ڈینگی اور دیگر ویکٹر بورن بیماریوں سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اجلاس

ڈینگی اور دیگر ویکٹر بورن بیماریوں سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اجلاس

10 views

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کی صدارت میں ڈینگی اور دیگر ویکٹر بورن بیماریوں سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں آگاہی دی گئی کہ رواں سال اب تک سندھ میں ڈینگی کے 170 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈینگی کے سب سے زیادہ 155 کیسز کراچی، حیدرآباد میں 6، میرپوخاص میں 5، سکھر میں 2 جبکہ لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد میں 1، 1 کیس رپورٹ ہوا۔

وزیر صحت سندھ  نے ڈینگی کے سلسلے میں نگرانی اور اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران سرکاری اور نجی لیباریٹریز میں رپورٹ ہونے والے ڈینگی کیسز کی تفصلات فراہم کریں۔ ڈینگی سے بچاؤ کے اقدامات اور آگاہی کے لئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات حاصل کی جائیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈینگی کا لاروا زیر تعمیر عمارتوں، ٹائر کی دکانوں میں زیادہ تیزی سے پنپتا ہے۔ وزیر صحت سندھ نے افسران کو ہدایت دیتے ہو کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی مہم کے لیے ورک پلان مرتب کیا جائے۔

جن علائقوں میں ڈینگی کے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں وہاں مچھر مار اسپرے اور دیگر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ برساتوں کے موسم میں ڈینگی کیسز میں اضافے کے تناسب کا بھی جائزہ لیا جائے۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ سندھ میں اس وقت 1 ہزار 125 ڈائگنوسٹک/ تشخیصی مراکز سرکاری سطح پر کام کر رہے ہیں۔ تشخیصی مراکز میں ڈینگی کے علاوہ ملیریا اور لشمانیا کے امراض کی تشخیص بھی کی جاتی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں سال 2019 کے مقابلے میں 2020 ملیریا کیسز کی تعداد 18 فیصد رہی۔ کراچی میں ملیریا اور ڈینگی کے سب سے زیادہ کیسز ضلعہ ایسٹ میں رپورٹ کئی گئے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپخونخواہ میں لشمانیا کے 30 ہزار سے زائد کیسز رہورٹ ہوۓ ہیں۔ مچھر نما مکھی کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری لشمانیا پہاڑی اور ریگستانی علائقوں میں زیادہ دیکھی گئی ہے۔

سندھ میں رواں سال لشمانیا کے سب سے زیادہ 321 کیسز جیکب آباد میں رپورٹ ہوۓ۔جامشورو اور تھرپارکر میں بھی لشمانیا کے کچھ کیسز سامنے آۓ ہیں۔

وزیر صحت سندھ نے متعلقہ حکام کو لشمانیا کنٹرول اور علاج کے لیے اقدامات کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ لشمانیا کے اعلاج کے لیے Antimoniate Meglumine انجیکشن ایک مریض کو 14 دفعہ لگایا جاتا ہے۔

وزیر صحت نے ہدایات دیں کہ Antimoniate Meglumine کے 30 ہزار انجیکشنز کی خریداری کے لیے عالمی ادارہ صحت سے جلد رابطہ کیا جاۓ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ گلوبل فلڈ طرف سے دی جاۓ والی سہولیات کو 13 شہروں سے کم کر کے 8 شہروں تک محدود کی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر صحت نے سیکریٹری صحت کو ہدایات دیں کہ گلوبل فنڈ کو اس ضمن میں تحریری طور سروسز کی بحالی کے لیے لکھا جاۓ۔ اجلاس میں مائیکرو اسکوپسٹ اور فیلڈ عملے کی کانٹریکٹ پر بھتریوں کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجنے کی بھی منظوری دی گئی۔

source: sindh health department

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *