کیا  برف پگھل رہی ہے ماسکو اور اسلام آباد کے تعلقات میں پیش رفت

کیا  برف پگھل رہی ہے ماسکو اور اسلام آباد کے تعلقات میں پیش رفت

227 views

عالمی سیاست  کا مشہور زمانہ مقولہ ہے کہ  -یہاں کوئی مستقل دشمن یا دوست نہیں مگر مستقل مقاصد ہیں‘‘ ۔ کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں  اور ہواؤں کے بدلتے رخ ملکوں  کے تعلقات کا تعین کرتے ہیں۔یہ مقولہ اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات پر پورا اترتا ہے ۔

فہمیدہ یوسفی

پاکستان اور روس  کے تعلقات زیادہ تر  سرد مہری کا ہی شکار رہے ہیں اور ان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی داستان خاصی طویل اور تلخ ہے۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے  تاریخ کے جھروکوں سے ایک نظر ذرا ان دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات پر ڈالتے ہیں  پاکستان کےوجود کے ساتھ ہی سرد جنگ کا دور بھی  شروع ہو چکا تھا۔ اس وقت کی دنیا دو سپر پاورز سوویت اور امریکی بلاک میں بٹ چکی تھی۔

ہندوستانی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نےر دو عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے کو ترجیح دی۔ جبکہ دوسری جانب  پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات مئی1948ء میں قائم کئے گئےاور روس کی جانب سے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو دورۂ ماسکو کی دعوت دی گئی تاہم  پاکستان نے واشنگٹن کو ترجیح دی،اور مئی 1950ء میں لیاقت علی خان امریکی دورے پر روانہ ہوگئے۔1950 ء کی کوریا جنگ اور پھر 1954 کولمبو پلان میں پاکستان کا پلڑا مکمل طور پر امریکہ اور مغرب کی جانب رہا۔

مزید پڑھیں:  روسی وزیر خارجہ کی دو روزہ دورے پر پاکستان آمد ۔۔

  جولائی 1956ء میں نہر سویز کے بحران میں بھی پاکستان نے مغرب کی حمایت  جاری  رکھی ۔ جبکہ پاکستان روس کے تعلقات شدید تلخی کا شکار ہوگئے جب  پاکستان نے دفاعی معاہدات سیٹو اور سینٹو میں شمولیت اختیار کرلی۔ دوسری جانب  اسی دوران 1955ء میں روسی لیڈر خروشیف نے بھارت کا دورہ کیا اور روس بھارت کی نزدیکیاں  بڑھنے  لگیں۔اگرچہ روس کی جانب سے مارشل بلگانن اور مکویاں نے 1956ء میں پاکستان کا دورہ بھی کیا لیکن تعلقات پر جمی برف  پگھل نہ سکی ۔ دونوں ممالک کے درمیان خلیج اور بڑھی جب  1957ء میں کشمیر کے ایشو پر روس نے بھارت کے حق میں اپنا ویٹو کا حق استعمال کیا۔

حالات میں مزید خرابی تب آئی   جب بڈبیر بیس امریکی طیارے یوٹو نے اڑان بھری روسں نے اسے نشانہ بنالیا   جبکہ  پائلٹ گیری پاور کو حراست میں لے لیا۔ ۔ یہ تاریخ میں  پاکستان اور روس کے تعلقات کا نازک  ترین لمحہ تھا تاہم پاکستان اور روس کے درمیان 1963ء میں تجارتی معاہدہ کیا گیا  جبکہ کشمیر ایشو پر بھی روسی موقف میں سختی کافی کم ہوئی۔ صدرایوب خان نے اپریل 1965ء میں روس کا دورہ کیا ۔ 1965ء کی جنگ کے بعد تاشقند میں روس نے ایوب خان اور لال بہادر شاستری کے درمیان معاہدہ کرانے میں اہم کردار نبھایا۔ ایوب خان نے ستمبر1967ء میں دوبارہ ماسکو کا دورہ کیا،  تاہم اس دورے میں روس نے دفاعی معاہدہ کرنے سے گریز کیا، لیکن زراعت، تھرمل پاور کے حوالے سے اہم معاہدے کئے۔

مزید پڑھیں : پاک روس تعلقات: 9 سال بعد روسی وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان

روسی وزیراعظم الیگزی کوسیجن نے اپریل 1968ء اور مئی 1969ء میں پاکستان کے دورے کئے، جن میں سٹیل مل کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی۔ لیکن دوسری جانب ماسکو اور دہلی کے تعلقات بہتری اور مضبوطی کی طرف گامزن رہے گست1971ء میں روس بھارت دفاعی معاہدہ ہوا اور  روس نے مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت کی کھلم کھلا  پشت پناہی کی جبکہ  دفاعی حوالے سے بھی بھارت کو مدد فراہم کی

سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو نے روس سے خوشگوار تعلقات بنانے کی کوششیں کیں،  جس کے نتیجے میں سٹیل مل کا سنگ بنیاد رکھا گیا، گدو تھرمل کے حوالے سے روسی تکنیکی مدد ملی۔ روس نے کئی قرضے پاکستان کو معاف کر دئیے۔ یہاں تک کہ ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کے موقع پر بھی برزنیف نے ان کی رہائی کے لئے ضیاء الحق کی حکومت سے رابطے کئے، لیکن افغانستان میں سوویت مداخلت نے پاک روس تعلقات میں تلخیوں کے طویل دور کا آغاز کیا اور پاکستان نے سوویت یونین کو افغانستان میں مجاہدین کے ذریعے خاصی زک پہنچائی۔ یہاں تک کہ روس جنیوا معاہدے کے تحت 1988ء میں افغانستان سے جانے پر مجبور ہو گیا۔ سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور سرد جنگ ختم ہوگئی۔

طالبان کے وجود میں آنے کے بعد پاک روس تعلقات میں تلخیاں پھر  بڑھ گئیں اور پیوٹن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد روس کا جھکاؤ مکمل طور پر بھارت کی جانب ہو گیا۔ اس دور میں نواز شریف 25 سال میں پہلے وزیراعظم تھے، جنہوں نے اپریل1999ء میں روس کا دورہ کیا۔ پرویز مشرف نے 2000ء اور فروری 2003ء میں ماسکو کادورہ کیا، جس کے نتیجے میں روس نے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی بطور مبصر شمولیت کی حمایت کی۔ 2007ء میں روسی وزیراعظم میخائل فریڈ کوف نے پاکستان کا دورہ کیا جو کہ 38 سالوں میں کسی روسی لیڈر کا پہلا دورہ تھا۔ اکتوبر 2012ء میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا دورہ پاکستان طے تھا، مگر بھارتی دباؤ پر عین موقع پر اسے ملتوی کرنا پڑا، تاہم روسی وزیر خارجہ نے فوری دورہ کر کے تعاون اور ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کی کہانی: استعفوں سے شروع ،استعفوں پر ختم

سابق آرمی چیف راحیل شریف نے جولائی 2015ء میں ماسکو کا دورہ کیا، جس کے نتیجے میں روس پاکستان کو MI35 ہیلی کاپٹر دینے پر آمادہ ہو گیا۔ اسی دورے کے نتیجے میں ستمبر 2016ء میں پاک روس فوجی مشقیں استور کے علاقے رٹو اور چراٹ میں ہوئیں، جس کو بھارت نے تشویش کی نگاہ سے دیکھا۔

 شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پروزیراعظم  عمران خان اور صدر پیوٹن کی ملاقات 14 جون کو کرغيزستان میں ہوئی ۔ جہاں دونوں رہنماوں کی ملاقات  میں پاک روس تعلقات، خطے کی صورت حال، افغان امن عمل اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کيا گیا

اس کے بعد سے ہی عالمی تجزیہ کاروں کا خٰیال تھا کہ  پاکر روس تعلقات میں بیکڈور ڈپلومیسی کی وجہ سے تعلقات مین بہتری آرہی ہے اور سفارت کاری کے مدیان سے دونوں جانب سے مثبت خبریں سننے کو ملیں

آج پاک روس تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ جس کا ثبوت روس کی نیول فورسز کا پاکستان میں آکر حالیہ امن مشقوں میں حصہ لینا ہے۔ جبکہ نو سال   بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف منگل کے روز وفد کے ہمراہ پاکستان آئے روسی وزیرخارجہ کا یہ اہم دورہ علاقائی اور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اس دورے میں جہاں اہم علاقائی و عالمی امور ،افغان امن پر تبادلہ خیال گیا ، وہی دو طرفہ تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی ۔  وہیں  یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے سفارتی،معاشی اور فوجی تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ دفاعی اور عسکری تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ پاکستان ا فغانستان میں امن کیلئے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی ملک کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔ پاکستا ن علاقائی ترقی میں برابری کی سطح پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی  روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کی ملاقات کی  ، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، خطے اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے امور پر پاکستان کے نقطہ نظراور مغربی ایشیا ، مشرق وسطیٰ سمیت خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ روس افغانستان کے تناظر میں پاکستان کو اہم ترین اسٹریٹجک پارٹنر  سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پرامن تعلقات کی خواہش: اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟؟

مجموعی طور پر پاک روس تعلقات میں 2011ء تا 2016ء کے عرصے میں اعتماد سازی میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔جس کے پیچھے برسوں سے جاری مختلف سطحوں پر ملاقاتیں ، بین الاقوامی اجتماعات کے سائڈ لائن مذاکرات، رابطےہیں

دوسری جانب چین روس تعلقات میں گرم جوشی بھی پاکستان کے لئے ایک مثبت اشارہ ہے جس کا واضح ثبوت  یہ ہے کہ روسی وزیرخارجہ نے شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں انسداد دہشت گردی کیلئے پاکستان کو ملٹری آلات دینےکااعلان کیا ۔جو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہیں

حیران کن طور پر  اب کریملن،دلی کی اس طرح اندھی حمایت نہیں کرتا جو ماضی کی روایت رہی ہے۔ یہ بہترین وقت ہے کہ عالمی منظرنامے  کے بدلتے ہوئے تناظر میں کریملن اور اسلام آباد، ماضی کی تلخیوں اور  سرد مہری کو بھول کر مثبت تعلقات کی  بنیاد رکھیں۔

آثار  بتارہے ہیں کہ آہستہ آہستہ ماسکو اور اسلام  آباد کے درمیان برف پگھل رہی ہے

یہ بھی پڑھیں: برف پگھلنے لگی، پاک بھارت کشیدگی ختم ہونے کے قریب

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *