سینیٹ الیکشن 2021کیا سچ میں یہ جمہوریت کی جیت ہے ؟

سینیٹ الیکشن 2021کیا سچ میں یہ جمہوریت کی جیت ہے ؟

43 views

سال 2021 میں 37 سیٹوں کے ہونے والے سینیٹ الیکشن میں بھی ماضی کی طرح کچھ نیا دیکھنے کو نہیں ملا ایک طرف اپوزیشن اتحاد ہر قیمت چکاکر ووٹ خریدنے میں مصروف تو دوسری جانب حکمران اتحاد بھی بلنے کے لیے تیار ۔سوال تو بنتا ہے کیا اس مشکوک ووٹنگ کے عمل ست ووٹ کو عزت ملی یا بھٹو کا نظریہ جی اٹھا یا پھر یہی وہ تبدیلی تھی جس کے لیے 22 سال کی جدوجہد کے نعرے لگتے ہیں ۔

فہمیدہ یوسفی

بدقسمتی سے  پاکستانی  سیاست کا ایک اصول ہے اور وہ ہے سب چلتا اور سب بکتا  ہے ،ہمارے سیاستداںوں کے لیے  قومی مفادات سے  زیادہ  ذاتی مفادات اہم رہے اور شاید یہ روایات تبدیل نہیں ہوگی  ۔ ماضی کے قصوں کو دہرانے کی کیا ضرورت جب حالیہ سینیٹ الیکشن میں  ایک بار پھر شفافیت اور دیانت و امانت کے پرخچے اڑے ہیں ۔

کہیں ارکانِ اسمبلی کو براہِ راست ترقیاتی فنڈ دینے کی پُرزور مخالفت کرنے کرپشن کے فروغ کا ذریعہ قرار دینے والے تبدیلی کے داعی اور دن رات کرپٹ نظام ختم کرنے کی بات کرنے والے  وزیراعظم  عمران خان نے سینیٹ الیکشن سے پہلے ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ کے نام پر پچاس پچاس کروڑ روپے دینے کے اعلانات کرڈالے ،  تاہم  جب سپریم کورٹ کی جانب سے اس کا ازخود نوٹس  لیا گیا تو پھر  یوٹرن مگر پھر  ون ٹو ون  ملاقاتوں میں مبینہ طور پر وہی وعدے  جن کو حکومتی امیدواروں کے لئے ووٹ  خریدنے کی سیاسی منڈی سجانے کے علاوہ  کیا کہوں۔

 مزے کیا بات یہ ہے کہ یہ وہی  حکومت  ہے جس نے پچھلے سینیٹ الیکشن  میں خفیہ بیلٹ میں اپوزیشن ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اپنے امیدواروں کو ووٹ دینے کو ضمیر کی آزادی قرار دیا تھا، تاہم   اس بار اسی خفیہ بیلٹ کو ختم کرکے شو آف ہینڈز کا طریقہ رائج کرنے کےلئے سپریم کورٹ  تک جا پہنچی تھی

دوسری جانب اگر اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے بات کی جاۓ تو  اسلام آباد کی جنرل سیٹ پر ہر نظر ٹکی تھی جہاں یوسف رضا گیلانی کا مقابلہ حفیظ شیخ سے تھا  اور اندازوں کے برخلاف یوسف رضا گیلانی  اس نشست سے جیت کر  ایوان کو ہلانے میں کامیاب تو ہوگئے جس پربلاول  بھٹو کا ٹویٹ بھی آگیا  کہ سب  سے بہترین انتقام جمہوریت ہے۔

لیکن یہ واقعی جمہوریت کی جیت ہے؟؟ صرف الیکشن سے ایک رات قبل ان کے بیٹے کی مبینہ وڈیو  آڈیو آنے کے بعد  یہ جیت اخلاقی  طور پر معنی نہیں رکھتی

 ہمارے سیاستدان  اس مفروضے کو مانتے ہیں کی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا  اور لگتا یوں ہے کہ بس اقتدار کے لیے اخلاق  کردار کاکسی قسم کا لینا دینا نہیں  اتنے بڑے اپ سیٹ کے بعد اب  حکومت  کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔اسی لیے وزیر اعظم نے بھی اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے  جبکہ ایک بار پھر سینیٹ چئیرمین شپ کے لیے صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان بڑا ٹاکرا  ہونے کا امکان ہے۔

لیکن غور کرناہوگا کیا یہ سچ مچ جمہوریت کی ہی جیت ہے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *