نکسل باغی : سیکولر ملک بھارتی فوج کے لیے قہر

نکسل باغی : سیکولر ملک بھارتی فوج کے لیے قہر

61 views

ایک طویل عرصے بعد ماؤ نواز باغی (نکسل) ایک بار پھر بھارتی افواج پر قہر بن کر برسنے لگے، بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ٹیکل گوڈا کے جنگلوں میں 22 فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مقابلے میں تقریباً 20 مائو نواز بھی مارے گئے ہیں۔

غانیہ نورین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر سٹیٹ کے دعویدار بھارت کی جانب انسانی حقوق کی پامانی کا سلسلہ صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی ہوتا ہے تاہم جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔

پاکستان پر انتہاپسند تنظیموں کی پشت پناہی کا الزام لگانے والی مودی سرکار کی یہ حالت ہے کہ ان کے اپنے ہی ان کے خلاف ہیں اور بغاوت پر اتر آئے ہیں، آزادی کے بعد سے ہی بھارت فرقہ واریت اور لسانیت کا شکار ہے۔

سرکاری سطح پر بھارت واسیوں سے بنیادی حقوق چھین لے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت میں کی سرزمین پر لاتعداد علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم عمل ہیں ۔

مزید پڑھیں: بھارتی اپنے مفاد کے لیے ہوائی فائر کرتے ہیں ،جاوید میانداد ۔۔

بھارتی آئین میں شامل لفظ  سیکولرزم کو شامل کیا گیا تھا جس کا مطلب بھارت کی دھرتی ماں پر ہر زبان ، مذہب ، قوم اور لسانی و علاقوں کو یکساں حقوق دیئے جائے گے ، مگر بھارت میں صرف ہندو انتہا پسندی اور فاسشٹ نظریہ باقی رہ گیا ہے، باقی تمام مذاہب اور گروہوں کے لئے یہ سرزمین تنگ کی جارہی ہیں اور ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار سمیت پورے ہندو انتہا پسند جماعتوں کیلئے ’’ اکالی دل ‘‘اور ’’خالصتان ‘‘ نامی تحریکیں سردرد بن گئے ہیں۔

مگر انہیں تحریکوں میں ماؤ نواز باغیوں کو بھارتی سیکیورٹی فورسز کے دلوں میں خوف کی علامت قرار دیا جاتا ہے، ماؤ نواز باغی بھارت کی 20 سے زائد ریاستوں میں سرگرم ہیں۔ تاہم یہ چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں زیادہ متحرک ہیں اور ان علاقوں کے جنگلات اور دوردراز کے علاقوں میں یہ اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

50 years of Naxalbari movement: Classic case of fight for right cause with wrong means - India News

یہ محروم اور پسے ہوئے طبقات کو حقوق دلانے کے لیے مسلح جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔

یہ تحریک 1960 کی دہائی میں مغربی بنگال کے نکسل باڑی گاؤں سے شروع ہوئی تھی اور اسے بھارت کے محروم اور پسے ہوئی طبقات میں پذیرائی حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: شکست خورد بھارتی فوج نیم مردار: افواج میں بڑے گھپلوں کا انکشاف

بھارتی حکمران اس تحریک کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں جب کہ عوامی سطح پر ان کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

بھارت کے ماؤ نواز باغی کون ہیں؟

اس نکسل تحریک کی شروعات 1967 میں بنگال کے نکسل باڑی گائوں سے ہوئی تھی۔ اس کے بانیان میں چارومجمدار، کانو سانیال اور کنہائی چیٹرجی جیسے نوجوان تھے۔ وہ کمیونسٹ تھے لیکن مائو ازم کو اپنا مذہب بنا چکے تھے۔ مارکس کے ‘کمیونسٹ منشور‘ کا آخری پیراگراف ان کا مشن بن گیا تھا۔ وہ مسلح انقلاب کے ذریعے اقتدار کی معزولی پر یقین رکھتے تھے۔

اس لئے یہ بنگال، آندھرا‘ اڑیسہ‘ جھاڑ کھنڈ اور مدھیہ پردیش کے جنگلات میں پھیلے ہوئے ہیں اور کچھ اضلاع میں وہ اپنی متوازی حکومت چلا رہے ہیں۔ اس وقت، وہ چھتیس گڑھ کے 14 اضلاع اور ملک کے تقریباً 50 دیگر اضلاع پر غلبہ رکھتے ہیں۔ وہ وہاں لوگوں کو گوریلا طرز پر ہتھیار اور تربیت دیتے ہیں اور لوگوں سے رقم بھی اکٹھا کرتے ہیں۔

Severity of Economic Impact of the Maoist Movement | Vivekananda International Foundation

یہ نکسلی گوریلا سرکاری عمارتوں، بسوں اور عام شہریوں پر بھی براہ راست حملہ کرتے رہتے ہیں۔ جنگلوں میں بسنے والے قبائلیوں کو مشتعل کر کے، ہمدردی حاصل کرتے ہیں اور انہیں سبز باغ دکھاتے ہیں اور اپنے گروہوں میں شامل کرتے ہیں۔

یہ گروہ ان جنگلات میں کوئی تعمیراتی کام نہیں ہونے دیتے اور دہشت گردوں کی طرح حملے کرتے رہتے ہیں۔ پہلے بنگالی، تیلگو اور اوڈیا نکسلی بستر میں ڈیرے ڈالتے تھے اور خونیں کھیل کھیلتے تھے‘ لیکن اب ہڈما اور سوجاتا جیسے مقامی قبائلی ان کی کمان سنبھال چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: جنگ کی دھمکیاں دینے والا بھارت غبارے سے خوفزدہ

22 بھارتی فوجی ہلاک

گوریلا جنگ کے ماہر اچانک حملہ کرتے ہیں فورسز کو نقصان پہنچاتے اور پھر جنگلات یاپہاڑوں میں روپوش ہوجاتے ہیں ۔ چھتیس گڑھ میں تین اپریل ہفتہ کی دوپہر ہونے والے حملے میں میں 22فوجی ہلاک جبکہ 30سے زائد زخمی ہوگئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بجاپور اور سکما کے جنگلات پرمشتمل ماؤ نواز باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں 2ہزار سے زائد بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے آپریشن شروع کیا۔

اس دوران ماؤ نواز باغیوں کے حملوں میں متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے اور گزشتہ روز 5 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم بھارتی حکام نے جنگل سے مزید 17بھارتی فوجیوں کی لاشیں برآمد کی ہیں۔

Naxalism in India: How It Started And Why It Still Exists | Youth Ki Awaaz

ماؤ نواز باغیوں کے حملوں اور جھڑپوں میں کم از کم 22 اہلکار ہلاک اور 31 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 7زخمیوں کو رائے پور منتقل کیاگیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں نے حملہ کرکے بھارتی فوجیوں کا اسلحہ، بلٹ پروف جیکٹس اور جوتے بھی اتار کرفرار ہوگئے ہیں۔

فوجیوں کی ہلاکت پر بھارتی صدر، وزیراعظم اور دیگر شخصیات نے دکھ کا اظہار کیا ہے جبکہ وزیر داخلہ داخلہ امیت شاہ نے آسام کی انتخابی ریلی بھی منسوخ کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتہا پسند بھارت کا مدارس کے طلبہ پر وار،ہندو مذہب کی تعلیم لازمی قرار

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں مائونواز باغیوںنے فورسزپر پہلی بار حملہ نہیں کیابلکہ یہاں فورسز پر حملے اورجانی نقصان معمول ہے لیکن تین اپریل جیسا بڑا حملہ آٹھ برس کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔

Source: Tv Reports
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *