احتیاط : کورونا کی تیسری لہر کا بچوں پر سخت وار ۔۔

احتیاط : کورونا کی تیسری لہر کا بچوں پر سخت وار ۔۔

120 views

عالمی وبا کورونا نے پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں اتنی تیزی سے لیا کہ کوئی بھی اس کے لیے خود تیار نہ کر سکا اور پوری دنیا کو ہی اس کے اثرات سے نمٹنے میں اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے ویکسین بن کے سامنے ضرور آگئی ہے لیکن ابھی تک کسی بھی ملک سے مکمل طور پر وائرس ختم نہیں ہوسکا ہے۔

صبحین عماد

پاکستان میں کورونا کی تیسری لہرعین اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ برس مارچ میں پہلی لہر شروع ہوئی تھی۔ دوسری لہر اتنی تیز نہ تھی لیکن پہلی اور تیسری لہر نے حالات کافی خراب کیے ہیں۔ پہلی لہر کے آنے پر اور جیسے حالات دنیا کے  دیکھے جو اموات کا سلسلہ دیکھا اور تو لوگ ڈرے اور احتیاط بھی کی لیکن دوسری لہر کے آنے تک پاکستانی اپنی روش پر چل نکلے تھے اور انہوں نے ہر چیز کی طرح اس کو بھی مذاق بنا کر ہی چھوڑ دیا کورونا کے قابو میں نہ آنے کی  شاید ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ وائرس اپنی شکلیں بدل رہا ہے۔ پہلے فیز میں یہ خاصا خوفناک دکھائی دیا تاہم اب اپنے تیسرے فیز میں اس کی شکل بلکل الگ ہے جبکہ اس کا ہر وار پہلے سے زیادہ طاقتور ہے اور اب اسکے نشانے پر بچے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

آدھے عوام تو اب بھی کورونا کو مذاق سمجھ رہے تھے۔ سب ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ کیا تمہارے کسی عزیز کو کورونا ہوا ہے؟ وہ جواب میں کہتا: نہیں، تو پھر یہی رائے پھیلتی پھیلتی لوگوں کو گمراہ کرتی رہی اور لوگوں نے احتیاط کرنا چھوڑ دی ہے۔

جب کورونا قریبی عزیزوں  اور اپنے ہی گھروں تک پہنچا اور موت جب سڑکوں گلیوں میں ناچنے لگی تو پھر سب کو سمجھ آئی کہ یہ تو ایک حقیقی بیماری ہے

 اس پر بھی بس نہیں کی گئی اور یہ تھیوریاں بنا کر پیش کی گئیں کہ اسے جان بوجھ کر پھیلایا جا رہا ہے تاکہ ویکسین بیچ کر پیسے کمائے جا سکیں۔ اس طرح کی خوش فہمیوں میں دم تب ہوتا جب کوئی ملک اس وبا سے بچا ہوتا۔

بچوں میں بڑھتے ہوئے کیسسز۔۔

لیکن اب بھی پاکستن کی عوام ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں جبکہ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر سے متاثر ہونے والوں میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہوتی جارہی ہے۔ اب تک ایک سے دس سال کے 21 ہزار 756 بچے کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 11 سے 20 سال کی عمر کے متاثرین میں سے 30 فیصد 14 سال تک کے بچوں کی ہے۔

پورے ملک میں کورونا کا شکار ہونے والے بچوں میں سے 12 ہزار 336 لڑکے جبکہ 8420 لڑکیاں ہیں۔

کورونا کا علاج کرنے والے ماہرین کے مطابق کورونا کی تیسری لہر پہلی دونوں لہروں سے سخت ہے اور یہ خلاف توقع نومولود بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ جس طرح کی ہمارے لوگوں کی سوچ اور وائرس کے انداز ہیں‘ یہ کورونا اگلے دو سال بھی جاتا نظر نہیں آتا۔ ہر بندے کو ایک سال میں کم از کم دو مرتبہ ویکسین لگے تب جا کر یہ معاملہ درست سمت میں چلے گا۔ ابھی تو ویکسین صرف ساٹھ‘ ستر سال سے اوپر کے لئے میسر ہے یا میڈیکل عملے کو لگی ہے ابھی تو ایک لمبی جنگ ہے جسے جیتنے کے یے ہر ایک کو مثبت اور احتیاط کا دامن تھام کر چلنا ہوگا ۔

احتیاط کیسے کریں ۔۔

حفظانِ صحت کے ماہرین دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بہت سے مشورے دے رہے ہیں احتیاط کریں اپنے لیے اور اپنے عزیزوں کے لیے

خود کو محفوظ رکھنے کے لیے گرم پانی سے 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں یا سینیٹائزر کا استعمال کریں

کھانسی اور چھینک اانے پر منہ اور منہ پر ٹشو رکھیں

بچوں کو باہر لے جانے سے گریز کریں

بچوں کی خوراک کا خاص خیال رکھیں

بغیر دھلے ہاتھ ،آنکھوں ،ناک،اور منہ پر نہ لگائیں

ان افراد سے دور رہیں جن کی صحت پہلے سے خراب ہو

علامات کیا ہیں ۔۔؟

جان لیوا وائرس کی نئی سات علامات سامنے آئیں ہیں

جسم میں درد ؂

گلے کی خراش

ڈائریا

آنکھوں کا لال ہوجانا/آشوب چشم

 جلد کی خارش،الرجی کی شکایات

سر درد

انگلیوں ناخنوں کا رنگ تبدیل ہوجانا۔

کورونو کی تیسری لہر کو مذاق سمجھنے سے پہلے اپنے عزیزوں کی طرف ضرور دیکھیں اور احتیاط کا دامن تھامیں ۔

content : Sabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *