عورت مارچ ضروری ہے مگر

عورت مارچ ضروری ہے مگر

87 views

جیسے ہی مارچ کا مہینہ آتا  ہے   چاروں طرف سے  لگتا ہے کہ شاید کوئی  آندھی آگئی یا کوئی طوفان آگیا    اچانک ہی  ایک شور سا  اٹھتا ہے اور وہ ہے بس  عورت کے حقوق ،اس کی مرضی ،عورت کی پسند نا پسند اور عورت مارچ اور دوسری جانب  قابل غور بات یہ ہے کہ پھر پورا سال ایسی خاموشی ہوتی ہے جیسے شاید عو رت کا وجود صرف مارچ کے مہینے تک ہی ہے ۔ لگتا ہے کہ مارچ کے  علاوہ پاکستان میں نہ کسی عورت کوتشدد کا سامنا کرنا  پڑتا ہے اور نہ ہی اسے کسی اور زیادتی کا نشانہ بنایا جاتاہے اور نہ ہی اس کے کوئی حقوق ہیں  

صبحین عماد

میرا سوال  یہ ہے کہ  کیا کسی بھی عورت کے حقوق میرا جسم میری مرضی سے شروع ہوتے ہیں اور اسی پر ختم ہوجاتے ہیں؟ تو  کیا  کسی عورت  کو شعور کی ، تعلیم کی،  جینے کی آزادی نہیں ہونا چاہیے ۔ آخر یہ منطق ہے کیا عقل  سمجھنے سے قاصر ہے ۔  اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں  ہر سال مارچ میں  مخصوص سوچ کی حامل  عورتیں  باہر آتی ہیں جن کا زیادہ تر تعلق  پوش علاقوں سے ہے اور اب آٹے میں نمک کے برابر یا دکھاوے کو چند کچھ لاچار سی خواتین کو بھی شوپیس کے طور پر  اس عورت مارچ میں شامل کیا جاتا ہے۔

حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ان خواتین کی اپنی زندگی  آسایشوں سے بھرپور ہے ۔ برانڈڈ ملبوسات میں ہاتھ میں بہت معذرت کے ساتھ  عجیب و غریب کلمات والے پوسٹر لیےان خواتین نے اپنے اس مارچ کو.عورت مارچ کا نام دیا ہے۔اس عورت مارچ نے  عورت کے حقوق پر بات کرنے کہ بجائے  ساری توجہ یا یہ کہا جئے لائم لائٹ اپنی جانب موڑ لی ہے۔

In Defense of Aurat March | Daily times

اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکستا کہ   پاکستان میں  عورت کو  شاید اس طرح اس کا  حق نہیں مل رہا نہ ہی اس کی بنیادی  ضروریات پوری  کی جارہی  ہیں اور نہ ہی  بدقسمتی  سے  اس کو زندگی کے بنیادی حقوق میسر ہیں۔ لیکن  دوسری جانب  تصویر کا دوسرا پہلو بھی ہے  کہ اسی معاشرے میں اسی ملک کی عورتیں ہر شعبے میں آگے جارہی ہیں ۔ یہ سب باتیں ماننے کو ہرذی  شعور  انسان  تیار ہوگا کہ پاکستان میں عورتوں کے لیے کام ہونا چاہیے۔ لیکن کیا وہ کام اس کی صحت کے لیے اس کے مستقبل کے لیے اس کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے یا پھر جو  کچھ گزشتہ کچھ سالوں سے یہ عورت مارچ کے نام پر کیا جارہا ہے وہ ہونا چاہیئے ؟ یہ عورت مارچ صحیح  ہے غلط  ایک  علیحدہ بحث ہے تاہم کیا یہ مارچ سچ میں  پاکستانی عورت کے ان جائز  حقوق کی ہی بات کرتا ہے ؟

یا پھر ان سوالوں کے جواب مانگتا ہے جن کی کھوج میں عورت در در بھٹکتی ہے

Aurat March: Women come out for their rights across Sindh

سال 2021 عورت مارچ کا چوتھا سال ہے اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گزشتہ   سالوں میں یہ  عورت مارچ پاکستان میں خواتین کے حقوق کی ایک نئی لہر بن کر ابھرا ہے۔ تاہم  عورت مارچ  مزاحمت اور  جدوجہد  کا استعارہ  بننے کے بجائے سال کا سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہےا جی ہاں صحیح پڑھا آپ نے ایک سب سے بڑا ایونٹ  جس میں اصل مدعے کو چھوڑ کر باقی سب ملے گا فیشن ،ملبوسات ٹرینڈز لیکن اصل مدعا جوں کا توں ۔

SAMAA - Was opposition to Aurat March real or manufactured?

پہلے جو بحث عورت مارچ کے بعد شروع ہوتی تھی، اب وہ مارچ سے پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے اور یہی اس مارچ کرنے والوں کے لیے سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ مسائل کے حل کی طرف پہلا قدم ان مسائل کی نشاندہی کر کے ان پر بات چیت کرنا ہوتا ہے لیکن ہر سال صرف مسائل کو پس پشت ڈال کے اپنی مرضی اپنا جسم اپنا کھانا خود گرم کرو ،موزے خود ڈھونڈو ،لو بیٹھ گیٔ صحیح سے اور ناجانے کیا کیا جیسے نعروں کی وجہ سے آوازیں جو اٹھین چاہیے وہ دب سی گئی ہیں

File:Placards displayed by Marchers during Aurat March 2019.jpg - Wikipedia

Here Is The Real Meaning Behind The "Khana Khud Garam Kerlo" and "Mera Jism, Meri Marzi" Slogans

ان آوازوں  میں کہیں  بھی مجھے مظلوم عورت کے نہ ہی دکھ سننے کو مل رہے ہیں   نا ہی اس کی آہیں اس کے دل کی آواز  کے کچھ نا دو بس عزت دیدو ،عورت کو عورت سمجھو ،برابری کرنے کا حق  ااتنا دو کہ عورت کو بھی پڑھنے دو آگے بڑھنے دو یہ سب آج چار سال میں ایک بار بھی نا سننے کو ملا نا ایسا کچھ آگے بھی ہوتا نظر آرہا ہے اور اگر دو چار آوازیں اٹھ بھی رہی ہیں تو وہ پھر ان نعروں کے آگے چھپ جاتی ہیں

Women in Pakistan - Wikiwand

عورت مارچ کے متعلق اب تک جو کچھ سامنے آچکا ہے اس کے مطابق اس مارچ میں وہ مطالبات اور حقوق سرے سے شامل ہی نہیں ہیں جن کا عموماً اس معاشرے کی غریب و متوسط طبقےاور نچلے درجے  کی عورتوں کی اکثریت کو سامنا ہے۔ صد حیف مگر کہنا پڑتا ہے کہ عورت مارچ میں آزادی نسواں کے نام پر حقیقی مسائل کے بجائے مرد و عورت کو نہ صرف باہم مقابل ٹھہرا کر تقسیم کیا جاتا ہے، بلکہ باقاعدہ رقابت کی فضا پیدا کردی گئی ہے۔

Criticism is expected whenever taboos of society are discussed: co-organiser Leena Ghani - Daily Times

جو کچھ اُن پلے کارڈز و نعروں کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے ان میں سے ایک بھی حقیقی معنوں میں مسئلہ نہیں ہے۔ مثلاً کھانا کس نے گرم کرنا ہے،موزے کون ڈھونڈے گا ، یہ کوئی سماجی مسئلہ نہیں ہے۔

Breaking the shackles of patriarchy at Aurat March 2019: In pictures | Pakistan | thenews.com.pk |

عورت کے بنیادی مسائل تعلیم، غربت، جہالت، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور ہراسگی ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا تعلق نہ ان نعروں سے ہے، نہ اس مارچ سے۔ ان مسائل کی تشہیر کےلیے یا ان کو حل کرنے کےلیے جو رویہ اور طرز عمل اس وقت اختیار کیا جاچکا ہے وہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ معاشرتی مسائل کا حل کبھی بھی انتہاؤں پر جاکر، جارحانہ انداز اپنا کر اور ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہوکر نہیں ڈھونڈا جاسکتا اور جس کلاس نے یہ مہم کا آغاز کیا ہے انہیں تو شاید ان مسائل کی خبر تو دور اندازہ تک نہیں کہ ان کھانا گرم کرنے اور دوپٹہ پہننے نا پہننے سے زیادہ ضروری وہ مسائل ہیں  جن کا زکر اوپر کیا گیا ہے

Should feminists claim Aurat March's 'vulgar' posters? Yes, absolutely - Prism - DAWN.COM

اس بات سے ہر گز انکار نہیں کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا غلط ہے آزادیِ رائے کا حق ہر ایک کا حق ہے لیکن کسی بھی مسئلے کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا بھی کہاں کا انصاف ہے

Aurat March could've used some help from BIG BRANDS and here's how!

،افسوس ہے مجھے کہ عورت مارچ کی قیادت اس وقت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، بدقسمتی سے یہ وہی لوگ ہیں جو سنجیدہ حل کی تلاش کے بجائے مجرد نقد و تنقید اور لعن و طعن کو حتمی حل سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کے پیش نظر ہمیشہ سے اخلاقی و مذہبی اقدار رہی ہیں۔ میرا سوال ہے ان عورت مورچ کی مہم چلانے والی خواتین سے کہ مجھے ایک میرے معصومانہ سوال کا جواب دے دیں خدا اور مذہب نے خواتین کو جو حقوق دے رکھے ہیں کیا انہیں یہ حقوق مل رہے ہیں؟ وہ خانگی معاملات ہوں، وراثتی یا مرضی کی شادی یا اپنی اولاد سے متعلق فیصلوں کا اختیار ہو کیا ہمارے معاشرے میں یہ حقوق عورتوں کو دیے جاتے ہیں؟ کیا یہ اہم معاملات نہیں جن پر بحث ہونی چاہیے لاء بننے چاہیئے ہیں ہم مزید اور کتنے سال اسی بحث میں گزار دیں گے کہ اپنا کھانا خود گرم کرلو ،میں ڈوپٹہ کیوں پہنوں ،میں موزے کیوں ڈھونڈوں ؟

Women in Pakistan - Wikiwand

SAMAA - In pictures: On Women's Day, posters at the Aurat March said everything you wish you could

اس بات سے انکار نہیں کہ ایک مرد اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے لیے تو عزت کے نام پر کسی کا خون بھی بہا سکتا ہے مگر کسی اور کی ماں، بیٹی اور بیوی آخر کیوں قابل احترام نہیں؟لیکن یہ ایک الگ بحث ہے اور اس کے حل کے لیے بھی آواز آتھانا غلط نہیں یہ بات سچ ہے کہ آج کے زمانے میں عورت ہر جگہ ہی برادشت کا دامن تھام کر چلتی ہے گندی نظیں آوازیں ،وایہات فقرے آج بھی عورت کا پیچھا کرتے ہیں وہ گھر سے کام کے لیے بھی نکلے تو بری گھر میں رہے تو بھی بری لیکن عورت مارچ مہم میں پکڑے پلے کارڈ میں کیا واقعی ایسے مسئلے تحریر تھے جن پر محسوس ہو ہاں ان کو بدلنے کی ضرورت ہے ؟

Latest "Aurat March" Poster's On International Women's Day 2020 - BOL News

مارچ مہم یا اپنے لیے حقوق کی آواز اٹھانے سے اعتراض نہیں لیکن ضرورت ہے اس کی کے ہم پہلے اپنی ترجیحات پر غور کریں افسوس کہ ہم اپنی نا سمجھی کے عالم میں اپنی آنے والی نسل کو ایک ایسا معاشرہ دینے کی تیاری کررہے ہیں جن کو آنے والے وقتوں میں نا مرد کی عزت ہوگی نا باپ کی نا بڑے کی نا چھوٹے کی کیونکہ پھر ہر ایک  اپنے ہی حقوق کا جھنڈا لیے پھر رہا ہوگا اور تب  بھی ہم کہینگے زمانہ بڑا خراب ہے

Aurat March & Girls On Bikes Exposes The Ugly Side Of Pakistani Men | Paki Holic

صرف ایک سوال ہے خدارا بات عورت کوعزت دینے سے شروع کریں اس کو انسان سمجھنے سے شروع کریں اس کی جبری شادیوں اور تعلیم کی رکاوٹوں کو دور کرنےسے شروع کریں اسے بانجھ  طلاق یافتہ یا پھر صرف بیٹیوں کی ماں ہونے والے طعنوں سے شروع کریں ۔ عورت محبت کا استعارہ ہے  مارچ کریں کس نے روکا  لیکن کسی دن آسمان سے اتر کر زمین پر رہنے والوں سے بھی مل لیں ہر گھر میں سنڈریلا  منتظر ہوگی ۔

The Aurat after the march | Political Economy | thenews.com.pk

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *