trends 808x454

ٹوئٹر ٹرینڈز : اخلاقیات کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

141 views

پاکستان میں ایک بار پھر ٹوئٹر پر غیراخلاقی اور نازیبا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہے ہیں ، یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار نہیں بلکہ ملک کی دو بڑی جماعتیں ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کیلئے ٹوئٹر کو آسان ہدف سجھتے ہیں۔

غانیہ نورین

شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو
سب کچھ جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

اگر گزشتہ روز آپ کی نظر پاکستان میں ٹوئٹر پیج کے ٹاپ ٹرینڈز کے کالم پر گئی ہو تو آپ نے دیکھا ہو گاکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے ٹرینڈ سیٹرز نے اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کرڈالی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل اور ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے نام سے ایسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہے تھے جن میں انتہائی فحش زبان استعمال کی جارہی تھی، جہاں دونوں جماعتوں کے حمایتیوں نے ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔

اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑا ہی تھا کہ ملک کی شناخت کو بھی اپنے غلیظ ہیش ٹیگ سے داغ دار کردیا تھا۔

اوپر موجود شعر ان جیسے ایلیٹ کلاس کیلئے ہیں جو دلائل سے ہٹ کر بات نہیں کرتے البتہ مخالفت میں آئے تو شعور اور اخلاقیات کو پرے رکھ دیتے ہیں اور اپنا ان پڑھ چہرہ بے نقاب کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی سوشل میڈیا پر غلاظت کا سونامی۔۔۔ذمہ دار کون؟؟؟

ملکی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں بلکہ اس کی روایت آزادی کے بعد سے چلی آرہی ہے، گزشتہ چند ماہ سے جاری ٹوئٹر ٹرینڈز کا ذکر کوئی بھی شریف آدمی رات کی تاریکی میں بھی نہیں کرسکتا ہے مگر یہاں یہ سب دن دیہاڑے سوشل میڈیا پر جاری ہے۔

15 مارچ کی شب کو بھی جہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے خلاف غلط الفاظ استعمال کیے گئے تھے وہیں ن لیگی کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف بھی مہم چل پڑی تھی۔ جو تاحال جاری ہے۔

معاملہ شروع کب ہوا

ٹوئٹر پر غلاظت کا طوفان معاون خصوصی شہباز گل پر سیاہی اور انڈے پھینکنے کے بعد شروع ہوا۔ نجی میڈیا کے مطابق روز وزیراعظم کے معاون خصوصی رہنما اور پی ٹی آئی شہبازگل کی لاہور ہائی کورٹ آمد پر لیگی کارکنوں نے ان پر انڈے برسا دیئے تھے۔

تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل لاہور ہائی کورٹ پہنچے تو پہلے سے موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے انہیں انڈے دے مارے، جب کہ کارکنان نے ان پر سیاہی بھی پھینکی، شہباز گل کے کپڑے اور ہاتھ سیاہی سے آلودہ ہوگئے۔

 واقعے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حمایتیوں نے ٹوئٹر کی جانب رخ کیا اور ن لیگی رہنماؤں پر دھاوا بول دیا جبکہ ن لیگی ٹوئٹر ہینڈلر نے بھی بدلے کی آگ میں جل کر اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تھا جبکہ بن پیندے کے لوٹوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھولیے تھے۔

ان ٹوئٹر ہینڈلر میں کوئی خاص انسان نہیں بلکہ آپ اور مجھ جیسے عام انسان ہی ہے جو تعلیمی آگاہی کیساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی شعور بھی رکھتے ہیں مگر ان ٹرینڈز کو دیکھنے کے بعد بظاہر جاہل دکھائی دیتے ہیں۔

ہمیں شروع سے یہی سکھایا گیا کہ لوگوں سے اختلاف ضرور کریں مگر اس اختلاف میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑِیں، اخلاقیات کو کبھی درگزر نہ کریں۔

مگر ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر اس قسم کے ٹرینڈز ہماری اخلاقیات کا ایسا جنازہ ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *