پی ڈی ایم کی کہانی: استعفوں سے شروع ،استعفوں پر ختم

پی ڈی ایم کی کہانی: استعفوں سے شروع ،استعفوں پر ختم

134 views

پاکستانی سیاست میں ایکدوسرے کے خلاف محاذ بنانا کوئی نیا یا انوکھا اقدام نہیں ہے۔ سیاست کی اس شطرنج پر ہمارے سیاستدان مہروں کی طرح ایک دوسرے کو شہہ مات دینے کے چکر میں ہی رہتے ہیں ۔

فہمیدہ یوسفی

بدقسمتی سے پاکستان نے ایک بڑا دور آمریت کا دیکھا ہے اور جمہوریت کے ادوار پاکستانی سیاست کے منظر نامے پر ہمیں صرف ایک دوسرے کے خلاف دھاندلی اور کرپشن کے الزامات، لانگ مارچ ،ملک گیر احتجاج اور بندے توڑنے جیسے ہی معاملات نظر آتے ہیں۔ کبھی مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کو اقتدار کی سیڑھیوں پر دھکے دیکر آگے بڑھتی نظر آئی تو کبھی پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کی راہوں میں ہر ممکن کانٹے بچھادیے ۔

جبکہ اسی اثنا میں پاکستانی سیاست پر بڑی خاموشی سے ایک اور پارٹی سامنے آئی اور وہ تھی تحریک انصاف جس نے روایتی دونوں پارٹیوں کو ہلاکر رکھ دیا اور ناقدین کا ماننا ہے کہ بے نظیر کے بعد اگر پاکستان میں احتجاجی سیاست کو نیا رنگ کوئی دیا تو وہ عمران خان کا لانگ مارچ تھا ۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کا جنازہ تدفین کو تیار ۔۔

جس نے مسلم لیگ نواز کی حکومت کے ایوانوں کو لرزا کر رکھ دیا ۔ تاہم تبدیلی کے نام پر آنے والی اس حکومت سے عوام کو نہ صرف بہت امیدیں تھیں اور اب بھی ہیں لیکن بڑھتی مہنگائی وزرا کی جانب سے مسلسل اپوزیشن پر الزام تراشیوں نے معاملات کو ایک بار پھر وہاں پہنچادیا جہاں روایتی طور پر ایک دوسرے کے خلاف رہنے والی پارٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ پاکستان کی تار یخ کی سب سے زیادہ پشت پناہی حاصل رکھنے والی طاقتور حکومت کے خلاف صٓف آرا ہیں ۔

Have opposition lawmakers submitted their resignations to PDM leadership? - Global Village Space

پیپلز پارٹی مسلم لیگ جمعیت علمائے اسلام ف، عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی جیسی پارٹیوں یہ اتحاد بنالیا ۔ ان پارٹیوں کا شروع کا جوش جذبہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید یہ حکومت کو ٹف ٹائم دے سکیں ۔ پی ڈی ایم کے ہونے والے جلسے بھی اس بات کا ثبوت تھے کہ شاید ماضی بھلاکر یہ ساتھ چلنے پر رضامند ہیں ۔

تاہم جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور بات آکر ٹہر گئی استعفوں پر کہ استعفی آخر مانگنا کس سے ہے کیا عمران خان کو گھر بھیجنے کے لیے خود استعفی دینے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے جب پی ڈی ایم اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے جو سوشل میڈیا پر بھی ٹرینڈ بنے

تاہم ایک بار پھر شاید دونوں جانب سے بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ معاملات کو سلجھایا جاسکے اور بلاول بھٹو نے پی پی کے عہدیداران کو بیان بازی دے روک دیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: یہ پی ڈی ایم کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

دوسری جانب شاید مسلم لیگ ن کو بھی آگے بڑھنے کے لیے پی پی کے کندھے کی ضرورت ہے اسلیے وہاں سے بھی مفاہمتی خاموشی اختیار کی جارہی ہے

جبکہ ان تلخیوں کا اثر پی ڈی ایم پر کیا ہوگا یہ تو وقت ہی طے کرسکتا ہے تاہم لگتا ہے کہ پی ڈی ایم کی کہانی استعفوں سے شروع ہوکر استعفوں پر ختم ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *