پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو دھوکہ دیدیا

پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو دھوکہ دیدیا

67 views

پی ڈی ایم اتحاد جب سے وجود میں آیا تھا تب سے ہی ناقدین کا خیال تھا کہ دو مختلف نظریات اور ایکدوسرے کی شدید مخالف جماعتیں ایکدوسرے کے ساتھ زیادہ دن تک نہیں رہ سکتیں ۔ وزیراعظم نے بھی کہا تھا کی یہ اپنے اپنے مفادات کے لیے ساتھ ہیں ۔

فہمیدہ یوسفی

حکومتی وزرا بھی پی ڈی ایم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے لیکن چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا جب مریم بی بی نے کراچی جلسے میں بی بی کو یاد کیا اور نوڈیرو میں بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پہلی بار مسلم لیگ نواز کا وفد وہاں جا پہنچا تھا ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے باتیں دعوے بڑے بڑے ارادے سامنے آتے رہے ۔ حکومت کو گھر بھیجنے کی باتیں ہوتی رہیں کبھی استعفی کبھی لانگ مارچ جلسے جلوس ہوتے رہے۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں نا سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور سیاست میں سب سے پہلے اپنا مفاد سامنے رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کی کہانی: استعفوں سے شروع ،استعفوں پر ختم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اختلافات کھل کر سامنے آگۓ جب آصف زرداری نے میاں صاحب کو واپس آنے کے لیے کہا اور استعفوں سے انکار کردیا۔اسی دن سے یہ بات صاف ہورہی تھی کہ یہ اتحاد اب شاید برقرار نہیں رہیگا مریم بیبی اور آصف زرداری ی تلخ کلامی اور مولانا کی ناراضگی نے سمجھنے والوں کو سمجھادیا تھا کہ پی پی پی کی رہیں اب جدا ہونے کو ہیں ۔

کہاں تو وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کی باتیں ہورہی تھیں اور کہاں آپس میں ہی ایکدوسرے کی خلاف صف آراءیاں ہورہی ہیں۔

مزید اس چنگاری کو ہوا ملی جب پییپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو کچھ ہمدردوں کے ووٹوں کی مدد سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف منتخب کروادیا جبکہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ وہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اپنا لانا چاہتے ہیں۔

مولانا بھی پی پی والوں سے ناراض تو مسلم لیگ ن بھی حیران تاہم لگتا یوں ہے کہ اس وقت پی پی اپنا دامن صاف بچانے میں کامیاب ہورہی ہے۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کا جنازہ تدفین کو تیار ۔۔

اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سیکریٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے پی پی پی کو شوکاز نوٹسز جاری کرکے جواب مانگا ہے کہ آپ نے حکومتی ارکان کا ووٹ کیوں حاصل کیا۔ اس کے جواب میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی کو شوکاز نوٹس دئیے ہیں تاہم اب تک اس کا جواب نہیں دیا۔

جبکہ آج سینیٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن کے علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوئے۔جو واضح اشارہ ہے کہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

دوسری جانب ایکدوسرے کہ خلاف بیان بازی میں بھی تیزی نظر آرہی ہے بلاول بھٹوکا حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ملکراورتنہا بھی اپوزیشن کرنے کو تیار ہے، جن جماعتوں نے گیلانی کو نااہل کیاآج انہی کے ووٹوں سے ہم نے سینیٹر بنوایا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب مصلحتوں اور مفادات کے مدنظر پی پی پی کی راہیں پی ڈی ایم سے جدا ہورہی ہیں اور تجزیہ کاروں کے تجزءے ایک بار پھر درست ثابت ہورہے ہیں کہ الگ الگ نظریات اور اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر پی پی پی اور پی ڈی ایم جدا ہوگے ہیں ۔ اور مسلم لیگ ن کو پی پی پی دھوکہ دے نہیں رہی دے چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ پی ڈی ایم کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *