BR 808x454

راوا اسپیشل: براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ پبلک پرانے کھاتے کھلنے والے ہیں

31 views

حکومت کی جانب سے براڈشیٹ کمیشن رپورٹ پبلک کردی گئی ہے جبکہ اس رپورٹ سامنے آنے سے بیوروکریسی کے عدم تعاون کا سارا کچا چھٹہ قلعی کھول دیا ہے، نیب کے سوا تمام متعلقہ حکومتی اداروں نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا۔

تحریر: فہمیدہ یوسفی
ترتیب و تدوین: غانیہ نورین

براڈشیٹ کمیشن رپورٹ کے مطابق کہ نیب کے سوا تمام متعلقہ حکومتی اداروں نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا، براڈشیٹ کا ریکارڈ تقریباً ہرجگہ بشمول پاکستان لندن مشن کے مِسنگ تھا، کمیشن کے سربراہ نے طارق فواد اور کاوے موسوی کا بیان ریکارڈ کرنا بھی مناسب نہ سمجھا، براڈشیٹ کا ایسٹ ریکوری معاہدہ حکومتی اداروں کی بین الاقوامی قانون کو نہ سمجھنے کا منہ بولتا ثبوت ہے، حکومتی اداروں کے عدم تعاون پر موہنداس گاندھی کو فخر محسوس ہوا ہوگا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امن سلامت رہے سوات ایئر پورٹ کمرشل آپریشن بحال

بیوروکریسی نے ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بیوروکریسی نے ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، ریکارڈ کو کئی محکموں حتی کہ دوسرے براعظم تک غائب کیا گیا، کاووے موسوی سزا یافتہ شخص ہے، اور اس نے بعض شخصیات پر الزامات لگائے، اس کے الزامات کی تحقیقات کمیشن کے ٹی او آرز میں شامل نہیں، حکومت چاہے تو کاووے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کروا سکتی ہے۔

نیب جائزہ لے کہ ریکارڈ اس کے کام آ سکتا ہے یا نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوئس کیسز کا 12 ڈپلومیٹک بیگز میں ریکارڈ نیب کے پاس موجود ہے، نیب جائزہ لے کہ ریکارڈ اس کے کام آ سکتا ہے یا نہیں۔
براڈشیٹ کمیشن نے رولز آف بزنس میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومتی سسٹم کی وجہ سے ملک کی بدنامی اور مالی نقصان بھی ہوا، سیاسی دبائو عام طور پر حکام سے غلط فیصلے کرانے کا باعث بنتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت آبی تعلقات پر جمی برف پگھل رہی ہے کیا؟

رپورٹ میں جسٹس (ر) عظمت سعید کا نوٹ بھی شامل

رپورٹ میں جسٹس (ر) عظمت سعید کا نوٹ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مارگلہ کے دامن میں رپورٹ لکھتے وقت گیدڑوں کی موجودگی بھی ہوتی تھی، گیدڑ بھبھبکیاں مجھے کام کرنے سے نہیں روک سکتیں۔

رپورٹ کے مزید مندرجات

رپورٹ کے مطابق نواز شریف حکومت نے احتساب بیورو کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا، احتساب بیورو کو بے نظیر بھٹو کی 1996 حکومت کے خاتمہ کے بعد نگران حکومت نے بنایا، نگران حکومت کے دور میں نجم سیٹھی احتساب بیورو کے انچارج تھے، نجم سیٹھی نے کرپشن کیخلاف چنگاری کو روشن کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کی کہانی: استعفوں سے شروع ،استعفوں پر ختم

رپورٹ میں کہا گیا کہ عام انتخابات 1997 کے بعد نواز شریف وزیر اعظم بنے، نئی حکومت نے احتساب کے تصور کو سیاسی مخالفین سے انتقام کے لیے استعمال کیا، سیف الرحمان کو احتساب بیورو کا چئیرمین بنایا گیا، ریکارڈ کے مطابق غیر ملکی کمپنی نے اثاثہ جات ریکوری معائدے کے لیے احتساب بیورو سے رجوع کیا، اثاثہ جات ریکوری معائدے کے مسودہ پر لاہور کے وکیل سے قانونی رائے لی گئی، لاہور کے وکیل نے معائدے میں خطرات اور غلطیوں کی نشاندہی کی، 11 اکتوبر کو وکیل نے رائے دی 12 اکتوبر 1999 کو حکومت تبدیل ہوگئی، حکومت کی تبدیلی کے بعد جنرل ریٹائرڈ امجد احتساب بیورو کے انچارج بنے، نیب بنا تو جنرل ریٹائرڈ امجد کو چئیرمین لگایا گیا۔

حکومت کو براڈ شیٹ کمیشن سے سوئس کیس کا ریکارڈ مل گیا

دوسری جانب آثار بتارہے ہیں کہ آصف علی زرداری مشکل میں آسکتے ہیں کیونکہ حکومت کو براڈ شیٹ کمیشن سے سوئس کیس کا ریکارڈ مل گیا جس کے بعد سابق صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس کیس دوبارہ کھلنے کا امکان روشن ہے، جبکہ حکومت نے براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن میں نامزد 5 افراد کے خلاف کرمنل کارروائی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

Sourec: Pakistan Governmnet, tv Reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *