آرزو کو ہمارے حوالے کیا جائے، والدین آرزو فاطمہ

آرزو کو ہمارے حوالے کیا جائے، والدین آرزو فاطمہ

8 views

سندھ ہائیکورٹ میں نومسلم لڑکی آرزو فاطمہ کیس کی سماعت ہوئی جہاں لڑکی کے والدین نے آرزو کی حوالگی پر عدالت سے استدعا کردی۔

راوا اسپیشل
ترتیب و تدوین:غانیہ نورین

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی نے نومسلم آرزو فاطمہ کیس کی سماعت ہوئی جہاں لڑکی والدین عدالت کے روبرو پیش ہوکر کہا کہ آرزو کو ہمارے حوالے کیا جائے، پناہ گاہ میں آرزو غیر محفوظ ہے۔

اس موقع پر وکیل درخواست گزار جبران ناصر کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اب آرزو کو والدین کے حوالے کیا جائے، آرزو لابالغ ہے، ان کو اپنے والدین سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ بعدازاں عدالت نے سماعت 12 اپریل تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ علی اظہر نے آرزو فاطمہ کی حوالگی کے لیے درخواست دائر کی تھی، درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ بیوی آرزو فاطمہ میرے حوالے کی جائے، جس پر آرزو فاطمہ نے شوہر کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیاتاہم سندھ ہائی کورٹ نے آرزو فاطمہ کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 13 سالہ آرزو کے مبینہ اغوا اور جبری مذہب تبدیلی اور مسلم شخص سے کم عمری میں شادی کے خلاف انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پولیس نے لڑکی کے مبینہ شوہر سید علی اظہر کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کے دو بھائیوں سید شارق علی، سید محسن علی، ایک دوست دانش کو کم عمر لڑکی کے مبینہ طور پر اغوا، زبردستی مذہب تبدیلی اور مسلمان شخص سے شادی کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔

اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے آرزو کے اہل خانہ کی جانب سے اسے دارالامان بھیجنے کے لیے دائر درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

نوٹ : راوا نیوز آرزو فاطمہ کیس میں اب تک کی تمام پیشرفت کو کور کرتا آرہا ہے۔ 
مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *