راوا اسپیشل: نور چمن ایک نظر کرم کی منتظر

راوا اسپیشل: نور چمن ایک نظر کرم کی منتظر

357 views

کراچی میں بنگالی شہریوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ ان سے ملتی جلتی ثقافت کے حامل برما اور روہنگیا کے تارکین وطن کی بھی ایک بڑی تعداد کراچی میں مقیم ہیں۔

تحریر: فہمیدہ یوسفی

کراچی میں اندازے کے مطابق مچھر کالونی‘ کیماڑی ٹاؤن‘ علی اکبرشاہ گوٹھ کورنگی‘ ضیاء کالونی گلشن اقبال اور اورنگی ٹاؤن کے مختلف سیکٹرز سمیت بنگالیوں کی 100 سے بھی زائد چھوٹی بڑی آبادیاں ہیں۔ان کچی پکی آبادیوں میں مقیم شہری سطح غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شناخت کا نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ دوسری بڑی وجہ حکومتی اداروں کی طرف سے ان کی طرف متوجہ نہ ہونا ہے ۔

ان گلیوں میں ہر سو غربت بے بسی اور کم مائیگی کی داستانیں بکھری پڑی ہیں کس کا تذکرہ کریں کس کا نہ کریں ۔ کونسی داستان رقم کریں کونسی نہ کریں ۔

ایسی ہی ایک کہانی ٹیم راوا نیوز کو علی اکبر شاہ گوٹھ کی کچی گلیوں میں لے گئی جہاں کی تنگ کچی گلیاں اور ننگے پیر میلے کپڑوں میں بھاگتے بچوں کے چہروں پر بھوک اور افلاس کی کہانیاں تحریر ہیں. وہاں کے ہر بوسیدہ ٹاٹ لگے پھٹے پردے کے پیچھے ایک ان سنی کہانی ہے جو ہر صاحب دل کو تو تڑپادیگی ہاں ہمارے حکمرانوں کا کچھ کہہ نہیں سکتے ۔

اسی ایک تنگ گلی میں ایک ٹوٹے پھوٹے گھر میں تین اپاہج بہن بھائی رہتے ہیں ، جن کا پرسان حال کوی نہیں ہے ۔ خاتون کا نام نورچمن ہے جبکہ ان کے بھائیوں کے نام محمد ابراہیم اور محمد قاسم ہیں۔

مزید پڑھیں: کام کرنے والے محنت سے نہیں گھبراتے ،ایک با ہمت خاتون کی کہانی۔۔

محمد ابراہیم تو بلکل معذور ہیں اور بول بھی بہت مشکل سے سکتا ہے جبکہ نور چمن بھی بہت مشکل سے کچھ کچھ جملے بولتی ہیں ۔ گھر کی حالت زار اس کے رہنے والوں کے بے بسی کی کہانی سنارہی تھی جبکہ ایک چولہے پر رکھے ایک کپ ابلتے چاول تین انسانوں کی بھوک کیسے مٹائینگے یہ سوچ کر سوال کیا نور چمن سے کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں اٹک اٹک کر بہت مشکل سے جو اس نے کہا اور جو ہم سمجھے وہ یہ تھا کہ اتنا ہو کہ میں ایک وقت دال چاول پکالوں۔ جالے لگے پھٹی چٹائیاں اور میلی چادر یہ بتانے کے لیے کافی تھی کی اس کے مکین کس حال میں ہیں۔

راوا نیوز سے رابطہ کرنے والے اشرف علی نے ان تینوں کی بے بسی کی کہانی ہم سے شءیر کرتے ہوۓ بتایا کہ وہ اور کچھ صاحب دل مل کر ان معذور وں کی مدد کردیتے ہیں پانی بھی ان کو خرید کر دے دیتے ہیں کیونکہ یہاں پانی کا انتظام نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: مجھے مالی امداد کی نہیں آپ سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے

جبکہ ہمارے استفسار پر کہ کیا انہوں نے بیت المال سے رابطہ کیا یا یہاں سے منتخب اپنے نمایندے تک بات پہنچائی تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ بہت کوشش کی لیکن ابھی تک تو کسی نے بات نہیں سنی ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام بالا انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان اپاہج بہن بھائیوں کے لیے کم از کم مہینے کا راشن اور علاج کا بندوبست کردیں ۔

ٹیم راوا کی موجودگی میں اس کمرے میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا بھی آنا جانا لگا ہوا تھا جو شاید عمر میں بہت چھوٹے ہیں اور غربت کی گلیوں میں پلنے والے بڑے لوگ ہیں ہمارے پوچھنے پر رضوان حسان اور عرفان جن کی عمریں بلاترتیب نو دس سال ہونگی بتایا کہ ہم سارا دن آتے جاتے رہتے ہیں ان کو پانی لاکر دیتے ہیں اور ان کو تنگ نہیں کرتے بلکہ اپنی چیز میں سے ان کو بھی کھانے کے لیے دے دیتے ہیں ۔ جبکہ نو سالہ صاحبہ  نے بھی بتایا کہ وہ آکر نور چمن کی مدد کردیتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بلڈ کینسر سے لڑنے والا 7 سالہ ننھا بہادر۔۔راوا اسپیشل ۔۔

22 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیلی اسلامی حکومت کے سربراہ حضرت عمر فاروق نے کہا تھا کہ اگر دریا فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اسکے کے لئے بھی میں جوابدہ ھوں۔

ان تین اپاہج بہن بھائیوں کو ارباب اختیار کی فوری توجہ اور ہمدردی کی ضرورت ہے یہ مجبور آنکھیں منتظر ہیں کہ حکمران اپنے بہت ہی مصروف ترین شیڈول میں سے دو گھڑیاں نکال کر ان مظلوموں کی خاموش فریاد سن لیں کیونکہ ریاست  میں رہنے والا ہر شہری اس کے حکمران کی ذمہ داری ہوتا ہے اور حکمرانوں کی جواب دہی خدا کے گھر بھی ہوگی ۔

مزید پڑھیں: راواء نیوز کی خبرپر نوٹس: لیاری کی باکسر نمرانثار گورنر ہاؤس طلب

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *