قابل ستائش فروری: نو بیس سے نو پینتالییس تک کا فاصلہ

قابل ستائش فروری: نو بیس سے نو پینتالییس تک کا فاصلہ

125 views

اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ آج کل کے جدید دور میں اکیسویں صدی کی  ٹیکنالوجی نے  اب  دنیا بھر کی  جنگی  صورتحال کو یکسر  تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔جبکہ یہ بات بھی غور طلب ہے  کوئی بھی ٹکر کی دو  طاقتیں  کئی  عرصے  سے فضائی محاذ پر کبھی  آمنے سامنے نہیں آئیں۔ تاہم  فروری 2019 میں   ایک ایسی خطرناک  جھڑپ دیکھنے میں آئی جب   بھارت اور پاکستان نے اپنی اپنی فضائی طاقتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔  اس  فضائی معرکے  کو اس صدی کا سب سے پیچیدہ اور گھمبیر معرکہ  نہ کہا جائے تو کم ہے ۔

فہمیدہ یوسفی

پلوامہ حملے اور اس کے بعد بھارتی  جارحیت کیا ہوا تھا ؟؟

اس کی شروعات  14 فروری دوہزار انیس  سے ہوئی جب  کشمیری مجاہدین نے پلوامہ کے مقام پہر بھارتی فوج کو نشانہ بنایا  جس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں شدید اضافہ ہوگیا  بھارتی حکومت نے  پاکستانی مجاہدین کے مبینہ ٹھکانے  کو نشانہ بنانے کا ارادہ کیا  اور چھبیس فروری کی رات  کو  ایک بج کر تیس منٹ  پر  بھارتی فضائیہ کی چار فارمیشنز نے پاکستان کے سرکریک رحیم یار خان  فضالیکہ اور  بالاکوٹ سیکٹر میں  گھسنے کی کوشش کی ۔

بھارتی جارحیت کی  پہلے سے خبر ہونے کی وجہ  سے پاکستانی طیارے  حفاطتی نگرانی پر مامور تھے  ان طیاروں کو بھارتی در اندازی روکنے کے لیے  ان علاقوں  کی طرف روانہ کیا گیا  بھارتی پلان کے مطابق پاکستانی طیاروں کو مختلف سیکٹرز میں مصروف کیا گیا  اور پھر جان بوجھ کر سرکریک رحیم یار خان اور فضالیکہ سیکٹر میں  بھارتی جہاز واپس مڑگئے  ماسوائے بالاکوٹ سیکٹر کے بھارت کے میراج  دوہزار  سکوئی تھرٹی لڑاکا طیارے اپنی مدد کے لیے ایندھن فراہم کرنے والے اور خصوصی ریڈار  کے طیاروں کو لیکر  بالا کوٹ کی طرف بڑھ رہے تھے ۔

ان طیاروں میں چھ جہازوں میں  اسرائیلی ساختہ  اسپائیس 2000 بم لیس تھے  اور باقی طیاروں کا مقصد ان طیاروں کی حفاظت تھا  فضائی بگرانی پر معمور  ایف سولہ  اور الرٹ ڈیوٹی پر تعینات جے ایف سیونٹین طیاروں کو  بھارت کی اس فارمیشن کی جانب بھیجا گیا اسرائیلی بم کے طویل  فاصلے پر  مار کرنے کی صلاحیت کی  وجہ سے  بھارتی بمبار  طیارے  پاکستانی طیاروں سے دور رہ کر  اپنے بم  گراکر بھاگ نکلے ۔

فارمیشن میں موجود تمام بھارتی جہاز واپس  چلے گئے  لیکن بھارتی طیاروں کی ایک بڑی تعداد  پورے بھارت کی فضائی نگرانی پر مامور کردی گئی  تاکہ  پاکستان کی جوابی کاروائی کا جواب دیا جاسکے  پاکستان کے طیارے جوابی کاروائی کے لیے تیار تھے  لیکن  زمینی حقائق کے سامنے آتے  ہی ایک عجیب صورتحال سامنے آئی   بھارتی طیاروں نے اپنے جہازوں کے  کمپیوٹر  میں نشانے کی غلط معلومات  ڈالیں  جس کے باعث تمام بم اپنی ٹارگٹ سے  کئی سو میٹر  ددور گرے  اور اس طرح بھارتی پائلٹوں  کی  غلطی کی وجہ سے  ماڈرن ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ  کہنے کو ایک اچھا پلان کیا گیا  حملہ  بری طرح  ناکام ہوگیا۔

  کسی جانب مالی یا جانی نقصان نہ ہونے کے باعث  پاک فضائیہ کو جوابی کاروائی سے روک دیا گیا  لیکن  ایک خودمختار ریاست  کے خلاف جارحیت  نے حکومت پاکستان  جوابی کاروائی  کے لیے مجبور کردیا۔

نو بج  کر بیس منٹ پا کستان کا آپریشن سویفٹ ریٹورٹ

 تناؤ سے بھرپور چھبیس کا دن اور رات گزارنے کے بعد  آخر کار ستائیس فروری  کا وہ قابل ستائیش دن آن پہنچا جس کی  جتنی بھی   ستائیش کی جائے وہ کم ہی ہوگی ۔ ستائیس فروری کی صبح  پاکستان نے کیا آپریشن سویفٹ ریٹورٹ  کا آغاز   صبح نو بجے  دن کی روشنی میں  بارہ  ایف سولہ  اور آٹھ  جے ایف سیونٹین تھنڈر  طیاروں کو بمبار طیاروں  کی حفاظت میں مامور کیا گیا  جبکہ اصل بمبار  فارمیشن میں  دو جے ایف سیونٹین  اور چار میراج  طیارے شامل تھے  جن کی رسد کے لیے  الیکٹرانک  حملے کی قابلیت رکھنے والا P820اور جدید ریڈار سے لیس SAP2000 کوبھی حملے کا حصہ بنایا گیا اور جب گھڑی میں  نو بج کر بیس منٹ ہوئے پاکستانی طیاروں نے  حملے کے لیے  اپنی پوزیشن  لے  لی  جسے اپنے ریڈار  میں دیکھتے ہی  بھارتی فضائیہ  میں  بے چینی اور بھگدڑ مچ گئی  جبکہ  اچانک آئے مہمانوں کو  دیکھ کر  سرپرائز تو ہونا ہی تھا  نو بج کر  پچیس منٹ پر  پاکستانی طیاروں نے  اپنی بمباری  کا آغاز کیا  ۔

دو جے ایف سیونٹین طیارے  ہزار پونڈ وزنی  طویل فاصلے پر مار کرنے  والے بمبوں سے  لیس تھے  انہوں نے  پاکستانی  حدود میں رہتے ہوئے  اپنے نشانوں پر  بم داغے  دونوں جے ایف سیونٹین  طیاروں نے  دو دو بم  پونچھ اور ناریان میں  بھارتی آرمی کی  بریگیڈ  ہیڈ کواٹر پر  داغے  اسی اثنا  میں  دو میراج طیاروں کی جوڑیاں بھی  اپنے ہدف کی طرف  بڑھ رہی تھیں  میراج  طیاروں  نے اپنے اپنے نشانے پر طویل فاصلے پر مار کر نے H4 بموں کا استعمال کیا  ان طیاروں میں بیٹھے ہوئے  پاکستان کی مشاق پایلٹوں نے  ان بموں کو کنٹرول  کرکے  ایک اور بھارتی  بریگیڈ ہیڈ کواٹر  اور ایک اسلحہ  ڈپو  کو نشانہ بنایا  اس کے بعد ان بموں کو کنٹرول کرتے ہوئے  حاصل کی گئی وڈیو  کو بطور ثبوت  منظر عام پر بھی لایا گیا ۔

A Bigger, Better and more Fearsome JF-17 Thunder by Pakistan Air Force

اس اچانک بمباری سے  بوکھلائی اور بلبلائی بھارتی فضائیہ  نے کشمیر میں فضائی گشت  پر  مامور طیاروں کو پاکستانی طیاروں کو روکنے کے لیے بھیجا  پاکستانی بمبار طیارے  اپنی جدید  حملہ آور صلاحیت  کی وجہ سے  پہلے ہی  ایک طویل فاصلے  پر کامیاب نشانے بازی کرکے واپس جاچکے تھے  چناچہ  بھارتی طیاروں  نے  پاکستانی فضائی نگرانی پر معمور  طیاروں کو  نشانہ بنانے  کا فیصلہ کیا  بھارتی فضائیہ  کے دو سب سے جدید SU30 طیاروں کو  پاکستانی ایف سولہ  اور دو میراج  2000 طیاروں کو  پاکستانی جے ایف سیونٹین کے  طیاروں کا مقابلہ کرنے  کے لیے  بھیجا گیا  لیکن بھارتی فضائیہ کو شاید پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں  کو جانچنے کا اس سے  بہتر موقع اب تاریخ کبھی نہیں دیگی

  جب بھارتی طیارے  مقابلے کے لیے  پاکستان کی طرف  بڑھے تو انہیں معلوم ہوا کہ  پاکستانی  فضائیہ  نے  بھارتی فضائیہ کا  سارا مواصلاتی اور ریڈیو  نظام   لاک کردیا تھا  اور  ان کو ایک ایک بھارتی قدم کی  بھرپور آگاہی بھی  تھی ریڈیو جام ہونے کی وجہ سے  پریشان SU30 طیاروں نے  ریڈار کی مدد سے  پاکستانی  طیاروں کو نشانہ بنانے کی  کوشش کی  تو جواب میں ہمارے ایف سولہ طیاروں میں لگے  جدید نظام کی وجہ سے  بھارتی طیاروں کے ناپاک ارادوں کا  پتہ چل گیا۔

خطرے کو بھانپتے ہوئے اس ایف سولہ کو جس کو اسکوڈرن لیڈر حسن صدیقی اڑارہے تھے  بھارتی طیارے  کو مار گرانے  کی اجازت دیدی گئی  اور حسن صدیقی نے  کامیابی سے  بھارتی طیاروں کو  اپنے ریڈار  کے نشانے پر  لیا  اور نو بج کر چونتیس  منٹ پر  اپنا جدید  ترین  طویل فاصلے پر  مار کرنے والا  ایم ایم میزائل  داغ دیا  بھارتی SU30 نے میزائل سے بچنے کی کوشش کرتا رہا  لیکن اس کی قسمت میں تباہ ہونا لکھا تھا  جبکہ دوسرا   SU30طیارہ  اپنے ساتھی کا حال دیکھ کر  وہاں سے بھاگ نکلا  جس کے بعد  کشمیر کا بیشتر علاقہ پاک فضائیہ کے رحم و کرم پر تھا  بھارتی طیارے کے گرنے  کی خبر ملتے ہی  بھارتی فضائیہ نے MI-171  ہیلی کاپٹر کو  اسکا سراغ لینے بھیجا  جبکہ  بھارتی فضائیہ نے  زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو  بھی الرٹ کردیا  لیکن  بوکھلاہٹ میں  اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو  نشانہ بنا ڈالا ۔

Both IAF aircrafts shot by F16s - Album on Imgur

پاک فضائیہ کی ریڈیو جمینگ کی وجہ سے ہیلی کاپٹر  اپنی شناخت  نہ کراسکا  اور بھارتی فضائیہ  نے جلد بازی میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر  کو نشانہ بناڈالا  اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کی بھارتی فضائیہ کی پیشہ وارنہ صلاحیتوں کا معیار کیا ہے  اس واقعے کو بھارتی فضائیہ کی ان ناقابل معافی غلطیوں میں گنا جاتا  ہے جس سے بھارتی فضائیہ کی تاریخ بھری پڑی ہے . یہاں صرف ہیلی کاپٹر نہیں تباہ ہوا تھا بلکہ  چھ بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے  اور دوسری جانب  میراج  2000 طیارے  جن کو جے ایف سیونٹین  طیاروں کا  مقابلہ  کرنے کے لیے بھیجا گیا  تھا ان کو جے ایف سیونٹین طیارے اپنے ریڈار پر نظر نہیں آسکے  کیونکہ جے ایف سیونٹین طیاروں  کے مجایدین افلاک ان طیاروں کے ریڈاروں  کا توڑ  بخوبی جانتے تھے  اور میراج طیارے بھی دم دباکر بھاگ نکلے  بعد میں معلوم ہواکہ پاکستانی ماہرین کے پاس  بھارتی طیاروں کے  ریڈار ٹھیک ہونے کے ثبوت موجود تھے  ۔

بھارتی طیارے صرف ریڈار خراب ہونے کا بہانہ بناکر بھاگ نکلے تھے  پاک فضائیہ نے نو بج کر پچیس منٹ  اپنی بمباری کا آغاز کردیا تھا لیکن بھارت کی فضائی نگرانی پر مامو ر  جہازوں کو  نو بج کا پینتالیس منٹ پر  مطلع کیا گیا  اس بیس منٹ کی تاخیر  کا جواب بھارتی فضائیہ کے پاس شاید کبھی نہیں ہوگا  تاہم یہ اس کے دفاعی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ضرور ہے۔

پاکستان کی فنٹاسٹک ٹی

 اس تباہی کے  بعد بھی پانچ مگ اکیس طیارے  سری نگر سے اڑ کر لائن آف کنڑول تک آپہنچے  جیسے ہی پاکستانی  طیارے کی پوزیشن  پوچھنے کے لیے  ان مگ طیاروں نے اپنا ریڈیو استعمال کیا  تو ان مہمانوں کا استقبال  پاکستانی جیمرز کے شور نے کیا  اور اس وجہ سے ان طیاروں کو کچھ نہیں سنائی دیا ۔ اسی شاندار جیمنگ کی وجہ سے یہ مگ طیارے کچھ کرنے کے قابل نہیں تھے  بھارتی فضائیہ نے  مگ طیاروں کو واپس آنے کا حکم دیدیا  لیکن ایک مگ  طیارہ  جس کا ریڈیو  جیم ہونے کی وجہ سے  یہ  احکامات  نہ سن سکا اور لائن آف کنٹرول  کی طرف چلاگیا  ۔

نو بج کر پچاس منٹ پر  جیسے ہی اس طیارے  نے سرحد پار کی  تو پاکستانی فضائیہ نے اپنے   ایف سولہ طیارے کو  اس کو مار گرانے کا حکم جاری کردیا  پاک فضائیہ کے اس ایف سولہ نے  ایک اور ایم ایم میزائل چلایا  اور وہ سیدھا  بھارتی مگ کو  جا لگا   یہ طیارہ  پاکستانی حدود میں جا گرا  اور اس کے  پائلٹ  نے  اپنے آپ کو ایجیکٹ کردیا  اور اپنی جان بچائی  اور اس پایلٹ کو جس کا نام  پاک ٖ فضائیہ اپنی وار ٹرافی کے  طور  پر یاد کریگی وہیں بھارتی فضائیہ  یہ نام ہمیشہ شرمندگی سے یاد کریگی چاہے اس پائلٹ کو کتنے ہی میڈل سے نوازدے اور یہ  پائلٹ تھا  ابھینندن  جو پاکستان کے پاس جنگی قیدی کے طور پر رہے  اور انکو  وہ چائے پلائی  جو اب رہتی دنیا تک فنٹاسٹک ٹی کے نام سے  جانی جاتی ہے۔

آپریشن سویفٹ ریٹورٹ گیلری

پاک فضائیہ کی جانب سے  27 فروری کوہندوستان کیلئے سرپرائز ڈے کہا گیا تھا  جبکہ اس یادگار دن کے حوالے سے کی جانے والی دنیا بھر  کی میڈیا کوریج، پس منظر سمیت بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے سامان  سامان اور تباہ شدہ  جنگی طیارے کی باقیات سے سجی گیلری کراچی کے پی اے ایف میوزیم میں موجود ہے جس کا نام  آپریشن سویفٹ ریٹورٹ گیلری ہے

اس کے دروازے پر لکھا ہے

The Surprise That Made Enemy Bleeds

Statue of Indian pilot Abhinandan installed in Karachi's PAF Museum - Pakistan - DAWN.COM

تیس منٹ کی جنگ جس نے بھارتی فضائیہ کو ہلا کر رکھدیا

 دوسری جانب اپنے اس قدر  بھاری نقصان کے بعد  بھارتی ٖفضائیہ میدان جنگ چھوڑ کر ہیچھے ہٹ گئی جبکہ پاک فضائیہ  نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے مزید طیارے گرانے سے اجتناب کیا  اس کے باوجود  کی اس وقت پورا میدان پاک فضائیہ کے ہاتھ میں تھا  کیونکہ حکومت پاکستان حالات کو مزید نہیں بگاڑنا چاہتی تھی  ۔

Abhinandan's mannequin at PAF Museum sparks people's interest - Newspaper - DAWN.COM

یہ جنگ صرف تیس منٹ  تک جاری رہی  لیکن یہ  اکیسویں صدی کا سب سے خطرناک  اور پیچیدہ فضائی معرکہ تھا جو پاک فضائیہ کی  صلاحیتوں  کا منہ بولتا  ثبوت ہے  اور یہ  پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ اگر کبھی کسی نے میلی آنکھ سے ہماری سلامتی کی طرف دیکھا تو اس کا انجام مگ 21   کی تباہی جیسا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *