورہا ہے احتجاج کے نام پر یہ غنڈہ گردی ،نعرے بازی ،توڑ پھوڑ ،جلاو گھراو ،پتھراو ،گرفتاریاں یہ سب تعلیم کے لیے ہے ؟ یہ ہیں ہمارے آنے والے کل کا مستقبل کیا دکھا ئیں ہم دنیا کو یہ ہیں ہمارے ملک کے معمار جو آج سڑکوں پر ایک دوسرے کے گریباںوں کو چاک کیے کھڑے اپنے ملک کی عزت کا جنازہ پڑھا رہے ہیں۔

Protest against on-campus exams: Lahore police register cases against 500 students - Pakistan - Business Recorder

کون روکے ان کو کون بتائے گا ان کو کہ صحیح اور غلط کیا ہے کیونکہ یہ تمیز بھی تو ہمیں تعلیم سے ہی آتی ہے جبھی تو مثال دی جاتی ہی کہ جاہل سے کبھی بحث نا کرو کیونکہ وہ پہلے بحث کریگا اور ہار جانے کے ڈر سے وہ تمھارا دشمن ہوجاءیگا اور ہم نے شاید یہی کیا ہے کہ تعلیم کو بہتر بنانے کی کوشش تو دور اس پر بس بحث ہی کی جو بحث اب بھی جاری ہے کہ امتحانات آن لائن لیے جا ئیں یا فیزیکل اب دیکھنا یہی ہے کہ یہ جنگ کون جیت کر دکھاتا ہے کیونکہ اب بات تعلیم ،معیار،روشن مستقبل ،بہتر کل ملکی ترقی سے بہت آگے نکل گئی ہے اب تو س جنگ کا ایک میدان رہ گیا ہے جہاں جو جیت گیا وہ ہی سکندر کہلائے باقی سب خاک میں مل جائے گا

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *