سائنسی میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی خواتین

سائنسی میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی خواتین

35 views

دور جدید پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشرے کی تخلیق میں جہاں مرد کا کردار اہم ہیں وہیں خواتین کا کردار بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

غانیہ نورین

تاریخ اٹھا کر دیکھیں ، تو اسلام ہم تک پہنچا اس میں بھی خواتین کا بہت بڑا کردار تھا ، انکی بے مثال قربانیاں تھیں ، ہم اور آپ ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے لیکن اس آزادی میں بھی پاکستانی خواتین نے اپنا الگ مقام بنایا پھر چاہے وہ مادر ملت فاطمہ جناح کی صورت میں ہو یا بیگم رعنا لیاقت کی شکل میں۔

پاکستانی صف نازک نے زندگی کے ہر میدان میں اپنا الگ مقام اور رتبہ قائم کیا ہے، کھیل کا میدان ہو یا سرحدوں پر ملک و قوم کی بقاء کی حفاظت پاکستانی خواتین نے ہر معاشرتی ، سیاسی اور سماجی پہلو میں اپنی چھاپ چھوڑی۔

تاہم پاکستانی خواتین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی آگے نکلنے کے لیے کوشاں ہیں، جہاں پاکستانی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر اپنی کامیابیوں کا لوہا منوارہی ہے۔ پاکستانی خاتون سائنسدانوں کی بات کی جائے تو کئی نام قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر زبیدہ سرانگ

قومی فخر کے ایک لمحے میں ، حال ہی میں چترال سے تعلق رکھنے والی آنکھوں کے سرجن ، ڈاکٹر زبیدہ سرنگ ، کتاب اتھارٹی کی جانب سے ممتاز “سب سے بہترین نثروں کی کتابیں” کی فہرست میں شامل ہونے والی پہلی پاکستانی ڈاکٹر بن گئیں۔ پاکستان چترال سے تعلق رکھنے والی آئی سرجن ڈاکٹر زبیدہ سرانگ کی آنکھ کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب کو دنیا کی آل ٹائم بیسٹ کتاب قرار دیا گیا۔

SAMAA - Dr. Zubaida Sirang: First Pakistani Doctor whose Book Made it to the List of “Best Ophthalmology Books of All Time”

یاد رہے آنکھ پر سب سے پہلے کام مسلمان سائنسدان ابن الہیثیم نے کیا تھا۔

زرتاج شاہین

International Day of Women in Science | Zartaj Ahmad

ایسی ہی ایک اور پاکستانی خاتون زرتاج احمد پاکستان سپیس سائنس ایجوکیشن سنٹر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پیشے کے لحاظ سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں جو پاکستان میں خلائی سائنس کی ترویج کے لیے ایک عشرے سے مسلسل کوشاں ہیں۔

ڈاکٹر تسنیم زہرہ

International Day of Women in Science | Tasneem Zahra Hussain

ڈاکٹر تسنیم زہرہ حسین کو پاکستان کی پہلی خاتون اسٹرنگ تھیورسٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، کنیرڈ کالج لاہور سے فزکس میں گریجویشن کرنے والی ڈاکٹر تسنیم نے اسٹوخوم یونیورسٹی اٹلی سے پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹورل ہارورڈ یونیورسٹی سے محض 26 برس کی عمر میں کیا۔

ڈاکٹر فوزیہ ادریس آبڑو

ڈاکٹر فوزیہ ادریس ابڑو

سندھ کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر فوزیہ ادریس ابڑو کرتی نظر آتی ہیں جو پاکستان کی پہلی سائبر سیکیورٹی پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔

حبا رحمانی

International Day of Women in Science | Hiba Rehmani

پاکستانی نژاد انجینئر حبا رحمانی ایک عشرے سے امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا سے وابستہ ہیں اور کینیڈی سپیس فلائٹ سینٹرمیں خلا میں بھیجے جانے والے وہیکلز اور اسپیس شپس کی لانچنگ کی تکنیکی نگرانی کی ذمہ داری ادا کر نے کے ساتھ مختلف راکٹ لانچنگ پروسیس کی ٹیلیمیٹری لیبارٹری میں نگرانی بھی کرتی ہیں ۔

ڈاکٹر نرگس ماول والا

International Day of Women in Science | Nargis Mawal Wala

پاکستانی نژاد ڈاکٹر نرگس ماول والا ایم آئی ٹی کے سکول آف فلکی طبیعات کی ڈین ہیں۔ وہ سن 2015 میں لیگو ٹیم کی ساتھ ثقلی موجوں کی دریافت میں اہم کردار ادا کرنے کے باعث بین الااقوامی شہرت رکھتی ہیں ۔ جس سے تقریبا سو سال پرانے آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت کی تصدیق ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ماول والا کی پیدائش لاہور اور ابتدائی تعلیم کراچی کی ہے ۔

صادقہ خان

International Day of Women in Science | Saadeqa Khan

صادقہ خان بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون سائنس جرنلسٹ ہیں جو اپنے ادارے سائنسیا پاکستان کے بینر تلے پاکستان میں سائنسی صحافت کی ترویج میں مسلسل کوشاں ہیں۔ وہ نیشنل سائنس ایوارڈ، برلن سائنس ویک جرنلزم گرانٹ اور آگاہی جرنلزم ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔ انھیں’ ایوری وومن ان ٹیکنالوجی ایوارڈ برطانیہ ‘کے لئے بھی منتخب کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر آصفہ اختر

International Day of Women in Science | Asifa Akhtar

جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصفہ اختر جرمنی کے مشہور تحقیی ادارے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کی نائب صدر ہیں جنھیں حال ہی میں سن 2021 کے لائبنس انعام سے نوازا گیا ہے جسے جرمنی میں سائنسی تحقیق کا اعلیٰ ترین ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آصفہ مائیکرو بائیولوجی میں اپنی تحقیق کے باعث اس سے پہلے بھی بہت سے عالمی اعزازات حاصل کرچکی ہیں۔

جس طرح کسی گاڑی کے دو پہیے خراب کوجائیں یا نکال دی جائیں تو گاڑی آگے بڑھنے سے قاصر ہوجاتی ہیں اسی طرح اگر معاشرے ہم خواتین کی خدمات کو نظرانداز کردے یا پھر ان کی خدمات کو فراموش کردیا جائے تو معاشرے میں بگاڑ سمیت کئی برائیاں جنم لے سکتی ہے۔

کیونکہ ایک عورت پورے معاشرے کو تخلیق کرتی ہے۔

Source: DW, BBC

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *