برطانیہ نے آخر پاکستان کو ہائی رسک ممالک میں شامل کیوں کردیا؟؟

برطانیہ نے آخر پاکستان کو ہائی رسک ممالک میں شامل کیوں کردیا؟؟

104 views

برطانوی حکومت نے ہائی رسک ممالک میں پاکستان کو شامل کرتے ہوئے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں پاکستان کے مالیاتی اداروں اور افراد کے ساتھ معاملات طے کرنے میں محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔

راوا اسپیشل

برطانیہ نے ہائی رسک ممالک پر اپنی نگرانی میں اضافہ کردیا ہے اور ان ممالک سے فہرست سے نکلنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی حکومتی کے مطابق، پاکستان کو دہشت گردوں کے مالی اعانت کاروں کو سزا دینا ہوگی، موثر کارروائی کرنا ہوگی اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ برطانیہ نے ممکنہ آپریشن سے متاثرہ افراد یا اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں تاہم پاکستان نے مشتبہ افراد اور اداروں کےخلاف ایکشن لینےکا یقین دلایا ہے۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پر پورا اترنے کے لئے بڑی پیشرفت کی ہے۔ تاہم منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مدد اور فروغ دینے کے خلاف مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

12 اپریل کو، برطانوی حکومت نے پاکستان کو 21 ہائی رسک والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی حمایت جیسے مسائل کے حامل ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ہائی رسک والے ممالک کی فہرست میں پاکستان 15 ویں نمبر پر ہے، شام، یوگنڈا، یمن اور زمبابوے بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

برطانوی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق دسمبر 2020 میں، پاکستان اور برطانیہ کے مابین ناجائز رقوم کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ برطانوی حکومت کے مطابق، ٹیکس کنٹرول کی عدم دستیابی، دہشت گردوں کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کے مسائل ملک کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔

ہائی رسک ممالک کے تعین کی نئی تعریف کے بعد برطانیہ میں ‘منی لانڈرنگ اینڈ ٹیررسٹ فنانسنگ ریگولیشن 2021’ مارچ میں نافذ ہوا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے لئے ہائی رسک والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کو شامل کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو 21 ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل کیے جانے پر ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ دو برس میں انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی کاؤنٹر فنانسنگ کےحوالے سے مثالی قوانین، ادارہ جاتی و انتظامی اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو بھی آگاہ کیا کیا ہے، ان مثالی اقدامات سے یورپی یونین آگاہ کیا گیا، بین الاقوامی برادی نے ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 میں سے 24 ایکشن نکات پر عملدرآمد کر چکا ہے، ان ممکنہ جلد مکمل ہونے والے قابل ایکشن نکات پر عملدرآمد پاکستان کے انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد ٹیرر فنانسنگ کے عزم کی عکاسی ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ برطانیہ زمینی حقائق کی روشنی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا اور سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے اقدامات سے دور رہے گا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *