2 3 808x454

ہوگیا عورت مارچ ۔۔۔یہ لیجیے آپکے حقوق۔۔

328 views

8 مارچ کو دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی عورتوں کا عالمی دن اور عورت ؤ مارچ خوب جوش و جذبہ کے  ساتھ منایا گیا ،خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے کئی شہروں میں عورت آزادی مارچ کے تحت ریلیاں نکالی گئیں ۔

صبحین عماد

عورت مارچ کے لیے تیار کردہ خصوصی پلے کارڈز اور پوسٹرز کی تصاویر جن کے ذریعے خواتین اپنے خیالات اور مطالبات کا اظہار کر رہی تھیں لیکن میں یہ سمجھنے سے اب تک قاصر ہوں کہ یہ عورت مارچ کے نام پرجو کچھ ان آنکھوں نے دیکھا کیا وہ سچ تھا ؟ کیا واقعی یہ تھے وہ مطالبے جو خواتین کو چاہیے ہیں جو کچھ ان پلے کارڈز پوسٹرز پر تحریر تھا وہ ہے عورت مارچ کا اصل مقصد ؟

عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر - ایکسپریس اردو

عورت مارچ کو لیکر اب تک سوشل میڈیا پر ہر طرف صرف عورت مارچ کے ہی چرچے نظر آرہے ہیں کچھ اس کے حق میں بول رہے ہیں تو اکثریت اس کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں لیکن اصل  مسئلہ یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے یا کون کیا بول رہا ہے اصل مدعہ تو یہ ہے کہ مدعہ سمجھ کو ئی نہیں رہا اور ایک ریس ہے جس میں سب بھاگ رہے ہیں لیکن کیوں بھاگ رہیں ہیں یہ کو ئی نہیں جانتا۔

یوم خواتین پر ملک کے مختلف شہروں میں عورت مارچ سوشل میڈ یا پر پلے کارڈز سامنے آگئے

تاہم وہاں موجود خواتین سے کچھ مطالبات بھی سننے کو ملے جن کو سن کر حیرت ہو ئی اور کچھ سکون بھی محسوس ہوا کہ چلو ان میرا جسم میری مرضی کھانا پکانہ گرم کرنا موزے ڈھونڈنے جیسے سنگین مسا ئل کے علاوہ بھی کو ئی مطالبہ ہے جو ہونا چاہیے

عورت مارچ کے خلاف عدالت میں درخواست سماعت کے لیے منظور - BBC News اردو

عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین کے حقوق کے لئے عورت مارچ سمیت دھرنے کا انعقاد بھی کیا گیا تھا ، جسمیں شریک خواتین نے حکومت سے عورتوں کو تحفظ اور مساوی حقوق کی فراہمی، خواتین کے لئے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کرنے، جنسی طور پر ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا،

 دھرنا مظاہرین نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لئے تین ماہ کا وقت دیتے ہوئے مطالبات منطور نہ ہونے کی صورت میں مستقل طور پر دھرنا دینے کا اعلان کردیا،

جسمیں سماجی کارکن شیما کرمانی، مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین، نوجوان لڑکیوں، سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیات، بچوں، بزرگ خواتین، خواجہ سراوں سمیت مرد حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اسٹیج پر خواتین کی جانب سے خواتین کے حقوق سے متعلق نظمیں، گانے، تقاریر اور ایکٹ بھی پیش کیا گیا، جس کے بعد عورت مارچ میں شریک خواتین نے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے دیا، ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے اپنے مطالبات کے حق میں خوب نعرے بازی کی، پلے کارڈز پر مختلف نعرے درج تھے، اس موقع پر دھرنے میں شرکاء کا کہنا تھا کہ عورت اب بھی معاشرے میں اپنے جائز حقوق سے محروم ہے، خواتین کے تحفظ کیلئے قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا، ہم چاہتے ہیں کہ عورت کو معاشرے میں ہر طرح کی آزادی دی جائے، عورتوں کا استحصال روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور انہیں تحفظ فرا ہم کرنے کیلئے قانون پر عملدرآمد کیا جائے،

InternationalWomenDay2020: پاکستان میں 'عورت مارچ' کے نعروں اور مطالبات کی  تصویری جھلکیاں - BBC News اردو

زرا نظر ڈال لیتے ہیں عورت مارچ کے مطالبات پر ۔

عورت مارچ کے مطالبات۔۔

سماجی کارکن شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کا مقصد صنفی انصاف کے مقصد کے لئے خواتین، خواجہ سراوں اور غیر صنفی افراد کو متحد کرنا اور شمولیت، وقار، آزادی اور مساوات کے اصولوں پر مبنی اجتماعی و معاشرتی تبدیلی لانا ہے،

1: ہم عورتوں، خواجہ سراوں اور غیر صنفی افراد کے خلاف جنسی تشدد کے خاتمہ کا مطالبہ کرتے ہیں، اور پدر شاہی اور ریاستی عناصر کی طرف سے سماجی کارکنوں، مزہبی اقلیتوں اور پسے ہوئے غیر مراعاتی طبقات کے خلاف استحصال کی مزمت کرتے ہوئے اسکے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں،

2:  ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بچوں، خواتین، خواجہ سراوں اور غیر صنفی افراد کے خلاف ادارہ جاتی، ریاستی اور ساخت پر مبنی جسمانی، جنسی اور جزباتی تشدد اور نگرانی اور عسکریت پسندی کا خاتمہ کیا جائے اور بڑھتی ہوئی نگرانی اور عسکریت اور پر امن شہریوں پہ بے جا پابندیوں کو ختم کیا جائے،

3: ہم انتقام یا سنسرشپ کے خوف کے بغیر، عوامی شعبوں میں لکھنے، بولنے، تحقیق اور سوال کرنے کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں،

4: ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبہ بھر میں خواتین اور خواجہ سرا ایم ایل او کی تعداد میں اضافہ کریں، اور اسکی شروعات ان نکات سے کی جائے۔

5: ہم مطالبہ کرتے ہیں وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر قانون سازی کرنا، 2016 کے قانونی کی دفعات پر عمل درآمد جسمیں ملزمان کے فوری ڈی این اے جانچ کی ضرورت ہے،

6: جنسی جرائم سے متاثرین افراد کی مکمل رازداری کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں،

7: دو انگلیوں کے ٹیسٹ کو جرم قرار دیا جائے،

8:جنسی تشدد کے جرائم سے متعلق پہلی معلومات کی اطلاع دہندگی (ایف آئی آر)، طبی معائنہ، مشاورت، تفتیش اور قانونی چارہ جوئی کے لئے اضافی وسائل اور خصوصی تربیت فراہم کی جائے،

9: سندھ اور بقیہ پاکستان کے تمام تھانوں میں صنف پر مبنی تشدد کے رپورٹنگ سیل قائم کئے جائیں،

10: قانونی امداد، مشاورت، طبی معائنے اور پناہ گاہوں تک رسائی سمیت تمام زندہ بچ جانے والوں (تمام صنفوں) کو بلا معاوضہ خدمات کی فراہمی،

11: وفاقی اور قومی مقننہ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں حقوق نسواں اور خواجہ سرا تنظیموں کے نمائندوں کو شامل کرنا،

12: اس بات کو یقینی بنانا کہ بچوں کے تحفظ کے یونٹ تمام اضلاع میں کام کر رہے ہیں اور مشورے اور پناہ گاہوں سمیت بچوں کو تحفظ کی مناسب خدمات مہیا کی جائیں

13: جہاں ضرورت ہو، میڈیوکو لیگل ڈیٹا بنانے اور برقرار رکھنے کے لئے ایک ڈیجیٹلائزڈ نظام کا نفاز،

15: تشدد سے بچ جانے والے افراد کی معاونت کے لئے خصوصی مراعات جیسے رعایتی رہائش، پیشہ ورانہ مہارت کی تعمیر وغیرہ،

16: ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست ٹرانسجینڈر پرسنز (حقوق تحفظ) ایکٹ 2018 کے تحت اپنی زمیداریوں کو نافذ کرے اور سندھ میں ٹرانسجینڈرز حقوق کی حفاظت کرے،

17: ہم غیرت کے نام پر قتل، اغوا، جبری شادیوں اور بچوں کی شادیوں جیسے غیر آئینی اور غیر عدالتی سزاوں کو سنگین جرائم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں،

18: ہم سندھ ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، پنجاب، گلگت بلتستان اور کشمیر میں غیر قانونی ہلاکتوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں

19: تمام لاپتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان معاملات میں آئین و قانونی نطام کو سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے،

20:  ہم گھریلو تشدد (روکتھام اور تحفظ ) ایکٹ 2013 کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،

21: مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست متاثرہ افراد کے لئے زیادتی، ریپ، تشدد اور ہراساں کرنے کے واقعات کی اطلاع دہندگی، تشدد اور رد عمل کے خوف کے بغیر موثر نطام تشکیل دیں،

22: ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست 2010 میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کے قانون کو نافذ کرے،

23:  ہم غیر رسمی شعبوں میں کارکنوں اور مزدوروں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں،

24:  تمام ریاستی اداروں بشمول پولیس، ایف آئی اے اور عدلیہ سے صنفی تشدد، ہراسانی کو اور ریپ کی دھمکیوں کی رپورٹنگ کو سنجیدگی سے لینے کا مطالبہ کرتے ہیں،

25: تعزیرات پاکستان کے دفعہ 499 اور 500 کو منسوخ کیا جائے،

26: تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خاتمے اور ہراسانی کے واقعات کی چھان بین اور روک تھام کے لئے تمام تعلیمی اداروں میں کمیٹیوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں،

 یہ ہیں وہ مطالبات جو عورت مارچ کا شاید اصل مقصد تھا یا اب بھی ہے لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان مطالبات اور وہاں موجود خواتین کے ہاتھوں میں پکڑے پلے کارڈز میں دور دور تک کو ئی مماثلت نظر نہیں آ ئی اب یا تو یوں کہنا چاہیے کہ وہاں موجود خواتین کو عورت مارچ کے حوالے سے صحیح بتایا نہیں گیا تھا یا وہاں بے ڈھنگے ملبوسات شغل میلہ لگا ئے ان خواتین کو عورتوں کے حقوق سے زیادہ اپنے حقوق کی فکر تھی جن کو ہاتھوں میں تھامے ان پلے کارڈز میں لک رکھا تھا ، شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عورت مارچ کے نام پر باقی تو سب نظر آیا سوا ئے اصل مقصد کے عورتیں کے حقوق کا تو پتہ نہیں لیکن اس معاشرے اور آنے والی نئی نسل  کا بس خدا ہی حافظ۔۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *