کورونا کے باوجود ہر 17 گھنٹے میں ایک ارب پتی کا اضافہ۔۔مگر کیسے ؟؟

کورونا کے باوجود ہر 17 گھنٹے میں ایک ارب پتی کا اضافہ۔۔مگر کیسے ؟؟

53 views

کورونا نے ایک طرف تو پوری دنیا کی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا تو دوسری جانب دنیا میں ہر 17 گھنٹے میں ایک نئے ارب پتی کا اضافہ ہوا۔ 

صبحین عماد

کورونا کی تباہکاریاں تو اب تک تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ہیں جہاں پوری دنیا ہی اس وبا کی لپیٹ میں ہے ونہیں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو امیر سے امیر ہوتے چلے جارہے ہیں جی ہاں ایسا ہی ہے حال ہی میں فاربس میں شائع ہونے والی سال 2021 کی فہرست میں 493 نئے ارب پتی افراد کا اضافہ ہوا۔  ان میں سے 210 کا تعلق چین، ہانگ کانگ اور 98 کا تعلق امریکا سے ہے۔

2020کی فہرست میں جگہ بنانے والے 61 افراد اس فہرست سے خارج ہوگئے، جن میں کاردیشیئن خاندان کی رکن اور میک اپ بنانے والی کمپنی کی مالک کائلی جینز کا نام بھی شامل ہے۔

فہرست کے مطابق کورونا جیسی وبا کے باوجود دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت 13 کھرب 10 ارب ڈالر پر پہنچ گئی۔ گزشتہ سال کی نسبت اس میں 8 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

فہرست میں امیزون کے مالک جیف بیزوس 177 ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہیں۔  اس سال ان کی دولت میں امیزون کے حصص کی قیمت بڑھنے سے 64 ارب ڈالر کا ضافہ ہوا۔

دوسرے نمبر پر ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلن مسک ہیں۔ ان کی دولت میں ایک سال کے عرصے میں 126ارب60کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ ایک سال پہلے یہ 24 ارب 6 کروڑ ڈالر کے ساتھ 31ویں نمبر پر تھے۔ ان کی دولت بڑھنے کی اہم وجہ ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں ہونے والا 705 فیصد اضافہ ہے۔

مشہور فرنچ پراڈکٹLouis Vuitton، Christian Dior اور Sephoraکے مالک برناڈ آرنلٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔  گزشتہ ایک سال میں ان کی دولت میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ْ گزشتہ ایک سال میں ان کی کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں86 فیصد آضافے کی وجہ سے ان کی دولت 76ارب سے بڑھ کر 150 ارب ڈالر ہوگئی۔

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس 124ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔ پانچویں نمبر پر فیس بک کے بانی مارک زیکر برگ ہیں۔ فیس بک کے حصص کی قیمتوں میں 80 فیصد اضافے کے بعد ان کی دولت 42ارب 30 کروڑ سے بڑھ کر 97 ارب ڈالرہوگئی ہے۔

source: Express News

content Sabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *