Zarb e Azb a new Military operation by Pakistan Army1 800x454

میری  زمین میرا آ خری حوالہ ہے سو میں رہوں نہ رہوں، اسکو بار ور کر دے

29 views

میری  زمین میرا آ خری حوالہ ہے سو میں رہوں نہ رہوں، اسکو بار ور کر دے

عائشہ نعمان

آتش نار سے گلزار تک لہو سے تربتر دامن، سڑکوں پر منجمند خون، سفاکیت کا مظہر پیش کرتی دہشتگردی کی مسموم فضا، روح فرسا دلخراش مناظر، خاک و خون میں تڑپتے بچوں، بزرگوں، جوانوں کے لاشے، تباہی و بربادی کا عریاں رقص پیش کرتی بربریت کی بھیانک تصویر، جبر و تشدد کا ننگا ناچ اور ستم ظریفی کہ پاکستان کے نام کیساتھ چسپاں دہشتگردی کا لیبل، مزید برآں پوری شدومد کیساتھ پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش۔

ہر شجر مینار خوں‘ ہر پھول خونیں دیدہ ہے ہر نظر اک تار خوں‘ ہر عکس خوں مالیدہ ہے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شروفساد کے آہنی پنجوں نے ملک خداداد کو جکڑ لیا ہے۔ سونے پہ سہاگا معاشی بدحالی اور تعلیمی پسماندگی پورے عروج پر۔ دو دہائیوں پہلے آگ و خون میں جھلستا، کرلاتا، بلبلاتا پاکستان! کون جانتا تھا ایک دن دہشتگردی کے دیو کی قید سے آزاد ہو کر دنیا کا بہترین سیاحتی مرکز کہلائے گا۔

پاکستان جو کہ قدرتی رعنائیوں اور مصورانہ دلکشی کا مرکزہے۔ قدیم و جدید فن تعمیر کے شاہ پارے بھی اور اسرار و رموز سے معمور وادیاں بھی، جھرنوں اور آبشاروں کی طلسماتی دنیا بھی اور لق و دق صحرا بھی۔ ثقافتی گہوارہ لاہور ہو یا صوفیاء کی سرزمین سندھ، رنگ و رعنائی کا دلفریب امتزاج لئے ان دیکھا بلوچستان ہو یا منفرد تہذیبی ورثہ کا حامل خیبرپختونخوا۔ ہر جاہ حسین، ہر منظر دلنشین۔ فطرت کی رعنائیوں سے معمور، سبزہ زار، مرغزار ریگزار، رومان خیزجھیلیں، رینگتی بل کھاتی ندیاں، جاذب نظر سرسبز پہاڑ، قیمتی جنگلات، قدیم کندہ چٹانیں، فلک بوس پہاڑ، چاندی سے ڈھکی منجمند چوٹیاں، نایاب جنگلی حیات، قیمتی پتھرو جواہرات، رسیلے پھل، تاحد نگاہ پھیلے صحرا، آبشاریں، گنگناتے چشمے، شور مچاتے جھرنے۔

اسی کے دم سے کھلیں روح کے گلاب تمام اسی زمیں کے طلسمات کے اثر میں رہوں قدرتی صناعی سے لے کر گرویدہ بناتے دلفریب فن تعمیر کے شاہکار، اولیائے کرام کے مزارات، گندھارا و ہڑپہ کے عظیم الشان کھنڈرات، دلفریب کاریگری اور روحانیت کی حامل مساجد و خانقاہیں، ثقافت و اقدار کے امین فن نقاشی کے نادر نمونے، موتیوں کی طرح بکھرے قلعے، چولستان کی وسعتوں میں رنگ و نور کا انوکھا امتزاج جو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔

میلے، سوغاتیں، دستکاریاں، پکوان، کلاسیکی موسیقی، قوالی و دھمال، فنون لطیفہ، منفرد رسومات غرض تہذیب و ثقافت کے مختلف اوراق اپنی پوری دلپزیری کے ساتھ جلوہ افروز ہیں اے جہان آباد ، اے گہوارۂ علم و ہنر ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در لیکن یہ ہوشربا وسحرانگیز داستان نہ تو رومانوی ہے نہ مافوق الفطرت عناصر پر مشتمل، بلکہ یہ تو نامساعد حالات کے باوجود جرآت و بہادری کی لازوال اور ناقابلِ فراموش داستان ہے۔

عوام اور فوج کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور تال میل جس نے دہشتگردوں کو شکست فاش دے کر پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا چمکتا ہے شہیدوں کا لہو فطرت کے پردے میں شفق کا حسن کیا ہے‘ پھول کی رنگیں قبا کیا ہے دہشتگردی کے گڑھ سے سیاحت کے مرکز تک کا صبر آمیز و کٹھن سفر دراصل انتشار سے استحکام تک کاسفر ہے۔ پاکستان کی فتح کا سفر، جو عوام اور فوج کی مشترکہ قربانیوں کا ثمر ہے۔ آتش نار سے گلزار تک کا سفر ہے۔

خوف اور بے یقینی کے عفریتوں کو شکست دینا بلکل بھی آسان نہ تھا جبکہ دہشتگردی کی جنگ میں جھونکے گئے پاکستان کو غیر محفوظ ملک قرار دے کرسرمایہ کاری، سیاحت، کھیل کے تمام دروازے بند کر دے گئے۔ لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد اور پاک فوج کے جانبازوں کی مہارت اور بہادری نے دشمن کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج میں جنرل سے لیکر سپاہی تک کی ناقابلِ فراموش قربانیوں نے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ہر محاذ پر فتح کے جھنڈے گاڑے آج تمام نامساعد حالات کے باوجود امن وسلامتی کا گہوارہ پاکستان سیاحت کیلئےدنیا بھر میں بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

امن کے داعی پاکستان نے دہشتگردی کو شکست دے کر اقوام عالم کیلئے قابلِ تقلید مثال قائم کی. آفرین ہے پاک فوج پر جو پوری قوت سے بلا خوف و خطر وطن دشمنوں سے ٹکرا گئی اور دہشت گردوں کے ناقابل تسخیر محفوظ ٹھکانوں پر قبضہ کرکے اپنا لوہا منوایا۔ داخلی اور بیرونی انتشار کا مقابلہ کرنے کیلئے افسر سے جوان تک جری شہداء اور غازیوں نے ان گنت قربانیاں دیں لیکن ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی.

مادر وطن کی سالمیت کیلئے سرحدوں پرسینہ سپر اللّٰہ کے شیروں نے اپنے خون و پسینےسے امن وسلامتی کے دیے جلائے۔ یہ عظیم شہداء اور غازی وطن عزیز کے ماتھے کا جھومر ہیں جن کی بدولت ہم پرسکوں اور ہماری جانیں اور عزتیں محفوظ ہیں ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں پائیدار امن وسلامتی کے روشن دن برقرار رہیں جس کیلئے قومی سطح پر انتشار و تفریق کا خاتمہ اور اتحاد و یگانگت کا فروغ اولین ترجیح ہونی چاہیے

پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے سیاحت کا فروغ اور اس سے استفادہ حاصل کرنا معاشی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *