corona 4

کورونا کی نئی قسم،تیسری لہر پہلے سے بھی خطرناک

234 views

پہلی، دوسری اور اب تیسری یہ کورونا کسی بھیانک خواب کی طرح پوری دنیا کے سامنے ابھر کے سامنے آیا ہے،  یورپی ممالک سمیت پاکستان میں بھی اس عالمی وبا کی تباہ کاریاں ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین صورتحال اختیار کرتی جارہی ہیں۔

صبحین عماد

اب تک دنیا مین لاکھوں جانیں اس وبا کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئیں لیکن اب بھی یہ سلسلہ تھما نہیں ،صورتحال مزید تشویشناک ہوتی جارہی ہے ۔

کورونا کب اور کیسے پھیلا ؟؟

عالمی ادارے صحت کے مطابق 31 دسمبر 2019 کو چین میں اسے نمونیا کے کیسز کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان میں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آرہے تھے جو بعد میں نیا نوول کورونا وائرس ثابت ہوا۔

چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے پراسرار نمونیا جیسے تنفس کے مرض کے کیسز دسمبر کے آخر میں رپورٹ ہوئے تھے اور دن گزرنے کے ساتھ یہ بہت تیزی سے پھیلتا چلا گیا اور پھر یہ ایک ملک سے دوسرے ملک ہوتا ہوا پوری دنیا پر ہی اپنے پنجے گاڑ کر بیٹھ گیا۔

کورونا کیسے ہوتا ہے ؟؟

کورونا وائرس کا حجم ہماری آنکھوں کی ایک پلک کے ایک ہزار ویں حصے سے بھی کم ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک کانٹے دار پروٹین شیل ہی ہے جو انسانی جسم سے باہر مردہ یا زومبی کی طرح ہوتا ہے مگر ایک بار انسانی سانس کی نالی میں چلاجائے تو یہ ہمارے خلیات پر قبضہ کرکے اپنی جیسے لاکھوں کروڑوں وائرس تیار کردیتا ہے۔

COVID-19: Simple Ways To Protect You and Your Family

درحقیقت کورونا وائرس کے کام کرنے کا طریقہ ایسا ہے جو ذہن کو دنگ کردیتا ہے، یہ انسانوں میں داخل ہوتا ہے اور جب تک کسی متاثرہ فرد میں علامات ظاہر ہوں، یہ جسم میں ہر جگہ اپنی نقل پھیلا چکا ہوتا ہے اور کسی اور ہدف (انسان) کی جانب بڑھ جاتا ہے۔

اسی وجہ سے طبی ماہرین لوگوں پر سماجی فاصلے کے لیے زور دے رہے ہیں جو وائرس کے ری پروڈکشن نمبر آر یر یا آر ناٹ کے خلاف سادہ اور مؤثر طریقہ ہے۔

کورونا کی پہلی لہر

کورونا وائرسز اس دنیا کے لیے نئے نہیں بلکہ اکثر ان سے سانس کی نالی کے امراض سامنے آتے ہیں جو موسمی نزلہ زکام سے لے کر جان لیوا بیماریوں جیسے سارس اور مرس جیسی وبائوں پر مشتمل ہیں۔

مگر سارس کوو 2 پہلا کورونا وائرس ہے جسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے اور وجہ حیران کن نہیں کیونکہ یہ بالکل نیا وائرس تھا جو انسانوں میں نمودار ہوا اور ہم اس کے سامنے بے بس ہوگئے۔

Coronavirus: Symptoms, death rate, where it came from, and other questions, answered - Vox

سال 2020 کے آگاز سے ہی اس نئے وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ 26 فروری کو پاکستان مین داخل ہونے میں بھی کامیاب ہوگیا تھا ۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے معمولات زندگی تھم چکی تھی، عالمی معیشت اس جھٹکے سے سنبھل نہیں سکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ گھروں میں قید اربوں افراد کے اعصاب بھی ٹوٹنے کے قریب ہیں۔

اس وائرس نے انسانی جانوں کا نقصان تو کیا ہی لیکن دنیا کی معشیت کو بھی بری طرح ہلا کر رکھ دیا ،عالمی وبا کی پہلی لہر سےلاکھوں جانیں لقمہ اجل بنیں۔

کورونا کی دوسری لہر

عالمی سطح پر کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات کے تحت ضروری اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن جبکہ بیشتر ممالک میں حفاظتی ہدایات پر عملدرآمد پر دوبارہ زور دیا جا رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 46,312,467 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,198,000 ہے اور 30,917,946 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

پاکستان میں دوسری لہر

پاکستان میں حکومتی سطح پر پہلی نومبر کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ نئے متاثرین (1123) کی تصدیق کی گئی جبکہ پہلی نومبر کو ملک بھر میں 12 اموات بھی ہوئیں اور تین ماہ بعد یومیہ متاثرین میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Coranavirus: Pakistan's COVID-19 cases surge to 510 | Deccan Herald

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے ساتھ تمام عوامی مقامات (عمارت کے اندر اور باہر) ماسک پہننا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے تحت صرف اپنے گھر، کار اور پارکس میں ماسک اتارنے کی اجازت ہو گی۔

کورونا کی تیسری اور نئی لہر

ایک رپورٹ کے مطابق یہ نئی قسم یورپ، مشرق وسطیٰ، ایشیا، افریقہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے مختلف حصوں میں پہنچ چکی ہے۔

اٹھائیس دسمبر کو جنوبی کوریا میں بھی کورونا کی زیادہ متعدی قسم پہنچ گئی تھی۔

اس نئی قسم کے زیادہ تر کیسز برطانیہ کا سفر کرکے مختلف ممالک آنے والے افراد میں سامنے آئے ہیں۔

برطانیہ میں نئی قسم کی دریافت کے بعد سے متعدد ممالک نے برطانیہ کے حوالے سے سفری پابندیوں کا اطلاق کیا تھا، تاہم محققین کا خیال ہے کہ یہ نئی قسم دیگر ممالک میں کئی ہفتوں پہلے ہی پہنچ چکی ہوگی۔

اس کے بعد جاپان نے جنوری کے آخر تک غیر رہائشی افراد کے لیے اپنی سرحدوں کو بند کردیا تھا۔

Panic over 2nd variant on, 3rd Covid strain from South Africa found in UK - Coronavirus Outbreak News

اسپین میں اس نئی قسم کے 4 کیسز میڈرڈ میں سامنے آئے، جبکہ 3 میں اس کا شبہ پے، یہ سب افراد حال ہی میں برطانیہ جاچکے تھے۔ فرانس میں بھی اس کا ایک کیس سامنے آچکا ہے، جو ایسا فرنچ شہری تھا جو برطانیہ میں مقیم تھا اور لندن سے وسطی فرانس 19 دسمبر کو پہنچا تھا، اس فرد میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ سوئیڈن میں بھی اس نئی قسم کا پہلا کیس ویک اینڈ پر سامنے آیا تھا اور وہ بھی برطانیہ سے گھوم کر واپس آیا تھا۔

وائرسز میں میوٹیشنز ہوتی رہتی ہیں اور کورونا وائرسز میں بھی متعدد میوٹیشنز کو رواں برس کے دوران دریافت کیا جاچکا ہے، مگر وہ معمولی تبدیلیاں تھیں۔ اس کے مقابلے میں برطانیہ میں وائرس کی جو نئی قسم دریافت ہوئی اس میں 23 میوٹیشنز دریافت ہوئی، جن سے اس کے پھیلاؤ کے افعال میں تبدیلیاں آئی ہیں۔

کورونا کی احتیاطی تدابیر

ہاتھوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔

سردی اور زکام کے مریضوں سے دور رہیں۔

کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں۔

پالتو جانوروں سے دور رہیں۔

 کسی کی بھی آنکھ ،چہرے اور منہ کو چھونے سے گریز کیا جائے۔

Coronavirus disease (COVID-19): What parents should know | UNICEF Pakistan

فیس ماسک کا استعمال لازمی کرلیں ۔

سماجی رابطے کو بھی برقرار رکھیں۔

کم سے کم 2 میٹر کا محفوظ فاصلہ رکھیں۔

اجتماعات سے گریز کریں۔

دوسروں کے ساتھ ذاتی اشیا کا اشتراک نہ کریں۔

اس وبا کا سب سے بہتر علاج یہی ہے کہ ہمیں خود احتیاط کا دامن تھام کر اس جنگ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *