فسادیوں کو نہ زمین نصیب ہوگی نہ آسمان ۔۔

فسادیوں کو نہ زمین نصیب ہوگی نہ آسمان ۔۔

34 views

یہ جو زمین پر فساد پھیلا کر اکڑ کے چلتے ہیں
بھول بیٹھے ہیں  خدا کو خود کو فرعون سمجھتے ہیں
ان کا وہ حشر ہوگا کہ اب زمانہ یاد رکھے گا 
نا اب ان کو زمین نصیب ہوگی نا آسمان پر کوئی ٹھکانہ ہوگا۔۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے ایک طویل عرصے تک شدت پسندی ،دہشت گردی ،اور دہشت گرد تنظیموں کے پے در پے حملے نا صرف برداشت کیے بلکہ اس کے خلاف ہمیشہ اعلان جنگ کیا اور قوم نے پاک فو ج کے ساتھ مل کر اس دہشت گردی کے خاتمے میں قدم بڑھایا

صبحین عماد

ملک و قوم کی سلامتی کے لیے اس کی حفاظت کے لیے دشمن کے ہر ناپاک ارادے کو خاک میں ملانے کا عزم کیا اور اس کے لیے دن رات کی انتھک محنت ،ہمت لگن ،جرت سے اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالا اور کامیاب آپریشن کرکے ملک سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا ۔

آپریشن ردالفساد کا آغاز۔۔

سال 2017 کے ابتدائی دو ماہ میں ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں اچانک تیزی آئی اور شدت پسند تنظیموں نے ایک ہی دن میں پشاور سے لے کر کراچی اور پھر بلوچستان تک اہم سرکاری اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید دہشت گرد پھر سے منظم ہو رہے ہیں۔

ان حملوں میں لاہور میں چیئرنگ کراس میں ہونے ولا واقعہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جس میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب ملک کے بیشتر لوگ یہ سمجھ رہی تھے کہ شاید ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

تاہم ان بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں فروری 2017 میں فوج کی طرف سے آپریشن ردالفساد کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ 

پاکستان میں موجود چند مزید دہشت گرد تنظیمیں موجود تھیں جن کو ختم کرنے کا عزم بھی پاک فوج نے کیا اور آگے بڑھ کر 22فروری 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت اور سربراہی میں آپریشن ردالفسار کا آغاز کیا گیا، اس آپریشن کی بنیادی اہمیت جو اسے دیگر تمام چیزوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ تھی کہ آپریشن کسی مخصوص علاقے پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔

2017 میں آپریشن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب دہشت گردوں نے قبائلی اضلاع میں اپنے انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور مختلف آپریشن میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی، دہشت گرد، ان کے سہولت کار شہروں، قصبوں، دیہات، اسکولوں، مدارس، عبادت گاہوں، کاروباری مراکز حتیٰ کہ بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانا کر زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوششوں میں بھی مصروف تھے۔

اس ملک کے لوگوں نے ہزاروں ہی جانوں کے نظرانے دیے دہشت گردوں کی درندگی مظالم کا نشانہ بچے تک بنے لیکن تب بھی اس قوم کے لوگوں نے ہار نہیں مانی اور اس آپریشن  کے ذریعے یہ واضح پیغام بھی دشمن کو دیا کہ چاہے دشمن کتنا ہی خود کو طاقتور سمجھ لے اس قوم کے حوصلے اور ہمت سے ایک قدم پیچھے ہی رہے گا ۔

آپریشن کے چار سال ۔۔

22 فروری 2017 کو شروع ہونے والے آپریشن کو چار سال مکمل ہو گئے ہیں جس میں پاک فوج نے واضح کامیابی حاصل کی ہے

جبکہ پچھلے 3 سالوں میں ملک بھر میں 1 لاکھ 49 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور طول و عرض میں چھپے دہشتگردوں، انتہا پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کیا گیا۔

انسداد دہشتگردی کی جنگ کے دوران 2001 سے 2020 تک 350 سے زائد بڑے، 850 سے زائد معمول کے آپریشنز کیے گئے۔ 22 فروری 2017 سے 22 فروری 2020 تک انٹیلی جنس اداروں نے دہشتگردی کے 400 منصوبے ناکام بنائے، فوجی عدالتوں نے 344 دہشتگردوں کو سزائے موت اور 301 کو دیگر سزائیں سنائیں، 5 کو بری کیا گیا

کراچی کو بھی جرا ئم سے پاک کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا گیا اور کراچی کا امن واپس آیا تو شہر قا ئد خطرناک شہروں میں 97 سے 91 پر نمبر پر آیا ،امن بحال ہوتے ہی کھیلوں کے میدان بھی پھر سے آباد ہوئے،کبڈی ورلڈ کپ مسری لنکا اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کی آمد ،اسلام آباد کا نام پرامن شہروں میں شامل ہوا ،جبکہ برٹش ایئر ویز نے 10 سال بعد پاکستان کیلئے پروازیں شروع اور نئی ایئر لائنز نے پاکستان کا رخ کیا۔

آپریشن کے آغاز پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے۔ ریاستی و غیر ریاستی عناصر کا گٹھ جوڑ اور ان کے ناپاک عزائم کو متحد ہو کر شکست دیں گے، سپہ سالار کے ان الفاظ پر لبیک کہتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور عوام نے پاکستان کی تصویر میں امن کے رنگ بھر دیئے۔

آپریشن ردلفساد 2017 سے 2021 تک ۔

2017سے 2021 کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے ساڑھے 18 سو واقعات رونما ہوئے ، پاک افغان سرحد پر 1684 حملے کے واقعات ہوئے ، ان تمام واقعات اور آپریشنز کے دوران 353 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا

2017سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت اور توسیع کے لئے بہت کوشش کی گئی، ایف سی کے 58 نئے ونگز قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید 15 کا قیام عمل میں لایا جانا باقی ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک ہم افغانستان کے ساتھ ایک نئی اور مثبت سوچ کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے اس وقت تک دہشت گردی کا معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکتا۔

اس آپریشن کے ذریعے دشمن کو ہمیشہ کی طرح ایک بہت واضح پیغام بھی ملا کہ دشمن کے اب  ہر قدم پر افواج پاکستان کی نظر ہے ،

ملک میں امن و امان کی صورتحال کا ایک بدترین دور کسی ایک شہر نے نہیں بلکہ پورے پاکستان نے ہی اس کو دیکھا سہا اور ظالم کے وار کو برداشت کیا ہے ،

آپریشن ’رد الفساد‘ سے پہلے بھی پاکستان آرمی مختلف آپریشنزبھرپور کامیابی سے سرانجام دے چکی ہے‘جس میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں آپریشن المیزان، جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں آپریشن راہ راست اور راہ نجات، جنرل راحیل شریف کے دور میں ’ضرب عضب‘ شامل ہیں۔

ان آپریشنز کے دوران وانا‘ سوات اور وزیرستان سے دشمن کی کمین گاہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ان علاقوں میں ریاستی رٹ قائم کی گئی اور ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد شروع ہوا۔

دشمن کی کمر تو کمزور ہوچکی تھی یہی وجہ تھی کہ دشمن نے وار کرتے ہو کسی بھی چیز کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ملک مین ایک وقت ایسا بھی آیا جب اسکول ،کالجز ،ہسپتال ،سڑکیں ،چرچ،مدرسوں کو نشانہ بنایا جانے لگا اور یہی وہ وقت تھا جب پاک فوج نے دشمن کو جہنم رسید کرنے کا پختہ یقین کرکے آپریشن شروع کیا تھا ،

آپریشن کو چار سال ہوگئے ۔۔

22فروری 2021 کو اس آپریشن کو شروع ہوءے 4 چار پورے ہوگءے جس پر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آپریسشن ردالفساد کو چار سال مکمل ہوگئے۔ آج ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد ملک میں امن کا قیام تھا۔ آپریشن ردالفساد کا دائرہ پورے ملک پر محیط تھا۔ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔  اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کا خاتمہ کردیا۔

آپریشن کا مقصد ۔۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن رد الفساد 2 نکاتی حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔ دہشتگردوں نے ملک کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد دہشت گردوں کو غیر موثر کرنا تھا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ قبائلی علاقے کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے۔ ملک بھر میں 3 لاکھ سے زائد انٹیلیجنس بنیاد پر آپریشن کیےجاچکے ہیں۔ دہشتگردوں نے پاکستان میں زندگی مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی۔

بارڈر منیجمنٹ۔۔

بارڈر منیجمنٹ سے متعلق میجرجنرل بابرافتخار نے کہا کہ ایف سی کے 58نئے ونگز قائم کئے جا چکے،مزید15کاقیام باقی ہے جبکہ 2611کلومیٹرپاک افغان بارڈرپرباڑکا83فیصدکام مکمل کیاجاچکا ہے ،باڑ منصوبے کے تحت497فورٹس تعمیرہوچکےہیں، بارڈر منیجمنٹ ڈویژن وزارت داخلہ کے ماتحت ہے ، 72کلو میٹر سے زائد علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کردی گئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بارڈرکنٹرول کےتحت ٹرمینل سے 33 فیصدنقل وحرکت ہو رہی ہے اور 48ہزارسےزائد بارودی سرنگیں برآمد کرچکے ہیں، آپریشن کو سپورٹ اور لوگوں کی حفاظت کیلئے بہت سی چیک پوسٹیں قائم کی گئیں، 450چیک پوسٹیں 250سے بھی کم رہ گئی ہیں، 37ہزار 428 پولیس اہلکار کو ٹریننگ  دیکر قبائلی علاقوں میں لگایا جائے گا، پاک افواج نے بلوچستان میں3ہزار865لیویز اہلکاروں کو ٹریننگ دی۔

نیشنل ایکشن پلان

یشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کئےگئے، 344 دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئیں جن میں 58پرعملدرآمدہوچکا، 78سےزائد تنظیموں اوردہشت گردوں کیخلاف بھرپور ایکشن کیا گیا، دہشتگردوں کے ایسٹ کو فریز،نقل وحرکت پر پابندی لگائی گئی۔

میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی نقل وحرکت اور اغوابرائےتاوان کےعمل پرمؤثر کام جاری ہے ، بلوچستان،جی بی میں نوجوانوں کو انتہا پسندی پر مائل کرنے کےعزائم کوناکارہ بنایا گیا اور انتہاپسندی کی طرف مائل 2005لوگوں کو قومی دھارے میں واپس لایا گیا۔

آپریشن اور کراچی کا امن ۔۔

کراچی کے حوالے سے انھوں نے کہا کراچی میں آپریشن کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی، کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کاحامل ہے اور عالمی کرائم انڈیکس میں چھٹے سے103 نمبر پر آگیا۔

دہشت گردی سے سیاحت تک کا سفر ۔۔

دہشت گردی سے سیاحت تک کے سفر سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے سیاحت کا یہ سفر انتہائی کٹھن تھا ، جوعلاقے دہشت گردی کا شکار تھے اب وہاں اقتصادی کام ہورہے ہیں، کے پی قبائلی اضلاع میں31بلین روپے کی لاگت سے831 منصوبوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

میجرجنرل بابرافتخار نے کہا کہ ان 4سال میں 1200سے زائدشدت پسند ہتھیار ڈال چکے ہیں، افواج پاکستان مشکلات کے باوجود اپنے کام میں مصروف رہی، نیشنل سیکیورٹی کے جتنے ایشوز آئے اس پر میڈیا نے بھرپور تعاون کیا۔

یوم پاکستان بھرپور طریقے سے منایا جا ئیگا ۔۔

یوم پاکستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا اگلے ماہ 23مارچ کویوم پاکستان آرہاہے ، یوم پاکستان پر بھرپور قومی یکجہتی کیساتھ پریڈ کاانعقاد ہوگا ، عوام کے تعاون سے ہم ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔

امن کا سفر الحمد اللہ جاری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امن کا سفر الحمد اللہ جاری ہے ،آپریشن ردالفساد صرف ایک ملٹری آپریشن نہیں تھا اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد بہت حد تک کی جاچکی ہے اور نیشنل ایکشن پلان کےتحت کچھ چیزوں پر کام باقی ہے ان پر بھی کام ہورہاہے، اورتیزی سے ہورہاہے۔

میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کام جاری ہے، ہائبرڈ وار فیئر کی مد میں آنیوالے چیلنجز پر حکومتی سطح پر بھی اقدامات ہوئے ہیں، بارڈر منیجمنٹ پاکستان کو محفوظ کرنے کیلئے اہم تھا۔

فوج اکیلی کچھ نہیں ۔۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا قربانیاں صرف فوج یا رینجرز، پولیس نے نہیں دیں لیکن زیادہ قربانیاں عوام نے دی ہیں ، فوج اکیلی کچھ نہیں یہ عوام کی بدولت ہوتی ہے ، عوام ساتھ کھڑی ہے تو فوج کچھ بھی کرسکتی ہے اور اگر عوام کی حمایت نہ ہوتو کچھ بھی نہیں کیاجاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے کوروناکےدوران اپنا مثبت کردارادا کیا،مسائل اجاگرکئے، موجودہ صورتحال میں ہر ایک کو کوروناویکسین کی ضرورت ہے ، سب سے پہلے فرنٹ لائن پر ہیلتھ ورکرز ،پھر سینئر سٹیزن ہیں، فوج اپنا کام کررہی ہےاورکرتی رہےگی ، پاک فوج قوم اورپاکستان کے لئے ہرچیز کرے گی۔

گوادر اسٹیڈیم کے چرچے ۔۔۔

میجرجنرل بابرافتخار نے کہا کہ گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کی آئی سی سی اوردنیا بھر میں تعریف ہوئی، بلاشبہ گوادر میں دنیا کا خوبصورت ترین اسٹیڈیم سامنے آیا ہے، بین الاقوامی کرکٹ کی کچھ ضروریات ہوتی ہیں ، گوادر اسٹیڈیم ضروریات پرپورااترے گا تو امید ہے ون ڈے انٹرنیشنل میچ ہوگا، ہوسکتا ہے اس بار نہیں تواگلی بار پی ایس ایل کا میچ گوادر میں بھی ہو۔

سوشل میڈیا کا کردار 

سوشل میڈیا سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ تھریٹس کی شکل بدل رہی ہے، نئی ٹیکنالوجیز آرہی ہیں اور سوشل میڈیاپرشدت پسند مواد ٹارگٹ کرنے کی کوشش کررہےہیں، حکومت اس پرقانون سازی کیلئےکام کررہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی قیاس آرائیں نہیں ہونی چاہیے۔

میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی قیاس آرائیں نہیں ہونی چاہیے، ان چیزوں میں کوئی صداقت نہیں ہے ، ان چیزوں کےبارے میں سوچنا یاقیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہیے، فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں اتنی شارٹ ٹرم نہیں ہوتیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *