قابل ستائش فروری :بھارتی ایئر فورس کو مگ کے بعد تیجس کا جھٹکا

قابل ستائش فروری :بھارتی ایئر فورس کو مگ کے بعد تیجس کا جھٹکا

182 views

بھارتی ایئر فورس کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے تو پہلا خیال ابھینندن اور  کریش ہوتے طیارے کا ہی آتا ہے ۔ کہنے کو تو دنیا کی چوتھی بڑی عسکری طاقت کا دعوی کرنے والی بھارتی عسکری قیادت کے لیے  سیاسی اور دفاعی طور پر پر کرپٹ ، کمزور اور پیشہ ورانہ طور پر مجبور ایئر فورس لمحہ فکریہ ہے ۔

فہمیدہ یوسفی

دنیا بھر کے دفاعی ماہرین اس  ایئر فورس کی خامیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ امریکی تھنک ٹینک  کارنیگی اینڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی اے ایف کی گرتی ہوئی ساکھ فلاپ ہوتے  ترقیاتی منصوبے جبکہ چین اور پاکستان  ایئر فورس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیتیں بھارتی ایئر فورس کی عددی برتری کے لیے شدید خطرہ ہیں۔  تاہم لگتا تو یوں ہے کہ بھارتی ایئر فورس کے ستارے گردش میں ہی ہیں مگ 21 کی وجہ سے بھارتی ایئر فورس کو پوری  دنیا میں سبکی اٹھانا پڑی ہے وہیں بھارتی پائلٹس کی مہارت پر بھی سوال اٹھتے ہی رہے ہیں۔

یاد رہے کہ  مگ 21 کے حادثات میں اب تک 170 سے زائد پائلٹ اور 40 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔دنیا بھر کے علاوہ بھارت کے اپنے دفاعی ماہرین کی جانب سے بھی ایئر فورس کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔

Image result for flying coffin mig 21

شاید یہی وجہ بنی کہ مگ 21 کے ناکارہ بیڑے کی جگہ تیجس طیاروں  کو متعارف کرایا گیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی تیجس جہازوں کی تعریفوں کے پل باندھے ۔ تاہم اب جو  خبریں آرہی ہیں وہ بھارتی میڈیا اور بھارتی ایئر فورس دونوں کے لیے اچھی نہیں ہیں ۔

35 سال سے زیادہ عرصے تک متعدد تیجس کے  پروٹوٹائپ پر کام کرنے کے باوجود تیجس طیارے کے بنیادی ڈیزائن کو  خامیوں کا سامنا ہے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ-ایچ اے ایل دیسی ساختہ تیجا جہاز  کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔جس کی وجہ سے ساٹھ فیصد تیجس طیاروں کو گراونڈ کرنا پڑگیا ۔

مزید پڑھیں: تو کیا رافیل طیاروں کی شمولیت بھارتی فضائیہ کی شکستہ تاریخ بدل سکتی ہے؟؟

دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے اعلی عہدیداروں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ  

MK1A  کے انڈکشن میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ-ایچ اے ایل کی جانب سے غیر معمولی تاخیر ہوگئی ہے جبکہ خبروں کے مطابق  2024  سے پہلے ممکن نہیں ہوسکے گا  جبکہ بقیہ طیاروں کا انڈکشن 2030 سے پہلے ممکن نہیں ہوگا ان طیاروں کے انڈکشن کی تاخیر ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ-ایچ اے ایل کے کرپٹ بیوروکیٹک سسٹم کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ ایل سی اے  کے پینتیس سالہ ترقیاتی پروگرام پر بھی سوال ہے  اب تک چالیس کے قریب فرنٹ لائن تیجس فائٹر کو بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا ہے  اور ان طیاروں میں انجن کے زور پر پورا اترنے کی کمزور صلاحیت جبکہ  طیارے کا وزن  ایندھن کی گنجائش  جبکہ سامنے سے 7.62 ملی میٹر بلٹ سے پایلٹ کا تحفظ کرنے میں ناکامی  جیسی پیچیدگیا ں سامنے آئی ہیں جس کی بنیاد پر ساٹھ فیصد تیجس مستقل  طور پر گراونڈ کردیے گئے ہیں ۔

Image result for MK1A

ایچ اے ایل تیجس ایل سی اے ایم کے 1 اے ، ایک ہلکا پھلکا ، سنگل انجن ، کثیر الجہتی جنگی طیارہ ہے جو ہندوستان کی دفاعی تحقیق اور ترقیاتی تنظیم نے مقامی طور پر تیار کیا ہے ہندوستان کا   مقامی طور پر تیار کردہ تیجس اڑان سے پہلے ہی  فٹنس کے مسائل سے دوچار ہے  .

شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی فضائیہ نے  بالا کوٹ اسٹرائک میں  تیجس طیارے کو تعینتات کرنے کا رسک نہیں لیا تھا جبکہ پاکستان کے سرپرائز آپریشن سویفٹ ریٹورٹ نے بھارتی ٖفضائیہ کو ہلا کررکھ دیا تھا بلکہ دنیا نے بھی ایک بار پھر پاکستانی شاہینوں کی مشاقی اور چابکدستی اور جنون  کا نظارہ دیکھا  مجاہدین افلاک نے پاکستان میں تیار پاکستان کا مان  جے ایف 17 تھنڈر سے بھارتی سورماؤں کے  جیت کے خوابوں کو ایسا چکنا چورکیا کہ اس خواب  کی کرچیاں چنتے چنتے اب زمانے لگیں گے پاکستانی شاہینوں نے  نہ  صرف مگ 21 اور ایس یو 30 کو نشانہ بنایا اور مار گرایا  بلکہ بھارتی پایلٹ ابھی نندن کو بھی زندہ گرفتار کیا۔

مزید پڑھیں: ستائیس فروری 2019 : مودی تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Image result for abhinandan

اس حقیقت سے بھارتی ائیرفورس  نظریں نہیں  چراسکتی کہ  27 فروری  کو تیجس جہاز استعمال نہ کرنا اس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت  ہے۔جبکہ دوسری جانب  یہ تاریخ ساز کارنامہ پاکستانی ایوی ایشن انڈسٹری کی مہارت اور پیشہ وارانہ کارکردگی کا ثبوت ہے.

فی الحال اطلاعات کے مطابق بھارت کےفرنٹ لائن لڑاکا تیجس جنگی طیارے پاکستان کی چوتھی نسل JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں سے لڑنے کے لئے تیار کیے جارہے ہیں۔ لیکن دراصل میں یہ طیارہ ہندوستان کے ایک اہم لڑاکا طیارے مگ کے متبادل  کے لئے تیار کیا گیا تھا ۔کیونکہ 1970 کے بعد سے صرف مگ 21 حادثات میں 170 سے زیادہ ہندوستانی پائلٹ اور 40 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ کم سے کم 14 مگ 21 سن 2010 اور 2013 کے درمیان گر کر تباہ ہوچکے ہیں اور 1966 ء سے 1984 کے درمیان بنائے گئے 840 طیاروں میں سے نصف سے زیادہ گر کر تباہ ہوچکے ہیں ۔

 

Image result for indian crash fighter jet

تیجس فائٹ جیٹ جو حفاظتی مسائل سے دوچار ہیں  ناکارہ مگ 21 کی جگہ لینے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں ۔ آئی اے ایف  کی نیندیں اڑانے کے لیے یہ  حقیقت کافی ہے کہ  دیسی تیجاس طیاروں  کا  ڈیزائن ، معیار اور ساختی امور کی کمزوریوں کا  کوئی فوری حل نہیں ہے  جس کی وجہ سے ان کا  مطلوبہ جنگی تیاریوں  کا منصوبہ نامکمل خواب بنتا جارہا ہے

یہ حقیقت شاید کم لوگ جانتے ہیں کہ  تیجس ایچ اے ایل کا پہلا ناکام لڑاکا طیارہ ترقیاتی منصوبہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ہندوستانی فضائیہ کے لئے مقامی طور پر لڑاکا جیٹ طیارے تیار کرنے کا سب سے پہلا منصوبہ HF-24 Marut پروجیکٹ تھا ، جو 1955 میں ملٹی رول ایئرکرافٹ ڈیزائن کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا اس منصوبے   کی بھی متعدد پروٹو ٹائپ تیار کی گئیں اور اسی طرح ڈیزائن  کی خامیوں ، اور ساخت کی کمزوریوں کی وجہ سے  بری طرح فلاپ ہو ا۔

Image result for HF-24 Marut 1955

ہندوستانی فضائیہ ناقص تربیت کے معیار

دنیا نے دیکھا جب ہندوستانی ایئر فورس نے دو ایڈوانس لڑاکا طیارے کھوئے۔ 27 فروری ، 2019 کو پاک فضائیہ کے ساتھ تاریخی  فضائی تصادم میں ایک مگ 21 بائسن اور ایک ایس یو 30 ایم کے آئی ضائع ہوئے جبکہ  بھارتی  ونگ کمانڈر ابھینندن  پاکستان کے قبضے میں آئے۔ . یہ تاریخی شکست  ہندوستانی فضائی دفاع کے اہلکاروں کے لیے نہ صرف شرمندگی کا باعث بنی  بلکہ اپنی  عوام کے سامنے  بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا

تیجس طیارہ حفاظت کے سنگین مسائل سے دوچار ہے ، اور یہ معاملات طیارے کے مینوفیکچررز کے لئے اس قدر تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں کہ سن 2012 کے آخر میں ، تیجس کو خود ہی ایچ ایل نے تین ماہ سے زیادہ  عرصے کے لیے ground کیا تھا۔

بھارتی ہوا بازی ماہرین نے تیجس میں جنگی صلاحیتوں کے فقدان اور عالمی معیار پر پورا نہ اترنے کے لیے ان  خامیوں کا الزام ہندوستان میں تیجس لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ کی تیاری میں ‘میڈ ان انڈیا’ میں بھارت کے ناکارہ اور کرپٹ بیوروکریٹس کو ٹہرادیا ہے۔ یاد رہے کہ مئی 2015 میں ، ہندوستان کے کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کے ذریعہ تیجس طیارے پر عوامی طور پر شدید  تنقید کی گئی تھی

تیجس لڑاکا طیاروں کی تیاری میں بنیادی خامیوں کی وجہ سے ہی ہندوستانی بحریہ نے  ممکنہ ملٹی رول ایئرکرافٹ کے طور پر تیجس کو مسترد کردیے ۔

Image result for indian tejas

یہ ریجکشن مودی حکومت کے لیے شدید  شرمندگی کا باعث بنا  ، جس کو  امید تھی کہ وہ تیجس لڑاکا طیاروں کی ہندوستانی بحریہ میں شمولیت کے بعد  ہندوستان کی فوجی صنعتی صلاحیت کو دنیا کے سامنے  فخر سے پیش کرے گی۔ تاہم ہندوستانی بحریہ نے تیجس مسترد کردیا  یہ دراصل ملٹری سسٹمز میں ہندوستان  کی پیداواری  صلاحیت پر بھی سوال ہے قابل غور بات یہ ہے کہ  ہندوستانی حکومت نے ایک سے زیادہ تیجس بحری پروٹو ٹائپس اور اس سے وابستہ نظاموں کی ترقی اور جانچ پر 8000 کروڑ (1.1 بلین ڈالر) سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔مودی سرکار نے ان طیاروں کے لیے اپنی ہی ائیر فورس کو 45 ہزار 969 کروڑ کا چونا لگادیا ہے ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھارتی کمپنی ہندوستان ایرونا ٹکس لمیٹڈ کو6اعشاریہ25 بلین ڈالر ٹھیکے سے نوازا اور اب یہ ٹھیکا مودی سرکار کے لیے بڑا سر درد بن کر سامنے آرہا ہے ۔ بھارتی فضائیہ میں کرپشن اور بدعنوانی کی کہانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا بھارتی تیجس پاکستانی جے ایف 17ڈویل سیٹ تھنڈر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟؟

دوسری جانب  پاکستان کا مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کردہ جے ایف 17 لڑاکا جیٹ بلاک 1 ، بلاک 2 اور دو سیٹر جے ایف 17 ایک مؤثر اور کم لاگت رکھنے والا ایک انجن کا لڑاکا طیارہ ہے، جو عالمی مارکیٹ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عمدہ انتخاب ہے۔

جس کی خریداری کے لیے  میانمار ایئرفورس نائجیریا ایئرفورس ، آذربائیجان ایئر فورس ، ارجنٹائن کی فضائیہ ، اور ملائیشین ایئرفورس اپنی دل چسپی ظاہر کررہے ہیں  ، جبکہ امید ہے کہ چوتھی نسل کے جے ایف 17 بلاک 3 کو جلد ہی پی اے ایف کے ذریعہ شامل کیا جائے گا۔

بھارت کے انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کونفلکٹ اسٹڈیز، نئی دہلی کے سینئر فیلو ابھیجت آئیر-مترا کا کہنا ہے کہ تیجس کے مقابلے میں جے ایف-17 کو ترجیح دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ تیجس اپنی کارکردگی سے خود بھارت کی فضائیہ کو متاثر کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔اگر کوئی ملک اپنے مِگ-21 سے مگ-27 کے طیاروں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، یا چینی ایف-6 یا ایف-7 ٹائپ طیاروں یا امریکی ایف-5 طیاروں کی جگہ نئے طیارے لینا چاہتا ہے یا پھر جدید ٹرینر ہی حاصل کرنا چاہتا ہے تو جے ایف-17 اس کے لیے بہترین قابلیت اور قیمت رکھنے والا جہاز ہے۔جبکہ تیجس ایک مکمل طور پر کنفیوزڈ طیارہ ہے اور کسی بھی جانے مانے مارکیٹ سیگمنٹ فٹ نہیں ہوتا۔

Image result for jf thunder 17 and indian tejas

جے ایف-17 ایک درمیانے درجے کا جہاز ہے لیکن اس میں جو بھی بہتریاں کی گئی ہیں، وہ ٹھوس اور آزمودہ ہیں۔بھارتی ماہر نے کہا کہ تیجس ایک ڈراؤنا خواب ہے، اس کی کوئی بات آزمودہ اور ثابت شدہ نہیں ہے۔ اس پر کچھ زیادہ ہی تجربات کر لیے گئے ہیں اور یہ کسی خریدار کا اعتماد حاصل نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ جے ایف-17 زیادہ تر چینی اور کچھ اطالوی ایویونکس اور ریڈار اور روسی انجن استعمال کرتا ہے – جسے تیسرے ممالک کو برآمد کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ جبکہ تیجس میں انجن امریکی، ریڈار اسرائیلی اور ایویونکس مختلف ملکوں کے بنائے گئے ہیں اور یہ ایسے ملک ہیں کہ جو بھارت سے ان کی برآمد کے معاملے میں فراخ دل نہیں ہوں گے۔

پوری دنیا میں کسی بھی ہوائی یا بحری فوج نے تیجس طیارے میں سے کسی کے لئے کوئی آرڈر نہیں دیا ہے ، اس کے علاوہ ، ہندوستانی فضائیہ نے ہچکچاتے ہوئے اس کے احکامات جاری کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان ائیرفورس کا ایک اور تاریخی اقدام ، جے ایف 17 ڈبل سیٹ کی شمولیت

ہندوستانی ہوا بازی کی صنعت کی کمپنیوں جیسے ایچ اے ایل اور دیگر ڈی آر ڈی او سے منسلک ماتحت کمپنیوں نے ایرو انڈیا ۔2021 شو میں ، دو انجن  والے طیاروں کے شاندار ڈیزائن دکھائے جیسے  ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئرکرافٹ-اے ایم سی اے ہندوستانی ایئر فورس اومنی رول فائٹر ہے جس میں کئی دیسی سینسرز اور ایویونکس ہیں۔ نیول ایم کے 2 ٹوئن انجن ڈیک پر مبنی لڑاکا ، چمکدار گتے والا مک اپ اور پولیمر ساختہ پیمانے کے ماڈلز کے ساتھ ، لیکن ایچ اے ایل کی پیداواری صلاحیتوں کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈیزائن محض کاغذوں کے منصوبے ہیں ، جن کی اگلی نسل کے لڑاکا طیاروں کے متوقع پروٹو ٹائپ کی توقع نہیں کی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ سال 2028 سے 2030 تک  یہ قابل آپریشن  ہو۔

لہذا ، ہندوستانی فضائیہ کی ہائی کمان کا  عام خیال یہ ہے کہ تیجاس لڑاکا طیاروں میں سے 60 فیصد ناکارہ ہیں  ، بار بار سسٹم کی ناکامیوں ، ڈیزائن کی خامیوں ، افسر شاہی کی تاخیر اور ہندوستانی دفاعی پروڈکشن میں بدعنوانی ، سیاسی طور پر متاثرہ آئی اے ایف کے  Te 6.25 بلین ڈالر کے اس  اندھے معاہدے میں ایچ اے ایل کی جانب  83 تیجس جنگجوؤں کی خریداری اور فراہمی میں 2030 تک کی   متوقع تاخیر ہندوستانی فضائیہ کی آپریشنل تیاری کے لحاظ سے ایک اور بہت بڑی تباہی ثابت ہوگی ، جو آنے والے عشروں تک آئی اے ایف کے مطلوبہ 42 آپریشنل اسکواڈرن کی ضرورت سے بھی کم رہے گی۔جبکہ ہندوستانی  ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری غیر معیاری پیداوار، مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے دنیا میں بدنام ہے، اور اس کی حالیہ کارکردگی بھارتی ایوی ایشن کے معیار  پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب بھارتی عسکری تھنک ٹینک کے پاس ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *